ڈاکٹر قاسم فریدی کی ادبی خدمات قابل فخر اور نئی نسل کے لیے مشعل راہ : ’’ادبی افکار و اظہار‘‘کی رسم اجراء تقریب کا انعقاد
پٹنہ: معروف ناقد و ادیب ڈاکٹر قاسم فریدی کی چھٹی اور نئی کتاب ’’ادبی افکار و اظہار‘‘ کا اجراء یکم نومبر اتوار کو اردو لائبریری اورنگ آباد کے ہال میں ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ کے سابق صدر شعبۂ اردو اور خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں پروفیسر سید شاہ حسین احمد کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اردو لائبریری اورنگ آباد کے زیر اہتمام منعقد جشنِ اجرا تقریب کی صدارت مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ کے سابق پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم نے کی جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر اثر فریدی نے انتہائی خوبصورتی سے انجام دیے۔ محمد ذوالقرنین کے تلاوت قرآن سے جشن اجراء تقریب کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر ارمان حسن نے نعت پاکؐ کا نذرانہ پیش کیا۔سچیدانند سنہا کالج اورنگ آباد کے پرنسپل پروفیسر سدھیر کمار مشرا نے شمع روشن کرکے جشن اجراء کا باضابطہ افتتاح کیا۔ڈاکٹر قاسم فریدی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں تمام مہمانوں اور شرکاء کا والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی چھٹی اور نئی تصنیف ’’ادبی افکار و اظہار‘‘ کے حوالے سے اہم باتوں کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے کی طویل مدت میں انہوں نے تین کتابیں تصنیف دی تھیں لیکن 2023ء میں سچیدانند سنہا کالج سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے اپنے فارغ اوقات کا صحیح و مناسب استعمال کرتے ہوئے اپنے گھر کے ایک کنارے میں یکسوئی اختیار کرکے روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے تک مختلف ادبی تصانیف اور مضامین کا گہرائی سے مطالعہ شروع کر دیا۔ روزانہ کے اس معمول کے نتیجے میں انہوں نے چار سال کی مدت میں مزید تین کتابیں تصنیف دیں، جس پر انہیں بہت حد تک اطمینان حاصل ہے کہ انہوں نے سبکدوشی کے بعد اپنے وقت کا استعمال اردو ادب کی خدمت کے لیے کیا۔ اردو ادب کی خدمت کو وہ اپنے لیے باعث فخر واطمنان سمجھتے ہیں۔جشن اجراء تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ونوبا بھاوے یونیورسٹی ہزاری باغ کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر زین رامش، مہمان اعزازی کی حیثیت سے شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے سینئر استاذ پروفیسر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے اردو زبان سیل،اورنگ آباد کے انچارج اور ڈپٹی الیکشن آفیسر محمد غزالی ،معروف ماہر تعلیم اور صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر عطا اللہ خاں علوی اور سرگرم صحافی عتیق الرحمٰن شعبان شریک ہوئے۔ شکریہ کی تجویز اردو لائبریری اورنگ آباد کے صدر شبیر حسن شبیر نے پیش کی۔ ڈاکٹر قاسم فریدی کی کتاب ’’ادبی افکار و اظہار‘‘ کے جشن اجراء کے بعد شام میں نماز مغرب کے بعد سے دیر رات تک مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت معروف شاعر الحاج شبیر حسن شبیر نے کی جبکہ نظامت کے فرائض آفتاب رانا نے انجام دیے۔مشاعرہ میں اثر فریدی، تنویر اختر، گلفام صدیقی، اقبال اختر دل، اے ڈی ایم سعد الحسن خاں،اردو زبان سیل اورنگ آباد کے انچارج اور ڈپٹی الیکشن آفیسر محمد غزالی، یوسف جمیل یوسف، عمران راقم، شبلی فردوسی،دھننجے جئے پوری، ناگیندر کیشری دوبے اور ہمانشو چکرپانی سمیت کئی دیگر اہم شعراء نے اپنے خوبصورت کلام پیش کیے جس سے شہر اورنگ آباد کے شائقین ادب دیر رات تک محظوظ ہوتے رہے اور شعرائے کرام کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ سید انظر اللہ نے شکریہ کی تجویز پیش کی ۔