تلنگانہ میں 7 سے 9 دسمبر تک عالمی کانفرنس – سیکڑوں صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی شرکت متوقع
حیدرآباد، (یو این آئی) تلنگانہ کابینہ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی صدارت میں جمعرات کو کئی اہم فیصلے کیے۔ ان میں ‘تلنگانہ عالمی کانفرنس میں سرمایہ کاری 2026’ کی تیاریاں، کالیشورم کے بیراجوں کی مرمت، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے معاملات کے لیے الگ الگ کمیشنوں کی تشکیل اور نئی فلاحی اسکیموں کا آغاز شامل ہے۔
سکریٹریٹ میں کابینہ کی 38ویں میٹنگ کے بعد میڈیا کو اطلاع دیتے ہوئے محصولات، مکانات اور اطلاعات و تعلقات عامہ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے بتایا کہ 7 سے 9 دسمبر تک ‘فورتھ سٹی’ میں عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں ملک اور بیرون ملک سے سیکڑوں صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تلنگانہ کو عالمی سطح پر ایک مسابقتی مقام کے طور پر قائم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے ہیں۔
کابینہ نے کالیشورم پروجیکٹ کے میڈی گڈہ، انارام اور سندریلا بیراجوں کی قومی ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) اور مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) کی سفارشات کے مطابق بحالی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے مقررہ جانچ مکمل کرلی ہے اور ساختی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تکنیکی رہنما ہدایات حاصل کرلی ہیں۔ بیراجوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لیے مرمت کا کام تیزی اور شفاف طریقے سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کابینہ نے موجودہ مشترکہ کمیشن کی جگہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے معاملات کے لیے الگ الگ کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس میں ‘ماں اندراما انٹلو دیپاولی’ پہل کا بھی جائزہ لیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ وزرا، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور دیگر عوامی نمائندے اپنے اپنے انتخابی حلقوں اور علاقوں میں ‘اندرا اما گھروں’ میں یہ تہوار منائیں گے۔ یہ پہل رہائشی پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت 2.25 لاکھ سے زیادہ مکانات کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد شروع کی گئی ہے۔
مسٹر ریڈی نے بتایا کہ اس کے علاوہ کابینہ نے سرکاری محصولات کی زمین مختلف محکموں کو ان کی دفتری ضروریات کے لیے سونپنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف سرکاری محکموں میں نئی اسامیوں کو بھی منظوری دی گئی ہے، جس سے بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
