نئی دہلی، کرناٹک اسمبلی انتخاب آخری مرحلے میں ہے۔ 10مئی کو وہاں انتخاب ہے لہٰذا 8مئی یعنی پیر کے دن سے وہاں پرچار بند ہوجائے گا۔ اور سارے بڑے لیڈران جو وہاں کئی ہفتوں سے مقیم ہیں لوٹ جائیں گےاور 13تاریخ کو نتائج دیکھ کر آگے کی حکمت عملی طے کریں گے کیونکہ کرناٹک کے بعد رواں سال کے نومبر میں چھتیس گڈھ اور راجستھان سمیت تین ریاستوں میں بھی انتخاب ہونا ہے۔ اس آخری مرحلے میں اگر کرناٹک کی بات کی جائے تو کانگریس اور بی جے پی نے اپنی ساری قوت لگا دی ۔اور اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہاں بی جے پی اور کانگریس براہ راست انتخاب میدان میں ہیں ۔رہا سوال جے ڈی ایس کا تو مقامی پارٹی ہونے کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک محفوظ ہے لیکن پورے کرناٹک میں نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہاں بی جے پی مسلسل کانگریس کو ہی اپنا نشانہ بنا رہی ہے۔
لیکن کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود کانگریس اس پر بھاری پڑ رہی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ سرکار کے ذریعہ کی جانے والی بد عنوانی ہے، جسے کانگریس انتخابی مدعا بنانے میں پوری طرح کامیاب رہی ہے ۔بی جے پی کو اس انتخاب میں اس کے باغیوں نے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے ۔خاص طور پر بی جے پی کے سابق وزیر اعلی جگدیش شٹار نے جو بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں اور اب بی جے پی کو شکست دینے کا دعوی کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کرناٹک میں سینئر لنگایت سماج کے لیڈروں کو کنارے لگا کر نوجوان لنگایت لیڈروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہنے والے جگدیش شٹار اسمبلی میں دو مرتبہ اپوزیشن لیڈر بھی رہے ہیں۔ کرناٹک کے لوگ ان کو ایک شائستہ، زمینی سیاست دان کی حیثیت سے جانتے ہیں جو سب کے لیے ہمیشہ قابل رسائی ہے۔ اور اب وہ اسے ایک ایسے باغی کی حیثیت سے بھی دیکھ رہے ہیں جو اس بی جے پی کو مٹی میں ملانے کا عہد کر رہا ہے جس پارٹی کی اس نے تین دہائیوں تک خدمت کی ہے ۔اور اب ایک ایسی پارٹی کو اقتدار میں لانے کی جدوجہد کر رہا ہے جس کے خلاف وہ مسلسل لڑتا رہا ہے۔
اپنے طور پر پر شٹار نے بلا شبہ صف اول کی پارٹی کو ایک زبردست دھچکا پہنچایا ہے خاص طور پر شمالی کرناٹک کے چند علاقوں میں جہاں ان کی برادری کے ممبران، بونجیگا لنگایت اور لنگایتوں کی بڑی آبادی ہے۔ کانگریس کے ساتھ جانے کا ان کا فیصلہ جرات مندانہ ہی کہا جائے گا ۔اب دیکھنا ہے کہ کرناٹک انتخاب میں لنگایتوں کے سب سے بڑے لیڈر ایس یدی یو رپا کو کامیابی ملتی ہے جن کے ساتھ مودی کی پوری فوج اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ کھڑی ہے یا پھر جگدیش شٹار کانگریس کو جیت کا تحفہ دلواتے ہیں ۔












