قومی خبریں

پنجاب میں 2027 کا انتخابی دنگل: عام آدمی پارٹی کا زوال، کانگریس کی واپسی، بی جے پی بھی مضبوط دعوے دار !

نئی دہلی :پنجاب کی سیاست میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ایک چونکا دینے والی تصویر سامنے آئی ہے۔ روزنامہ دینک بھاسکر کے تازہ سروے نے ریاست کی سیاسی بساط پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو نہ حکمراں عام آدمی پارٹی کو اکثریت ملے گی، نہ کانگریس کو اور نہ ہی بی جے پی کو۔ تینوں جماعتیں اقتدار کی دوڑ میں تقریباً ایک دوسرے کے برابر کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ دینک بھاسکر کے سروے کے مطابق عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو 34، 34 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ بی جے پی 30 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر دکھائی دے رہی ہے۔ شرومنی اکالی دل کو دو اور امرت پال سنگھ کی جماعت وارث پنجاب دے کو ایک نشست ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی 117 نشستوں میں اکثریت کے لیے 59 نشستیں ضروری ہیں۔ اس طرح سروے کے نتائج درست ثابت ہوئے تو ریاست میں معلق اسمبلی وجود میں آ سکتی ہے۔
اس سروے کا سب سے اہم پہلو عام آدمی پارٹی کی مبینہ گرتی ہوئی مقبولیت ہے۔ 2022 کے انتخابات میں بھگونت مان کی قیادت میں پارٹی نے 92 نشستیں جیت کر پنجاب کی سیاست میں تاریخ رقم کی تھی، لیکن اب سروے اسے محض 34 نشستوں تک محدود دکھا رہا ہے۔ یہ محض انتخابی نقصان کا امکان نہیں بلکہ اس سیاسی امید پر اٹھنے والا سوال بھی ہے جس کے سہارے عوام نے روایتی جماعتوں کو مسترد کرکے عام آدمی پارٹی کو اقتدار سونپا تھا۔
بے روزگاری، منشیات، امن و امان، ترقیاتی وعدوں اور حکومت کی کارکردگی پر عوامی ناراضی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو بھگونت مان حکومت کو 2027 میں سخت سیاسی امتحان سے گزرنا پڑے گا۔ سروے کا دوسرا حیران کن پہلو بی جے پی کی پیش قدمی ہے۔ 2022 میں صرف دو نشستیں جیتنے والی بی جے پی کو اب 30 نشستوں پر برتری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں کسان تحریک اور زرعی قوانین کے تنازع کے بعد بی جے پی کے لیے یہ ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت کا اشارہ ہے۔ کانگریس بھی 18 سے بڑھ کر 34 نشستوں تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی ووٹر دوبارہ کانگریس کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں، اگرچہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کے مسائل اب بھی اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دوسری طرف کبھی پنجاب کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی شرومنی اکالی دل کا محض دو نشستوں پر سمٹنا اس کے لیے ایک بڑا سیاسی انتباہ ہے۔ دینک بھاسکر کا سروے اگر انتخابی نتائج میں تبدیل ہوتا ہے تو پنجاب میں حکومت سازی کے لیے اتحاد اور چھوٹی جماعتوں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کی پیش قدمی، کانگریس کی واپسی اور عام آدمی پارٹی کی کمزور ہوتی پوزیشن ریاست کی سیاست کو سہ رخی مقابلے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ البتہ یہ واضح رہنا چاہیے کہ سروے حتمی انتخابی نتیجہ نہیں ہوتا۔ دینک بھاسکر کی رپورٹ میں 117 حلقوں کا احاطہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن 102 حلقوں کے رجحانات ہی جاری کیے گئے ہیں۔ دستیاب تفصیلات میں مجموعی نمونے اور غلطی کے ممکنہ تناسب کی مکمل وضاحت بھی موجود نہیں ہے۔اس کے باوجود یہ سروے ایک بنیادی سیاسی سوال ضرور کھڑا کرتا ہے: کیا پنجاب کے عوام 2022 میں جس تبدیلی کی امید لے کر عام آدمی پارٹی کو اقتدار میں لائے تھے، اب اس سے مایوس ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس مایوسی کا فائدہ صرف کانگریس کو نہیں بلکہ بی جے پی کو بھی مل سکتا ہے۔
2027 کا پنجاب انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ ریاست کے عوام تبدیلی کی سیاست پر دوبارہ اعتماد کرتے ہیں یا روایتی سیاسی قوتوں کی طرف لوٹتے ہیں۔