سابق ہندوستانی خاتون ہاکی کوچ گوردیال سنگھ بھنگو کا انتقال
نئی دہلی (یو این آئی) 2002 کے دولت مشترکہ کھیلوں میں ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم کو تاریخی طلائی تمغہ دلانے والے سابق کوچ گوردیال سنگھ بھنگو کا 86 سال کی عمر میں کینیڈا کے شہر سرے میں انتقال ہوگیا۔بھنگو کی کوچنگ میں ہندوستان نے مانچسٹر میں ایک سنسنی خیز فائنل میں میزبان انگلینڈ کو 3-2 سے شکست دے کر طلائی تمغہ جیتا تھا۔ اس تاریخی کامیابی نے بعد میں شاہ رخ خان کی اداکاری والی 2007 کی بالی ووڈ فلم ‘چک دے! انڈیا’ کے لیے بھی تحریک فراہم کی۔
سورج لتا دیوی کی قیادت والی ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم نے اضافی وقت میں ممتا کھرب کے فیصلہ کن گول کی بدولت طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا۔ اس کامیابی کو ہندوستانی ہاکی کی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ فلم میں شاہ رخ خان کے فرضی کردار کبیر خان کو سابق ہندوستانی گول کیپر میر رنجن نیگی سے متاثر ہوکر تخلیق کیا گیا تھا، تاہم دولت مشترکہ کھیلوں میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کوچ کی حیثیت سے بھنگو نے ہی کی تھی۔ فائنل میں ان کا تجربہ اور ہاکی کے قواعد سے واقفیت فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
بھنگو کو معلوم تھا کہ اگر پنالٹی کارنر کا عمل جاری ہو تو ہوٹر بجنے کے بعد بھی اسے مکمل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے کھلاڑیوں کو ہدایت دی تھی کہ جب تک پنالٹی کارنر کا پورا عمل مکمل نہ ہو، کھیل سے توجہ نہ ہٹائیں۔اضافی وقت میں انگلینڈ کے خلاف یہی ہدایت فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ ہوٹر بجتے ہی انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑی رک گئے، لیکن ہندوستانی کھلاڑیوں نے حملہ جاری رکھا اور ممتا کھرب نے ری باؤنڈ پر گول کرکے گولڈن گول داغ دیا۔ ابتدا میں اس گول کو مسترد کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں حکام نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ہندوستان کی تاریخی جیت کی تصدیق کردی۔
پاکستان کے موجودہ شہر فیصل آباد کے سابق نام لائل پور میں پیدا ہونے والے بھنگو کی پرورش امبالہ میں ہوئی، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کی سطح پر ہاکی کھیلی۔ بعد میں انہوں نے پٹیالہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس میں تربیت حاصل کی، جہاں انہیں ہندوستانی ہاکی کے عظیم کھلاڑی دھیان چند اور اولمپک طلائی تمغہ یافتہ کوچ بال کرشن سنگھ سے سیکھنے کا موقع ملا۔ہندوستانی ٹیم کی کوچنگ سنبھالنے سے پہلے ہی بھنگو کو بین الاقوامی سطح پر کوچنگ کا وسیع تجربہ حاصل تھا۔ انہوں نے 1972 سے 1976 تک نائجیریا کی خواتین ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ٹیم کو 1976 میں پہلی بار ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرانے میں مدد کی۔
1998 کے خواتین ہاکی ورلڈ کپ میں ہندوستان کے 12ویں مقام پر رہنے کے بعد بھنگو کو قومی خواتین ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی رہنمائی میں ہندوستان نے اسی سال بنکاک میں منعقدہ ایشیائی کھیلوں میں چاندی کا تمغہ جیتا اور اس کامیابی نے چار سال بعد دولت مشترکہ کھیلوں میں تاریخی طلائی تمغے کی بنیاد رکھی۔بھنگو کو 2000 میں دروناچاریہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ وہ ہاکی کے پہلے کوچ تھے جنہیں اس باوقار اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
