نئی دہلی ،26مئی سماج نیوزسروس: مودی حکومت نے آج مرکز میں اپنے اقتدار کے 9 سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر حکومت بڑی شدت سے اپنی کامیابیاں شمار کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ 9 سالوں میں حکومت نے کیسے بڑے فیصلے لیے اور عوام کے لیے کیا کیا۔ دوسری طرف اپوزیشن کانگریس کی جانب سے اسے ناکامی کے 9 سال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ٹوئٹ کیا گیا ہے جس میں مودی حکومت کے 9 سال کا ذکر کیا گیا ہے۔ کانگریس نے بے روزگاری سے لے کر مہنگائی اور دیگر مسائل پر حکومت کو گھیرتے ہوئے اور کہا ہے کہ مصائب کے 9 سال مکمل ہو چکے ہیں۔کانگریس کے ٹوئٹ میں لکھا گیا ’’آج مودی حکومت نے 9 سال مکمل کر لیے ہیں، یہ ‘ناکامی کے 9 سال’ ہیں۔ 9 سال ملک کی بدحالی ہے، ان 9 سالوں میں عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بے روزگاری اور آمرانہ فیصلوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ جملوں کے بل بوتے پر برسراقتدار آنے والی مودی سرکار نے اپنا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ بس تاریخ کے بعد تاریخ دیتے رہے۔ مثلاً 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ۔ 2022 تک سب کو گھر فراہم کرنے کا وعدہ، کالا دھن واپس لا کر 15 لاکھ دینے کا وعدہ، ہر سال 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ، یہ صرف بانگی بھر ہے، ان کے جملے گننے بیٹھ گئے تو کئی دن گزر جائیں گے۔کانگریس نے کہا، پی ایم مودی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، الٹا انہوں نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے ملک کو مشکل میں ڈال دیا۔ نوٹ بندی نے معیشت کو تباہ کر دیا اور وہ خوفناک منظر کون بھول سکتا ہے جب لوگ بینکوں کی لائنوں میں مر گئے۔ گبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی) سے تاجر تباہ ہو گئے۔ آئے دن اس پر احتجاج ہوتا ہے لیکن سننے والا مور کو دانہ دینے میں مصروف ہو تو لوگ کیا کر سکتے ہیں۔ اگنی ویر کے فیصلے نے نوجوانوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ جب انہوں نے احتجاج کیا تو انہیں دھمکی دی گئی کہ اس کا مستقبل تباہ کر دیا جائے گا۔ مودی سرکار عوام کو ڈرا کر، طاقت خرید کر، دوستوں کو سب کچھ بیچ کر مزے کرنے کے فارمولے پر چل رہی ہے۔مودی حکومت کے 9 سال مکمل ہونے پر کانگریس نے لکھا، جو بھی آواز اٹھی اسے دباو، کچل دو، جیل میں ڈال دو، بلڈوزر چلا دو، ای ڈی، سی بی آئی کا خوف دکھائو۔ حکومت نہ بنے تو پیسے کے بل بوتے پر اقتدار خریدو اور جمہوریت کا قتل کرو، ملک کی بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بڑے بڑے منصوبے ‘متر’ کو بیچ دو اور آرام سے ‘متر کال’ میں مہنگا مشروم کھاتے رہو، فوٹو کھنچواتے رہو۔ اس حکومت میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ پروپیگنڈا صبح سے شام تک جاری رہتا ہے۔ ’مہامانو‘ کی فرضی شبیہ گڑھی جاتی ہے اور آخر میں وہ مہامانو ‘لال شرٹ’ پہن کر چین کو مائل کرتے نظر آتے ہیں۔ کانگریس نے اقتدار میں نو سال مکمل ہونے پر مودی حکومت سے جمعہ کو نو سوال پوچھے اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو خاموشی توڑکر ان سوالوں کا جواب دینا چاہئے ۔کانگریس کمیونیکیشن محکمہ کے انچارج جے رام رمیش ،محکمہ کے سربراہ پون کھیڑا اور ترجمان سپریہ شر ی نیٹ نے آج یہاں پارٹی ہیڈ کواٹر میں نو سوالوں کے سلسلے میں ایک کتابچہ جاری کی اور کہا کہ کانگریسی لیڈر راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران اور بعد میں مسلسل یہ سوال اٹھائے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے آج تک کسی سوال کا جواب نہیں ملا۔انہوں نے کہا، کانگریس پارٹی آج وزیر اعظم نریندر مودی سے نو سوال پوچھ رہی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام سوالوں پر مسٹر مودی اپنی خاموشیتوڑ کر ان سوالوں کے جواب دیں۔کانگریسی لیڈروں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے نو سال میں پرانی اسکیموں کو نیا نام دے کر پیش کیا۔
اور وزیر اعظم نے تشہیری کردار ادا کیا۔مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے پہلے کی‘ ایل پی جی گرامین وترن یوجنا’کو‘ اجولا’نام دیاگیا اسی طرح دیگر کئی پرانی اسکیموں کو نیا نام دینے میں گزشتہ سال میں بڑی کامیابی حاصل کی گئی ہے ۔انہوں نے حکومت سے پہلے سوال مہنگائی کے سلسلے میں کیا اور کہا کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری آسمان کیوں چھو رہی ہے ۔ امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب کیوں ہورہے ہیں۔ عوامی جائیداد کو کیوں فروخت کیا جا رہا ہے اور ملک میں اقتصادی مسائل مسلسل کیوں اضافہ ہو رہی ہے ؟زراعت کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ایسا کیوں ہے کہ کالے زرعی قوانین کو رد کرتے وقت کسانوں کو تنظیموں کے ساتھ سمجھوتے کو ابھی تک لاگو نہیں کیا گیا۔سہارا قیمت(ایم ایس پی ) کی گارنٹی کیو نہیں دی گئی ۔ گزشتہ نو سالوں میں بھی کسانوں کی آمدنی دوگنی کیوں نہیں ہوئی؟












