• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
پیر, مئی 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home Uncategorized

جنگ بندی کی قرارداد اور ہندوستان کا موقف

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 1, 2023
0 0
A A
جنگ بندی کی قرارداد اور ہندوستان کا موقف
Share on FacebookShare on Twitter

حماس کے اچانک حملے کے بعد ہندوستان کے وزیرِ اعظم کا رجحان اسرائیل کی طرف تھا انھوں نے اسرائیل کے حقِ مدافعت کی تائید بھی کی تھی اور حماس کے حملے کو دہشت گردی بھی قرار دیا تھا۔ وزیرِ اعظم سے ان کے گزشتہ ریکارڈ کی بنا پر یہی اُمید کی جا سکتی تھی۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے چنداں حیرت کی بات نہیں تھی کیوں کہ اسلام اور مسلم دشمنی مودی حکومت کا شیوہ رہی ہے لیکن حماس کے حملے کے انتقام میں جب اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی اور ہزاروں عام شہریوں کو جن میں بچّے بوڑھے اور عورتیں تک شامل تھیں، موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تو فلسطینیوں کی مظلومیت پر دوست تو دوست دشمن بھی کانپ گئے اور ہر چہار طرف سے اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں، احتجاج ہونے لگے۔ وزیرِ اعظم کو ایسا لگا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اکیلے رہ جائیں اور سارے ایشیائی ممالک مخالف خَیمے میں ہوں انھوں نے اَدبدا کر غزہ کے زخمیوں کے لئے امداد بھجوائی جو اگرچہ مقدار میں بہت کم تھی لیکن یہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھی کہ ہندوستان کی حکومت بھی انصاف پسند ہے اور وہ بھی انسانی بنیادوں پر سوچتی ہے۔ اگر بات انسانیت کی آ جائے تو وہ مذہبی تنگ نظری کو بالاے طاق رکھ کر منصِفانہ فیصلے بھی کر سکتی ہے۔ ہندوستان سے فلسطین کے لئے انسانی امداد بھیجے جانے پر لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ مودی حکومت اب راہِ راست پر آ گئی ہے اور اُسے اسرائیلیوں کے وحشی پن اور درندگی کا احساس ہونے لگا ہے لیکن گزشتہ دنوں جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اُردن کی سرکردگی میں عرب ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی تو دنیا کے بیشتر ممالک نے اس سے اتفاق کیا۔ مگر ہندوستان نے اس سلسلے میں کوئی رائے دینا پسند نہیں کیا۔ وہ دنیا کے ان پینتالیس ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ ہی نہیں لیا۔ جبکہ ۱۴ ووٹ اس قرارداد کی مخالفت میں پڑے جن میں امریکہ سرِ فہرست ہے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی یہ قرارداد بائنڈنگ نہیں ہے جس پر عمل ضروری ہو بلکہ اختیاری ہے یعنی فریقین کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہے تو اس پر عمل نہ کرے لیکن اس سے کم از کم یہ تو پتا لگتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کا اس سلسلے میں موقِف کیا ہے۔ وہ کیا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کی موجودہ حکمراں جماعت نے کچھ نیا کرنے کے شوق میں ابتدا سے ہی دوستی کے لئے ان ممالک کی طرف ہاتھ بڑھایا جس سے ماضی میں ہندوستان کے تعلقات بہت بہتر نہیں تھے اس میں کوئی بُرائی نہیں تھی بشرطیکہ اپنی روایات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہوتا۔ لیکن ایسا محض کریڈٹ لینے یا خود کو سب سے عقلمند سمجھ کر کیا گیا۔ یہ اس فیصلے کا افسوسناک پہلو ہے۔ ایسے ہی ملکوں میں اسرائیل بھی ایک ملک ہے جس سے موجودہ حکومت نے دوستی کا رجحان ظاہر کیا تھا۔ جن ملکوں نے جنگ بندی کے معاملے میں عرب ممالک کی قرار داد سے اتفاق یا اختلاف کچھ بھی ظاہر نہیں کیا اُن میں ہندوستان کے علاوہ جرمنی، اٹلی اور برطانیہ جیسے ممالک ہیں جن کا مسلمانوں کے خلاف منافقانہ طرزِ عمل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ مودی حکومت نے یہ موقِف محض اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اختیار کیا ہے۔ ورنہ دہشت گردی روکنے اور امن و آشتی قائم کرنے کے لئے جنگ بندی کی قراداد سے اتفاق تو ہر انصاف پسند کرے گا۔ اس سلسلے میں اس طرح کے منافقانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اگر ہندوستان مخالفت ہی کرتا تو کیا ہو جاتا جب کہ اس کے ارگرد کے سارے ممالک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی پر متفق ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ملک ہے۔ اس نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہٹلر نے جس پر زمین تنگ کردی تھی اس کو فلسطینیوں نے پناہ دی جس کا نتیجہ کیا نکلا۔ اسرائیلیوں نے فلسطیینوں کو اس کا صلہ یہ دیا کہ ان کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ آج بھی وہ اس پر بُری نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اپنے محسن فلسطینیوں کو نیست و نابود کر دینا چاہتا ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے سے اس نے فلسطینیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی مظلوم اپنے حق کی محافظت کے لئے لڑتا ہے تو اُسے دہشت گرد ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ دہشت گرد تو وہ ہے جس نے بیس لاکھ مسلمانوں کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر رکھا ہے بعض مغربی ممالک نے ہمیشہ اس کی پشت پناہی کی ہے اور انھیں کے بل پر اسرائیل نے آج تک جنگیں جیتی ہیں۔ ان کے چہرے جانے پہچانے ہیں۔
ہندوستان ہمیشہ فلسطینیوں کا حامی رہا ہے۔ گاندھی جی نے بھی کہا تھا کہ فلسطین عربوں کی سرزمین ہے۔ لیکن گاندھی کی بجاے گوڈسے کے آدرشوں کو ماننے والی مودی حکومت حق کے لئے لڑنے والوں کو اگر دہشت گرد کہتی ہے، حق کی موافقت اور امن کے قیام کے لئے آواز نہیں بلند کرسکتی تو اس کا مطلب ہے اس کا طرزِ عمل منافقانہ ہے۔ اور دنیا جانتی ہے کہ منافقت دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ دشمن ہمیشہ سامنے سے حملہ کرتا ہے لیکن منافق دوست کا بھیس بدل کر پیٹھ میں چُھرا گھونپتا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے دوست نما دشمنوں سے محتاط رہنا چاہئے۔ آج غزہ کے مسلمانوں پر جس طرح سے بم برسایا جا رہا ہے اُسے دیکھ کر ساری دنیا فلسطینیوں سے اظہارِ ہمدردی کر رہی ہے اور دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی جارہی ہے۔ اگر ایسے سنگین وقت میں بھی مودی حکومت کو فلسطین کے مظلوموں پر ترس نہیں آ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے اس کو اپنے آقاؤں کی خوشنودی مقصود ہے۔ چونکہ وہ اسرائیلیوں کی وحشت و بربریت سے انکار بھی نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ اظہر من الشمس ہے اس لئے دبی زبان سے فلسطینیوں سے اظہارِ ہمدردی کرتی ہے لیکن اس کا دل اسرائیل اور اس کے حلیفوں کی طرف ہے کیوں کہ ان سے اُسے بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔ اس لئے وہ کُھل کر بولنا نہیں چاہتی۔ نیوٹرل رہنا پسند کرتی ہے تاکہ آگے رابطہ ہموار کرنے میں کوئی اڑچن نہ پیش آئے۔ مودی حکومت کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جس کا ذکر کسی فارسی شاعر نے یوں کیا ہے۔
معشوقِ ما بہ شیوہء ہرکس برابر ست
با ما شراب خورد و بہ زاہد نماز کرد

ڈاکٹر محمد صفوان صفوی

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    مئی 3, 2026
    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    مئی 3, 2026
    سپریم کورٹ سے ترنمول کانگریس کو دھچکا، عرضی پر نہیں دیا کوئی حکم

    سپریم کورٹ سے ترنمول کانگریس کو دھچکا، عرضی پر نہیں دیا کوئی حکم

    مئی 3, 2026
    ایل پی جی کی کمی ، پی این جی کنکشن بڑھانے میں مصروف حکومت

    ایل پی جی کی کمی ، پی این جی کنکشن بڑھانے میں مصروف حکومت

    مئی 3, 2026
    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    مئی 3, 2026
    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    مئی 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist