قومی خبریں

اتراکھنڈ میں سرکاری زمینوں کی بندربانٹ:کارروائی نہ ہونے پر قانونی راستہ اپنائیں گے:کماری شیلجا

نئی دہلی،  (یواین آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ اتراکھنڈ میں سرکاری زمینیں اونے پونے داموں نجی ہاتھوں کے حوالے کرکے بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ اس معاملے میں گورنر کو ایک میمورنڈم دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر کارروائی نہیں ہوئی تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔کانگریس کی سینئر رہنما اور اتراکھنڈ کی انچارج کماری شیلجا نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے اتراکھنڈ میں تقریباً 40 مقامات پر سرکاری زمینیں، ورثہ کی جائیدادیں اور مختلف منصوبوں سے متعلق زمینیں بازار کی قیمت سے بہت کم نرخوں پر نجی افراد کے حوالے کی گئی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے زمینوں سے متعلق تمام اختیارات اپنے ہاتھوں میں مرکوز کر لیے ہیں اور سفارشاتی کمیٹی میں بھی وہ واحد رکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ رشی کیش میں آئی ڈی پی ایل کی 633 ایکڑ زمین، مسوری کی 142 ایکڑ زمین اور دھانولٹی، نینی تال اور رام گڑھ میں جنگلاتی زمین سے متعلق معاملات بھی سنگین ہیں۔ اسی طرح ڈاک پتھر میں 190 ایکڑ اور رانی باغ میں 53 ایکڑ زمین کے معاملات بھی شامل ہیں۔ ان زمینوں کو کس بنیاد پر اور کس کے حوالے کیا جا رہا ہے، اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ زمین نجی ہاتھوں میں چلی گئی تو اسے واپس لینا مشکل ہو جائے گا۔کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ دھامی حکومت لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے اور انہیں دھوکہ دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پر اپنی تشہیر کے لیے 11 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ترقیاتی کام ہوئے ہوتے تو اتنی رقم تشہیر پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ریاست کی موجودہ صورتحال بھی ایسی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ آج ریاست کے مختلف مقامات پر کانگریس کے رہنما اور عام لوگ زمینوں کی مبینہ بندربانٹ اور بدعنوانی کے خلاف دھرنے اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے ان معاملات میں حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت حقائق اور دستاویزات جمع کیے ہیں اور انہی شواہد کی بنیاد پر گورنر کو میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔ اگر اس کے بعد بھی کارروائی نہیں ہوئی تو پارٹی قانونی متبادل اختیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حکومت بننے پر ان تمام معاملات کا پردہ فاش کیا جائے گا اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔کانگریس جنرل سیکریٹری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے دو دستخطوں سے مختلف محکموں کی 1,080 ایکڑ زمین اتراکھنڈ سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی بورڈ (یو آئی آئی ڈی بی) کے حوالے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین کس سے لینی ہے اور کس کو دینی ہے، ان دونوں معاملات کا فیصلہ خود مسٹر دھامی ہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اب نجی ہاتھوں کو زمین دینے کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں، جن میں پٹوا ڈانگر کی 14 ایکڑ زمین اور الکنندا ہوٹل بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت لینڈ بینک کے ذریعے عوام کے لیے کام نہیں کرنا چاہتی بلکہ زمینوں کو بازار کی قیمت کے بجائے اونے پونے داموں نجی افراد کے حوالے کر رہی ہے۔