
حماس کے اچانک حملے کے بعد ہندوستان کے وزیرِ اعظم کا رجحان اسرائیل کی طرف تھا انھوں نے اسرائیل کے حقِ مدافعت کی تائید بھی کی تھی اور حماس کے حملے کو دہشت گردی بھی قرار دیا تھا۔ وزیرِ اعظم سے ان کے گزشتہ ریکارڈ کی بنا پر یہی اُمید کی جا سکتی تھی۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے چنداں حیرت کی بات نہیں تھی کیوں کہ اسلام اور مسلم دشمنی مودی حکومت کا شیوہ رہی ہے لیکن حماس کے حملے کے انتقام میں جب اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی اور ہزاروں عام شہریوں کو جن میں بچّے بوڑھے اور عورتیں تک شامل تھیں، موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تو فلسطینیوں کی مظلومیت پر دوست تو دوست دشمن بھی کانپ گئے اور ہر چہار طرف سے اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں، احتجاج ہونے لگے۔ وزیرِ اعظم کو ایسا لگا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اکیلے رہ جائیں اور سارے ایشیائی ممالک مخالف خَیمے میں ہوں انھوں نے اَدبدا کر غزہ کے زخمیوں کے لئے امداد بھجوائی جو اگرچہ مقدار میں بہت کم تھی لیکن یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھی کہ ہندوستان کی حکومت بھی انصاف پسند ہے اور وہ بھی انسانی بنیادوں پر سوچتی ہے۔ اگر بات انسانیت کی آ جائے تو وہ مذہبی تنگ نظری کو بالاے طاق رکھ کر منصِفانہ فیصلے بھی کر سکتی ہے۔ ہندوستان سے فلسطین کے لئے انسانی امداد بھیجے جانے پر لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ مودی حکومت اب راہِ راست پر آ گئی ہے اور اُسے اسرائیلیوں کے وحشی پن اور درندگی کا احساس ہونے لگا ہے لیکن گزشتہ دنوں جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اُردن کی سرکردگی میں عرب ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی تو دنیا کے بیشتر ممالک نے اس سے اتفاق کیا۔ مگر ہندوستان نے اس سلسلے میں کوئی رائے دینا پسند نہیں کیا۔ وہ دنیا کے ان پینتالیس ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ ہی نہیں لیا۔ جبکہ ۱۴ ووٹ اس قرارداد کی مخالفت میں پڑے جن میں امریکہ سرِ فہرست ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی یہ قرارداد بائنڈنگ نہیں ہے جس پر عمل ضروری ہو بلکہ اختیاری ہے یعنی فریقین کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہے تو اس پر عمل نہ کرے لیکن اس سے کم از کم یہ تو پتا لگتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کا اس سلسلے میں موقِف کیا ہے۔ وہ کیا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی موجودہ حکمراں جماعت نے کچھ نیا کرنے کے شوق میں ابتدا سے ہی دوستی کے لئے ان ممالک کی طرف ہاتھ بڑھایا جس سے ماضی میں ہندوستان کے تعلقات بہت بہتر نہیں تھے اس میں کوئی بُرائی نہیں تھی بشرطیکہ اپنی روایات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہوتا۔ لیکن ایسا محض کریڈٹ لینے یا خود کو سب سے عقلمند سمجھ کر کیا گیا۔ یہ اس فیصلے کا افسوسناک پہلو ہے۔ ایسے ہی ملکوں میں اسرائیل بھی ایک ملک ہے جس سے موجودہ حکومت نے دوستی کا رجحان ظاہر کیا تھا۔ جن ملکوں نے جنگ بندی کے معاملے میں عرب ممالک کی قرار داد سے اتفاق یا اختلاف کچھ بھی ظاہر نہیں کیا اُن میں ہندوستان کے علاوہ جرمنی، اٹلی اور برطانیہ جیسے ممالک ہیں جن کا مسلمانوں کے خلاف منافقانہ طرزِ عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ مودی حکومت نے یہ موقِف محض اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اختیار کیا ہے۔ ورنہ دہشت گردی روکنے اور امن و آشتی قائم کرنے کے لئے جنگ بندی کی قراداد سے اتفاق تو ہر انصاف پسند کرے گا۔ اس سلسلے میں اس طرح کے منافقانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اگر ہندوستان مخالفت ہی کرتا تو کیا ہو جاتا جب کہ اس کے ارگرد کے سارے ممالک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی پر متفق ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ملک ہے۔ اس نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہٹلر نے جس پر زمین تنگ کردی تھی اس کو فلسطینیوں نے پناہ دی جس کا نتیجہ کیا نکلا۔ اسرائیلیوں نے فلسطیینوں کو اس کا صلہ یہ دیا کہ ان کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ آج بھی وہ اس پر بُری نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اپنے محسن فلسطینیوں کو نیست و نابود کر دینا چاہتا ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے سے اس نے فلسطینیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی مظلوم اپنے حق کی محافظت کے لئے لڑتا ہے تو اُسے دہشت گرد ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ دہشت گرد تو وہ ہے جس نے بیس لاکھ مسلمانوں کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر رکھا ہے بعض مغربی ممالک نے ہمیشہ اس کی پشت پناہی کی ہے اور انھیں کے بل پر اسرائیل نے آج تک جنگیں جیتی ہیں۔ ان کے چہرے جانے پہچانے ہیں۔
ہندوستان ہمیشہ فلسطینیوں کا حامی رہا ہے۔ گاندھی جی نے بھی کہا تھا کہ فلسطین عربوں کی سرزمین ہے۔ لیکن گاندھی کی بجاے گوڈسے کے آدرشوں کو ماننے والی مودی حکومت حق کے لئے لڑنے والوں کو اگر دہشت گرد کہتی ہے، حق کی موافقت اور امن کے قیام کے لئے آواز نہیں بلند کرسکتی تو اس کا مطلب ہے اس کا طرزِ عمل منافقانہ ہے۔ اور دنیا جانتی ہے کہ منافقت دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ دشمن ہمیشہ سامنے سے حملہ کرتا ہے لیکن منافق دوست کا بھیس بدل کر پیٹھ میں چُھرا گھونپتا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے دوست نما دشمنوں سے محتاط رہنا چاہئے۔ آج غزہ کے مسلمانوں پر جس طرح سے بم برسایا جا رہا ہے اُسے دیکھ کر ساری دنیا فلسطینیوں سے اظہارِ ہمدردی کر رہی ہے اور دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی جارہی ہے۔ اگر ایسے سنگین وقت میں بھی مودی حکومت کو فلسطین کے مظلوموں پر ترس نہیں آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے اس کو اپنے آقاؤں کی خوشنودی مقصود ہے۔ چونکہ وہ اسرائیلیوں کی وحشت و بربریت سے انکار بھی نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ اظہر من الشمس ہے اس لئے دبی زبان سے فلسطینیوں سے اظہارِ ہمدردی کرتی ہے لیکن اس کا دل اسرائیل اور اس کے حلیفوں کی طرف ہے کیوں کہ ان سے اُسے بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔ اس لئے وہ کُھل کر بولنا نہیں چاہتی۔ نیوٹرل رہنا پسند کرتی ہے تاکہ آگے رابطہ ہموار کرنے میں کوئی اڑچن نہ پیش آئے۔ مودی حکومت کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جس کا ذکر کسی فارسی شاعر نے یوں کیا ہے۔
معشوقِ ما بہ شیوہء ہرکس برابر ست
با ما شراب خورد و بہ زاہد نماز کرد
ڈاکٹر محمد صفوان صفوی












