قومی خبریں

آدھار کی جگہ ووٹر آئی ڈی سے فلاحی اسکیموں سے محروم افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے: جے رام رمیش

نئی دہلی، (یواین آئی) کانگریس نے سرکاری فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کی شناخت کے لیے آدھار کارڈ کی جگہ ووٹر شناختی کارڈ (ووٹر آئی ڈی) کو بنیادی دستاویز بنانے سے متعلق مرکزی وزیر پنچایتی راج کے میڈیا میں سامنے آنے والے بیانات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سماجی بہبود اور تحفظ کی اسکیموں سے محروم ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ مرکزی وزیر پنچایتی راج راجیو رنجن سنگھ گزشتہ چند دنوں میں دو مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ سرکاری اسکیموں کے مستفیدین کی شناخت کے لیے آدھار کی جگہ ووٹر آئی ڈی استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ اب مودی حکومت کی سرکاری پالیسی ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ کیا اب آدھار کا استعمال اس بنیادی مقصد کے لیے نہیں کیا جائے گا جس کے لیے اسے شروع کیا گیا تھا۔مسٹر رمیش نے کہا کہ آدھار کے استعمال کی وجہ سے پہلے ہی لاکھوں افراد سماجی بہبود اور تحفظ کی اسکیموں کے فوائد سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب ووٹر کارڈ کو مستفیدین کی شناخت کی بنیاد بنانے سے بڑی تعداد میں مزید لوگ ان اسکیموں کے فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں۔ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ووٹ چوری تو صرف ٹریلر ہے، پوری تصویر حقوق و اختیارات کی چوری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ (للّن سنگھ) کا وہ بیان ذرائع ابلاغ میں کافی نشر ہوا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سرکاری اسکیموں کی رقم حاصل کرنے کے لیے مستفیدین کو جلد ہی آدھار کی جگہ ووٹر آئی ڈی نمبر اور فنگر پرنٹ یا کسی دوسرے بایومیٹرک شناختی طریقے کا استعمال کرنا ہوگا۔