قومی خبریں

 62 فیصد بھارتی شہریوں نے اسرائیل کو بھارت کا ایک اچھا دوست قرار دیا

نئی دہلی۔ ایم این این۔’انڈیا اسرائیل سینٹر‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک نئے ’تاثراتی جائزے‘کے مطابق، بھارت کے سب سے زیادہ آبادی والے خطے کے نوجوانوں کی نظر میں، روس کے بعد اسرائیل بھارت کا دوسرا قریبی ترین ساتھی بن کر ابھرا ہے۔ اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ — جو بھارت کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی کا مسکن ہیں — میں 21 سے 40 سال کی عمر کے افراد پر کیے گئے اس سروے میں، دوستی اور مشکل وقت میں بھارت کا ساتھ دینے کے معاملے میں اسرائیل کو امریکہ، جاپان اور فرانس سے آگے رکھا گیا ہے۔ بھارت کی مدد کرنے والے ملک کے طور پر بھی، روس کے بعد اسرائیل کا دوسرا نمبر ہے۔اکتوبر 2026 کا یہ مطالعہ، جو اس سال نوجوانوں کے تاثرات پر مبنی سینٹر کا تیسرا سروے ہے، 1,023 افراد کی آراء پر مشتمل ہے (جن میں سے کچھ نے آن لائن اور کچھ نے بالمشافہ حصہ لیا)۔ 62 فیصد افراد نے اسرائیل کو بھارت کا ایک اچھا دوست قرار دیا، جبکہ 57 فیصد کا کہنا تھا کہ اسرائیل مشکل وقت میں بھارت کے ساتھ کھڑا رہتا ہے؛ ان دونوں پیمانوں پر صرف روس ہی اسرائیل سے آگے ہے۔ 42 فیصد افراد نے اسرائیل کو ایک ایسا ملک قرار دیا جو بھارت کی مدد کرتا ہے، اور اس معاملے میں اسرائیل امریکہ اور جاپان سے بھی آگے ہے۔ اعتماد کے حوالے سے اسرائیل کی شرح 57 فیصد رہی، جو فرانس، متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور امریکہ سے زیادہ ہے۔سروے میں شامل 61 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ بھارت کو اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون سے فائدہ پہنچتا ہے؛ اس معاملے میں صرف روس ہی اسرائیل سے بہتر پوزیشن پر ہے۔ مئی سے اکتوبر کے دوران، نوجوان بھارتیوں کی نظر میں اسرائیل کے حوالے سے ’دفاعی تعلقات‘ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اور ہر سروے میں اس حوالے سے مثبت رائے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مئی میں، 48 فیصد افراد نے اسرائیل کو دفاعی شعبے سے جوڑا۔ ستمبر میں، 52 فیصد افراد نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات کو ’مضبوط‘ قرار دیا، اور اکتوبر تک، ہندی بولنے والے خطےکے 61 فیصد افراد کا یہ ماننا تھا کہ بھارت کو اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون سے فائدہ ہو رہا ہے۔ اسی عرصے کے دوران اسرائیل کی ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی لوگوں کی رائے میں بہتری آئی ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق، اس شراکت داری کے بارے میں ’علم ہونا‘ سب سے بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ جن افراد کو اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعاون کے بارے میں معلوم ہے، ان میں سے 75 فیصد اسرائیل پر اعتماد کرتے ہیں اور 83 فیصد دفاعی و تکنیکی تعلقات سے واضح فائدہ دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ اس تعاون سے بے خبر ہیں، ان میں اعتماد کی شرح کم ہو کر 43 فیصد رہ جاتی ہے۔ گورکھپور اور وارانسی میں، جہاں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا تعلق زراعت اور روزگار سے جڑا ہے، وہاں اعتماد کی شرح بالترتیب 91 فیصد اور 88 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔بھارت اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کے لیے عوامی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اب نصف جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات مزید مضبوط ہوں— جبکہ مئی میں کیے گئے ایک سروے میں یہ شرح 41 فیصد تھی— دوسری جانب، تعلقات کو کم کرنے کے خواہشمند افراد کی تعداد 20 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد رہ گئی ہے۔ چار میں سے تین سے زائد افراد تعلقات کو مزید گہرا کرنے یا انہیں برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ 21 سے 25 سال کی عمر کے ان افراد میں سے، جن سے بالمشافہ (روبرو( رائے لی گئی، ہر پانچ میں سے ایک نے اسرائیل کو بھارت کا بہترین دوست قرار دیا۔