تحریکوں سے خوف یا جمہوریت سے انحراف؟
احتجاج کی آواز کو غیر ملکی سازش قرار دینے کا نیا سیاسی بیانیہ
کسی بھی جمہوری ملک میں عوامی تحریکیں حکومت کے لیے ایک امتحان ہوتی ہیں۔ ان تحریکوں سے حکومت کی مقبولیت، پالیسیوں کی کامیابی اور عوامی اعتماد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی حکومت عوامی سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانے والوں ہی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ محض احتجاج کا نہیں، حکومت کے طرزِ حکمرانی کا بھی ہے۔2کسی بھی جمہوری ملک میں عوامی تحریکیں حکومت کے لیے ایک امتحان ہوتی ہیں۔ ان تحریکوں سے حکومت کی مقبولیت، پالیسیوں کی کامیابی اور عوامی اعتماد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی حکومت عوامی سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانے والوں ہی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ محض احتجاج کا نہیں، حکومت کے طرزِ حکمرانی کا بھی ہے۔
ملک میں اس وقت تحریکوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس کے پہلے مرحلے میں حکومت کو واضح طور پر دفاعی پوزیشن اختیار کرنی پڑی ہے۔ شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ مختلف طبقات کی ناراضگی اس شدت کے ساتھ سڑکوں پر نمودار ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ کوئی پیشگی حکمت عملی تھی اور نہ ہی ایسا مؤثر انتظامی منصوبہ جس کے ذریعے ان آوازوں کو ابتدائی مرحلے ہی میں خاموش کیا جاسکتا۔ اس دوران احتجاج کو روکنے کے لیے جو انتظامی اقدامات کیے گئے، ان میں سے کئی نے خود انتظامیہ اور حکومت کو سوالات کے گھیرے میں لاکھڑا کیا۔
لیکن اب صورت حال کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیانات میں جو یکسانیت نظر آرہی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی بیانیے کی تشکیل کا اشارہ ہے۔ اس بیانیے کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک میں اٹھنے والی تحریکیں دراصل بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں چلائی جارہی ہیں اور اپوزیشن کا مقصد بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے ساتھ ہندو سماج اور ہندوتوا کے سیاسی ایجنڈے کو کمزور کرنا ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ان تحریکوں کے پیچھے کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان تحریکوں کو جنم دینے والے حالات کیوں پیدا ہوئے؟ حکومت اس سوال کا جواب دینے سے بچتی رہی تو ممکن ہے کہ آج کی تحریکیں کل ایک بڑے عوامی اضطراب میں تبدیل ہوجائیں۔ملک کی سیاست میں پہلی بار اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نہایت پر اعتماد انداز میں وزیر اعظم کو یہ چیلنج دیا ہے کہ وہ جب چاہیں اپنی پسندیدہ جگہ پر اور اپنا ثالث طئے کر کے ان سے ڈیبیٹ کر لیں جسے ملک کی عوام براہ راست دیکھے اور فیصلہ کرے کہ کون بجانب ہے ۔حالانکہ براہ راست سرکار کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا ہے ،صرف ایک امت شاہ کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب تو ہمارا ایک تامل ناڈو کا ریاستی صدر ہی دے سکتا ہے ۔حالانکہ امت شاہ کے اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کی جا سکتی لیکن اگر یہ وائرل ویڈیو حقیقی بھی ہو تو بھی یہ سوال تو اٹھتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے سامنے خود وزیر اعظم کو آنے سے پرہیز کیوں ہے ؟
بی جے پی ابھی بھی اس خوش فہمی میں جی رہی ہے کہ اس نے ان تیرہ سالوں میں جو کچھ کیا اس سے ملک کی عوام پوری طرح مطمئین ہے ۔اور وہ اب بھی راہل گاندھی کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں ۔
ان کی بوکھلاہٹ ہی کا نتیجہ ہے کہ الیکشن کمشنر پر اٹھنے والے سوالات کو پارٹی اپنے اوپر سوال سمجھ کر اس کی دفاع کر رہی ہے ۔اور یہی وہ وجہ ہے جس نے سرکار کو پورے ملک میں ایکسپوز کر دیا ہے کہ جب الیکشن کمیشن کا ہر قدم آئینی ہے تو پھر سرکار اس کا دفاع کیوں کر رہی ہے ؟اور وہ یہ بات کیوں نہیں کہتی کہ الیکشن کمیشن سے غیر آئینی اقدام کا مواخذہ سپریم کورٹ کرے ۔کٹھ ہجتی سے صرف مخالفت کو ٹی وی ڈیبیٹ میں لاجواب کیا جاتا ہے ۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج بی جے پی کے تمام لیڈران نے اس پورے ملک کو ٹی وی روم سمجھ لیا ہے جو نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ نظام ملک کے بھی خلاف ہے ۔
جمہوریت میں حکومت کو بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ اپوزیشن کو ملک دشمن ثابت کرنا نہیں بلکہ اپنے طرزِ حکمرانی کو عوام کے اعتماد کے قابل بنانا ہے۔ اقتدار کسی نظریے کی جاگیر نہیں اور ملک کسی حکومت کی ملکیت نہیں ہوتا۔ ہندوستان کسی ایک جماعت، تنظیم یا مذہبی سیاسی تصور کا نام نہیں، یہ کروڑوں شہریوں کا مشترکہ وطن ہے۔ اس وطن سے وفاداری کا ثبوت حکومت کی حمایت سے نہیں بلکہ اس کے آئین، اس کے جمہوری اصولوں اور اس کے شہریوں کے حقوق کے احترام سے ملتا ہے۔