واشنگٹن، (یو این آئی) امریکہ نے ایران کی عسکری خریداری نیٹ ورک کے 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں، پابندیاں ایران کے لیے ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں میں ملوث افراد و کمپنیوں پر عائد کی گئیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق امریکہ نے ایران کے اسلحہ پروگرام میں معاونت کے الزامات کے تحت 10 افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں، جن میں چین اور ہانگ کانگ کی متعدد کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں پر ایران کو شاہد ڈرونز اور بیلسٹک میزائل بنانے کے لیے اسلحہ اور خام مال کے حصول میں مدد دینے کا الزام ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دنوں میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے چین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جب کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں: چین میں قائم یوشیتا شنگھائی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ پر ایران کو چین سے اسلحہ خریدنے میں سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ دبئی میں قائم ایلیٹ انرجی ایف زیڈ سی او پر خریداری کے اس عمل میں مدد کے لیے ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کو لاکھوں ڈالر منتقل کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ہانگ کانگ کی ایچ کے ہیسن انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ اور بیلاروس کی آرموری الائنس ایل ایل سی پر اسلحہ خریداری میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ ہانگ کانگ کی مسٹاڈ لمیٹڈ پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو اسلحہ خریدنے میں سہولت دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ ایران کی پیشگام الیکٹرانک صافحہ کمپنی پر ڈرونز میں استعمال ہونے والے موٹرز خریدنے کا الزام لگایا گیا۔ چین کی ہائٹیکس انسولیشن ننگبو کمپنی لمیٹڈ پر بیلسٹک میزائلوں میں استعمال ہونے والا مواد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی عسکری صنعتی صلاحیت کو دوبارہ فعال ہونے سے روکنے کے لیے اقتصادی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے غیر قانونی تجارتی نیٹ ورک، بشمول ایئرلائنز، کی معاونت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے، جب کہ ایران کی مدد کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے بھی ثانوی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اوبسیڈین رسک ایڈوائزرز کے منیجنگ پرنسپل بریٹ ایرکسن نے کہا کہ امریکی اقدامات کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور خطے میں اتحادیوں کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔ ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند کردی تھی۔ یہ عالمی توانائی تجارت کی ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد اس راستے سے بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو چکی ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ برطانوی ادارے سینٹر فار انفارمیشن ریزیلینس کے مطابق ایران دنیا کے بڑے ڈرون ساز ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ہر ماہ تقریباً 10 ہزار ڈرون تیار کرنے کی صنعتی صلاحیت رکھتا ہے۔












