جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت عام شہری کا ووٹ ہے، ایس آئی آر کے معاملے پر کانگریس پھیلا رہی ہے گمراہی: نائب سنگھ سینی
محمد زاہد امینی
نوح،میوات،سماج نیوز سروس: مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ کی قیادت میں کرنال میں منعقدہ ‘جمہوریت بچاؤ، انتشار ختم کرو’ پد یاترا کے دوران وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی، مرکزی وزیر منوہر لال اور بی جے پی کی ریاستی صدر ڈاکٹر ارچنا گپتا نے عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ تینوں رہنماؤں نے جمہوریت، آئین، ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر)، قومی اتحاد اور اپوزیشن کی سیاست سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہمارا آئین اور ایک عام شہری کا ووٹ ہے۔ کسی شخص کے پاس دولت، اثر و رسوخ یا بڑے خاندان کا نام ہو یا نہ ہو، پولنگ بوتھ پر اس کے ایک ووٹ کی اہمیت ملک کے ہر شہری کے ووٹ کے برابر ہوتی ہے۔ اس ایک ووٹ میں کسان کی محنت، مزدور کی امید،نوجوانوں کا مستقبل اور ماؤں بہنوں کی آرزوئیں وابستہ ہوتی ہیں۔
وزیراعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) الیکشن کمیشن کا ایک باقاعدہ آئینی عمل ہے، جو وقتاً فوقتاً انجام دیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے اس عمل کے بارے میں جھوٹ اور گمراہی پھیلانے کا کام کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے لوک سبھا میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل سال 1952 میں شروع ہوا تھا اور اس کے بعد بھی مختلف برسوں میں یہ عمل انجام دیا جاتا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ضروری عمل ہے۔مرکزی وزیر اور کرنال سے رکن پارلیمنٹ منوہر لال نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں ملک میں انتشار اور بدامنی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں حب الوطنی اور قومی شعور کا جذبہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے بعض رہنما ملک مخالف عناصر کو آگے کرکے ان کے کندھوں پر بندوق رکھ کر ملک میں گمراہی، بدانتظامی اور عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔منوہر لال نے کہا کہ ہندوستان کے عوام کو جمہوریت اور آئین میں درج اقدار پر گہرا یقین ہے۔ ہریانہ کی سرزمین ہمیشہ ملک کے دفاع اور قومی خدمت کے لیے مشہور رہی ہے۔ ایسے میں جمہوری اداروں اور آئینی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں سے ملک میں انتشار پھیلانے والی سیاست بند کرنے کی اپیل کی۔
بی جے پی کی ریاستی صدر ڈاکٹر ارچنا گپتا نے اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امیت شاہ کو موجودہ دور کا چانکیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح تاریخ میں آچاریہ چانکیہ نے ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لیے کام کیا اور غیر ملکی حملہ آوروں اور دراندازوں کو ملک سے باہر نکالنے کے لیے حکمت عملی تیار کی، اسی طرح آج امیت شاہ قومی اتحاد اور داخلی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے پختہ عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔بی جے پی کی ریاستی صدر ڈاکٹر ارچنا گپتا نے کہا کہ امیت شاہ نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو مضبوط بنانے کا تاریخی کام کیا۔ انہوں نے نکسل واد کے خلاف فیصلہ کن مہم چلائی اور ملک کو نکسل واد سے آزاد کرانے کی سمت میں اہم اقدامات کیے ہیں۔ آج وہ ملک کو منشیات جیسی سنگین لعنت سے نجات دلانے کے لیے بھی پوری طرح پرعزم ہیں۔
بی جے پی کی ریاستی صدر ڈاکٹر ارچنا گپتا نے کہا کہ ایسی دوراندیش قیادت اور مضبوط قوت ارادی رکھنے والے مرکزی وزیر داخلہ کی ہریانہ کی تاریخی سرزمین پر آمد ریاست کے بی جے پی کارکنوں کے لیے انتہائی فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کرنال کی سرزمین پر ہریانہ بی جے پی کے تمام کارکنوں کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امیت شاہ کا پرتپاک استقبال کیا اور ان کا خیرمقدم کیا۔اس موقع پر بی جے پی کی قومی جنرل سکریٹری اور ہریانہ کی انچارج اسمرتی ایرانی، ریاستی شریک انچارج ڈاکٹر بھولا سنگھ، ہریانہ اسمبلی کے اسپیکر ہرویندر کلیان، کابینہ وزراء کرشن لال پنوار، مہی پال ڈھانڈا، رنبیر گنگوا، راؤ نربیر سنگھ، کرشن بیدی، ڈاکٹر اروند شرما، ڈاکٹر کرشن مڈھا، گورو گوتم، ارکان اسمبلی جگموہن آنند اور یوگیندر رانا، بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری گوپال شرما اور بی جے پی کے ضلع صدر پروین لاٹھر سمیت متعدد سینئر رہنما اور پارٹی کارکن موجود تھے۔
