روح اللہ مہدی کا نیشنل کانفرنس سے تعلق ختم کرنے اور رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان
سری نگر، (یو این آئی) سری نگر کے رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے منگل کو نیشنل کانفرنس (این سی) سے اپنا تعلق ختم کرنے اور رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ساتھ ان کی تقریباً 24 سالہ وابستگی ختم ہو گئی۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر سخت تنقید بھی کی۔انہوں نے یہ اعلان بڈگام میں منعقدہ ایک بڑے جلسے میں کیا۔ یہ جلسہ ان کے والد کی 26 ویں برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا، جو ماگام میں ایک دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے تھے۔49 سالہ روح اللہ نے اپنے جوشیلی تقریر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت پر جموں و کشمیر کے عوام کے دیے گئے مینڈیٹ سے غداری کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اپنے انتخابی وعدے پورے نہیں کیے، خاص طور پر دفعہ 370 کی بحالی اور عوام کے حقوق و وقار کے تحفظ کے معاملے میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ جس کرسی پر وہ بیٹھے ہیں، اس کا اختیار لازمی طور پر عزت کا باعث نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا عمر عبداللہ کو یہاں آکر دیکھنا چاہیے کہ عزت اور محبت کیا ہوتی ہے۔ کرسی کے پاس اختیار تو ہو سکتا ہے، لیکن عزت نہیں۔انہوں نے کہا، پارٹی اب ایک بدبودار نالے میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جموں و کشمیر کے عوام کی عزت اور وقار کا سودا کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے مجھ سے 2024 کے پارلیمانی انتخابات لڑنے کی منت سماجت کی تھی۔ میں نے ہر بات ریکارڈ کر رکھی ہے اور سب کو بے نقاب کروں گا۔ انہوں نے دفعہ 370 کے معاملے پر عمر عبداللہ کے موقف پر بھی سوال اٹھایا اور الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد انہوں نے اپنا موقف بدل لیا۔نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ وہ راجوری اور پونچھ سمیت دور دراز علاقوں کا دورہ کریں گے اور وہاں نوجوانوں اور تجربہ کار لوگوں کی شناخت کرکے انہیں ایک ساتھ لانے کی کوشش کریں گے۔ان کی علیحدگی نیشنل کانفرنس کے اندر ایک بڑی سیاسی دراڑ کی علامت ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی قیادت اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری عوامی اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔
