مولانا کلیم صدیقی تبدیلی مذہب معاملہ: جمعیۃ علماء سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی
ممبئی (یو این آئی) جبراً تبدیل مذہب کے الزام میں نچلی عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے مشہور عالم دین مولانا کلیم صدیقی سمیت دیگر ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پرگذشتہ کل لکھنئو بینچ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ صادر کردیا اور مولانا کلیم صدیقی، کوثر عالم، محمد عمر گوتم، پرساد رامیشور کروے عرف آدم، ڈاکٹر فراض عبداللہ، مفتی قاضی جہانگیر ، عرفان شیخ اور صلاح الدین زین الدین شیخ کی ضمانت عرضداشتیں نا منظور کردی جبکہ عدالت نے ملزمین کنال اشوک چودھری عرف عاطف،منو یادو، راہول بھولا، بھوپریا بندو عرف ارسلام مصطفی، کوثر عالم، دھیرج گوند رائو جگتاپ، عبداللہ عمر، سرفراز علی جعفری و دیگر ضمانتیں منظور کردی ہے۔
اس مقدمہ کا سامنا کررہے دو ملزمین مفتی قاضی جہانگیر اور عرفان شیخ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ لکھنئو ہائی کورٹ کا فیصلہ چونکادینے والا ہے کیونکہ ایک جانب جہاں ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس منوہر نارائن مشراء نے عمر قید کی سزا پانے والے چند ملزمین کی ضمانتیں منظور کی وہیں دوسری جانب عمر قید کی ہی سزا پانے والے مولانا کلیم صدیقی و دیگر ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں نا منظور کردی جبکہ ٹرائل کورٹ نے ملزمین کو یکساں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ اس مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کی رہائی ملزم عرفان شیخ کے ضمانت پر رہائی کے اس فیصلے سے ہوئی تھی جسے سپریم کورٹ آف انڈیا نے سب سے پہلے منظور کیا تھا۔عرفان شیخ کے فیصلے کو نظیر بنا کر لکھنئو ہائی کورٹ نے مولانا کلیم صدیقی و دیگر ملزمین کی ضمانتیں منظور کی تھیں۔عرفان شیخ کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃعلماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے کی تھی اور سپریم کورٹ آف انڈیا میں سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے کامیاب پیروی کی تھی۔انہوں نے کہا کہ لکھنئو ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تعلق سے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم قانونی صلاح و مشورہ کررہے ہیں اور دیوالی کی تعطیلات کے بعد دہلی میں ایک خصوصی میٹنگ کا انعقاد بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو پی تبدیلی مذہب مقدمہ انتہائی بوگس مقدمہ میں ہے، اس مقدمہ میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے والوں کو بھی ملزم بنایا گیا اور انہیں ٹرائل کورٹ سے سزائیں دلائی گئی ۔ اسلام قبول کرنے والے ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں ہائی کورٹ نے منظور کرلی ہے لہذا دیگر ملزمین(مفتی قاضی جہانگیر اور عرفان شیخ) کی بھی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ آف انڈیا سے کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یو پی میں تبدیلی مذہب قانون بننے کے بعد جتنے بھی مقدمہ میں درج ہوئے تھے ان میں سے کوئی بھی مقدمہ ریاستی حکومت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف انڈیا میں جیت نہیں پائی ہے لیکن فرسودہ عدالتی نظام ملزمین کو وقت پر انصاف دلانے میں ناکامیاب ثابت ہوا ہے لہذ سپریم کورٹ سے ایک جانب جہان ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی کوشش کی جائے گی وہیں عمر قید کی سزائوں کے خلاف داخل اپیلوں پر لکھنئو ہائی کورٹ میں جلد سماعت کے تعلق سے سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے لائحہ عمل تیارکیاجائے گا۔