تقریب میں ابوالاعلیٰ، پروفیسر شیو پوجن سنگھ، پروفیسر سنجیو رنجن سنگھ، پروفیسر سدھیشور پرساد، مولانا اظہار احمد،سید محمد دائم، ظہیر احسن آزاد، قاری سید شاہد انور،مولانا اختر حسین اختر اور شہر کے کئی سرکردہ اور معززافراد بھی موجود تھے۔اردو لائبریری کا پورا ہال بھرا ہواتھا۔جشن اجراء تقریب میں اپنا پُرمغز صدارتی خطبہ دیتے ہوئے مولانا مظہر الحق وعربی فارسی یونیورسٹی ،پٹنہ کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر توقیر عالم نے ڈاکٹر قاسم فریدی کو چھٹی کتاب ’’افکار و اظہار‘‘ تصنیف دینے کے لیے مبارک باد پیش کی اور انہیں اردو ادب کا ایک بے لوث خادم قرار دیا۔پروفیسر توقیر عالم نے کہا کہ اردو لائبریری اورنگ آباد میں اپنی کتاب کی رسم اجراء تقریب کا انعقاد کرکے ڈاکٹر قاسم فریدی نے اپنے مادرِ وطن سے بے پناہ محبت اور خلوص و جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے اپنے شہر اور ضلع کو فوقیت دیتے ہوئے یہاں تقریب کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا ہے جو بہت نیک فعال ہے اور اس سے یقینی طور اورنگ آباد میں اردو ادب کے فروغ کا ماحول بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1944ء میں قائم ہوئی یہ لائبریری اب تک علم کا شمع روشن کیے ہوئے یہ بہت ہی خوش آئند ہے۔ بلاشبہ لائبریری کو برقرار رکھنے میں ڈاکٹر قاسم فریدی اور شبیر حسن شبیربہت طویل عرصے سے اپنی بے لوث اور نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں جو اردو کی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لائبریری سے علم کی روشنی پھیلتی ہے، اس لئے اس کا فروغ آج بھی ضروری ہے مگر ای لائبریری فزیکل لائبریری کا متبادل ہرگز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کلاس روم ٹیچنگ سے بہتر کچھ بھی نہیں ۔ آن لائن کلاس تو کورونا کے دور کا ایک قہر ہے۔ اس کے فائدے بہت کم ہیں اور نقصان بہت زیادہ۔ پروفیسر توقیر عالم نے اپنے صدارتی خطاب میں سچیدانند سنہا کالج کے پرنسپل پروفیسر سدھیر کمار مشرا کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ پرو وائس چانسلر کے عہدے تک کے سفر میں انہوں نے سینکڑوں پرنسپلوں کو ریاست بھر میں دیکھا ہے مگر سدھیر کمار مشرا چند پرنسپلوں میں سے ہیں جن میں پرنسپل ہونے کی تمام خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے پرنسپل سدھیر مشرا کو مشورہ دیا کہ اپنے کالج میں ہندی اور اردو کے مشترکہ فروغ کے لیے ایک بڑا سمینار منعقد کیجئے اور کالج میں اپنی پوری زندگی وقف کر چکے ڈاکٹر قاسم فریدی کو اعزاز بھی بخشیے۔انہوں نے کہا کہ خود کو یاد رکھوانے کے لیے اپنے بزرگوں کو یاد ضرور کیجئے تاکہ نئی نسل کو سیکھنے کا موقع ملے۔پروفیسر ڈاکٹر سید شاہ حسین احمد نے جشن اجراء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو خانقاہوں میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی مگر جب جوان ہوگئی تو بادشاہوں کے دربار میں چلی گئی۔ اس سے اردو کو نقصان پہنچا اور اس کا فروغ محدود ہوکر رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوفیوں نے کبھی تبلیغ اسلام اور کبھی ادب کے فروغ کے لیے اردو کا استعمال کیا۔
ڈاکٹر قاسم فریدی کی ادبی خدمات قابل فخر اور نئی نسل کے لیے مشعل راہ :ادبی افکار و اظہار‘‘کی رسم اجراء تقریب کا انعقاد
