بھاگلپور (قمر امان): الفتح ویلفیئر فاؤنڈیشن کرما،ضلع بانکا کے زیرِ اہتمام ایک روزہ اسلامی کوئز مقابلہ اور تقسیمِ انعامات کی باوقار تقریب کرما،دھوریا کے تاریخی عیدگاہ میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت مفکرِ ملت،امیرِ شریعت بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا سید ولی فیصل رحمانی صاحب نے فرمائی،جبکہ نظامت کے فرائض الفتح ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین حضرت مولانا الیاس ثمر قاسمی نے انجام دیے۔اپنے صدارتی خطاب میں حضرت امیرِ شریعت نے انسانی زندگی میں دین و شریعت کی رہنمائی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھے اور برے کی تمیز کے ساتھ کامل شریعت عطا فرمائی تاکہ وہ صحیح راستے کا انتخاب کر سکے۔آپ نے سورۂ علق کی پہلی وحی”اقرأ باسم ربک الذی خلق” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر علم کو صرف مادی نقطۂ نظر سے حاصل کیا جائے تو وہ تباہی کا سبب بن سکتا ہے،لیکن جب علم کا رشتہ ربِ کائنات سے جوڑ دیا جائے تو یہی علم انسانیت کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔اسی لیے نیوکلیئر توانائی سے بجلی پیدا کرنا درست ہے،مگر ایٹم بم بنانا انسانیت کے خلاف عمل ہے اور اسلام ایسی تخریب کاری کی اجازت نہیں دیتا۔حضرت مولانا نے معاشرے میں تعلیم کی کمی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ہر سو میں تقریباً چالیس بچے ناخواندہ ہیں،جو تعلیماتِ نبویؐ کے منافی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ہر فرد اپنی گلی اور محلے کے بچوں کی تعلیم کا ذمہ دار ہے،کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھیں گے کہ ہم نے اپنے اردگرد کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کیا کردار ادا کیا۔ صحت و تغذیہ کے مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار میں ہر سو میں تقریباً پینتالیس بچے جسمانی یا ذہنی کمزوری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ماں اور بچے کو مناسب غذا کی عدم فراہمی ہے۔ اگر دورانِ حمل ماں کو متوازن غذا فراہم کی جائے اور پیدائش کے بعد ابتدائی چار برس تک بچے کی درست پرورش کی جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا ہے،لہٰذا ہر محلے میں ایسے افراد ہونے چاہئیں جو تعلیم، صحت اور معاشی حالات پر نظر رکھیں۔معاشی زندگی کے حوالے سے حضرت امیرِ شریعت نے حلال روزی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ سود سراسر حرام ہے اور اس میں کوئی برکت نہیں۔ انہوں نے معاشرے میں بلاسود قرض دینے اور وقت پر قرض واپس کرنے کے رجحان کو فروغ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ کسی ضرورت مند کی مالی مدد کرنا عظیم ترین ثواب ہے۔ آخر میں انہوں نے منتظمین،شرکاء اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس پروگرام کو سالانہ روایت بنائے اور زیادہ سے زیادہ تعلیمی اداروں کو اس سے جوڑے تاکہ طلبہ میں مسابقتی جذبہ پروان چڑھے اور وہ دینی و اخلاقی اقدار سے آراستہ ہوں۔اس موقع پر الفتح ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا الیاس ثمر قاسمی نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کوئز مقابلے میں 600 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپ، سائیکل، گاڈریج الماری،گیس چولہے،نقد انعامات،اسناد اور میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ دیگر شرکاء کو توصیفی اسناد دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔معزز علماء کرام اور نعت خواں حضرات نے اپنے مؤثر خطابات اور نعتیہ کلام سے سامعین کے دلوں کو منور کیا، جبکہ کامیاب طلبہ کو حضرت امیرِ شریعت نے اپنے دستِ مبارک سے انعامات و اسناد عطا فرمائیں۔تقریب میں توقیر عثمانی (سابق فوجی)سجاد عالم،مولانا ظفر مصطفیٰ،اجاگر میڈیا سے وابستہ ابو لیث،مولانا عبدالمنان،نسیم اختر سمیت متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی۔یہ پروگرام علمی، دینی اور سماجی اعتبار سے نہایت کامیاب اور بامقصد ثابت ہوا۔












