آندھرا پردیش کے ساحل پر تباہ کن سمندری طوفان کا خطرہ، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل -این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات
نئی دہلی/امراوتی:ملک کے مشرقی ساحلی علاقوں پر ایک بار پھر قدرتی آفت کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ خلیج بنگال میں شدت اختیار کرنے والا شدید سمندری طوفان ’مراسو‘ (Murasu) آندھرا پردیش کے ساحل کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان 2 نومبر کی نصف شب سے 3 نومبر کی علی الصباح کے درمیان نیلور اور نرساپور کے ساحلی علاقوں کے درمیان، اونگول کے قریب، ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس دوران ہوا کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور بعض مقامات پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
طوفان کے خطرے کے پیش نظر آندھرا پردیش اور اڈیشہ کی حکومتوں نے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ساحلی اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان پیر کی صبح تک مغربی وسطی خلیج بنگال میں موجود تھا اور تقریباً 14 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی سمت بڑھ رہا تھا۔ اس کا مرکز آندھرا پردیش کے نیلور سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے دوران شدید بارش، تیز ہواؤں، سمندری لہروں میں اضافے اور نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے خاص طور پر نیلور، پرکاسم، باپٹلا، مارکاپورم اور کرشنا اضلاع میں انتظامیہ کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
آندھرا پردیش کے نائب وزیراعلیٰ پون کلیان نے متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کیا اور ہدایت دی کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات پہلے سے مکمل کر لیے جائیں۔
انہوں نے نیلور، پرکاسم، مارکاپورم، باپٹلا اور کرشنا اضلاع کے افسران کو نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے اور امدادی ٹیموں کو فعال رکھنے کی ہدایت دی۔
ریاست میں این ڈی آر ایف کی چھ اور ایس ڈی آر ایف کی سات ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کو نہروں، ندیوں اور آبی ذخائر کی سطح پر مسلسل نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اچانک سیلاب کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
اگرچہ طوفان کے آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے، لیکن اس کے اثرات اڑیسہ کے جنوبی اضلاع میں بھی محسوس کیے جانے کا خدشہ ہے۔
اڑیسہ کے وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سریش پجاری نے بتایا کہ گنجام، گجپتی، رائے گڑھ، کوراپٹ اور ملکانگیری اضلاع کو خصوصی طور پر الرٹ کیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کو نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی حفاظت اور ضرورت پڑنے پر فوری انخلا کی ہدایت دی گئی ہے۔
اڑیسہ حکومت نے این ڈی آر ایف، اڑیسہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس اور فائر سروس کے 300 سے زائد امدادی دستوں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا ہے۔
طوفان کے اثرات آندھرا پردیش کے علاوہ تمل ناڈو میں بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ چنئی کے متعدد علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ محکمہ موسمیات نے شہر کے لیے اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے بعض مقامات پر 11 سے 20 سینٹی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔شہر میں اسکولوں کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ خراب موسم کے سبب وجے واڑہ کے گنّاورم ہوائی اڈے سے انڈیگو کی دس پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ چنئی ہوائی اڈے پر بھی بعض پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ ایک ہفتے میں یہ دوسرا بڑا طوفان ہے ۔جس سے عوام بے حد خوف محسوس کر رہے ہیں
اس سمندری طوفان نے اس لیے بھی تشویش بڑھا دی ہے کہ آندھرا پردیش اور اڑیسہ کے بعض علاقے ابھی گزشتہ ہفتے آنے والے طوفان ’ارناب‘ کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ گزشتہ طوفان کے نتیجے میں آندھرا پردیش میں پانچ افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ اڑیسہ کے بعض علاقوں میں سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے تھے۔
ایسے میں ایک ہفتے کے اندر دوسرے شدید سمندری طوفان کی آمد نے انتظامیہ کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
حکومتوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، غیر ضروری طور پر ساحلی علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ماہرین کے مطابق طوفان کے اصل اثرات کا اندازہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ فی الحال سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، بروقت انخلا اور امدادی انتظامات کو مؤثر بنانا ہے۔
طوفان کے خطرے کے پیش نظر آندھرا پردیش اور اڈیشہ کی حکومتوں نے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ساحلی اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان پیر کی صبح تک مغربی وسطی خلیج بنگال میں موجود تھا اور تقریباً 14 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی سمت بڑھ رہا تھا۔ اس کا مرکز آندھرا پردیش کے نیلور سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے دوران شدید بارش، تیز ہواؤں، سمندری لہروں میں اضافے اور نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے خاص طور پر نیلور، پرکاسم، باپٹلا، مارکاپورم اور کرشنا اضلاع میں انتظامیہ کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔
آندھرا پردیش کے نائب وزیراعلیٰ پون کلیان نے متعلقہ محکموں کے افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کیا اور ہدایت دی کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات پہلے سے مکمل کر لیے جائیں۔
انہوں نے نیلور، پرکاسم، مارکاپورم، باپٹلا اور کرشنا اضلاع کے افسران کو نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے اور امدادی ٹیموں کو فعال رکھنے کی ہدایت دی۔
ریاست میں این ڈی آر ایف کی چھ اور ایس ڈی آر ایف کی سات ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کو نہروں، ندیوں اور آبی ذخائر کی سطح پر مسلسل نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اچانک سیلاب کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
اگرچہ طوفان کے آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے، لیکن اس کے اثرات اڑیسہ کے جنوبی اضلاع میں بھی محسوس کیے جانے کا خدشہ ہے۔
اڑیسہ کے وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سریش پجاری نے بتایا کہ گنجام، گجپتی، رائے گڑھ، کوراپٹ اور ملکانگیری اضلاع کو خصوصی طور پر الرٹ کیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کو نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی حفاظت اور ضرورت پڑنے پر فوری انخلا کی ہدایت دی گئی ہے۔
اڑیسہ حکومت نے این ڈی آر ایف، اڑیسہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس اور فائر سروس کے 300 سے زائد امدادی دستوں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا ہے۔
طوفان کے اثرات آندھرا پردیش کے علاوہ تمل ناڈو میں بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ چنئی کے متعدد علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث پانی جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ محکمہ موسمیات نے شہر کے لیے اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے بعض مقامات پر 11 سے 20 سینٹی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔شہر میں اسکولوں کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ خراب موسم کے سبب وجے واڑہ کے گنّاورم ہوائی اڈے سے انڈیگو کی دس پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ چنئی ہوائی اڈے پر بھی بعض پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ ایک ہفتے میں یہ دوسرا بڑا طوفان ہے ۔جس سے عوام بے حد خوف محسوس کر رہے ہیں
اس سمندری طوفان نے اس لیے بھی تشویش بڑھا دی ہے کہ آندھرا پردیش اور اڑیسہ کے بعض علاقے ابھی گزشتہ ہفتے آنے والے طوفان ’ارناب‘ کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ گزشتہ طوفان کے نتیجے میں آندھرا پردیش میں پانچ افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ اڑیسہ کے بعض علاقوں میں سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے تھے۔
ایسے میں ایک ہفتے کے اندر دوسرے شدید سمندری طوفان کی آمد نے انتظامیہ کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
حکومتوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، غیر ضروری طور پر ساحلی علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ماہرین کے مطابق طوفان کے اصل اثرات کا اندازہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ فی الحال سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، بروقت انخلا اور امدادی انتظامات کو مؤثر بنانا ہے۔
