نئی دہلی ، (یو این آئی) سپریم کورٹ نے ترنمول کانگریس کی اس عرضی پر کوئی بھی حکم دینے سے ہفتہ کو انکار کر دیا جس میں مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے دوران مرکزی حکومت اور مرکزی پبلک سیکٹر کے ملازمین کو تعینات کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ترنمول کانگریس نے اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا لیکن عدالت نے اس کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ گنتی کے عملے کا تقرر کرنا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے مالیا باغچی کی بنچ نے ترنمول کانگریس اور الیکشن کمیشن کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ اس معاملے میں کوئی حکم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف الیکشن کمیشن کے وکیل کا یہ بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن گزشتہ 13 اپریل کو جاری کردہ سرکلر پر مکمل عمل درآمد کرے گا۔ترنمول کانگریس نے عرضی میں مرکزی ملازمین اور مرکزی حکومت کے پبلک سیکٹر اداروں کے ملازمین کو ووٹوں کی گنتی میں لگانے پر اعتراض کیا تھا۔ کمیشن کے 13 اپریل کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی میں ایک مبصر یا اسسٹنٹ مبصر میں سے کم از کم ایک مرکزی ملازم یا مرکزی پبلک سیکٹر کے ملازم کا تقرر کرنا لازمی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے ترنمول کانگریس کی عرضی خارج کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سیاسی اور اخلاقی نقطہ نظر سے مغربی بنگال کی برسراقتدار پارٹی (ترنمول) کے ارادوں پر سنگین سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران مبصر کے طور پر مرکزی حکومت اور پبلک سیکٹر اداروں کے ملازمین کی تعیناتی کے الیکشن کمیشن کے حکم کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ترنمول کی عرضی کو خارج کر دیا اور انتخابی عمل میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے صاف انکار کر دیا۔ مسٹر ترویدی نے کہا، "قابل ذکر بات یہ ہے کہ شری رام للا کے خلاف بابری مسجد کا کیس لڑنے والے اور تمام دہشت گردوں کے تئیں ہمدردی رکھنے والے نیز ترنمول کانگریس سے سیاسی طور پر مغلوب رہنے والے مسٹر کپل سبل کی عرضی آج پوری طرح سے خارج کر دی گئی۔”انہوں نے کہا کہ آج کا سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی طور پر درست ہے۔ سیاسی اور اخلاقی نقطہ نظر سے یہ ترنمول کانگریس کے ارادوں پر ایک گہرا اور سنگین سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مرکزی حکومت کے ملازمین پر بھروسہ نہیں ہے، لیکن ریاست کے ملازمین پر بھروسہ ہے۔ اس لیے، میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج بھروسے کا سوال خود آپ پر ہے۔ جب آئی پیک پر چھاپہ پڑا، تو یہ پہلی بار تھا جب کوئی وزیر اعلیٰ خود موقع پر پہنچیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی ہی پولیس اور اپنی ہی ریاستی ایجنسیوں پر بھروسہ نہیں تھا، اسی لیے وہ خود وہاں اندر گئیں۔اس دوران انہوں نے انڈیا اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میرا انڈیا اتحاد سے ایک سوال ہے اور ملک کے عوام کو اس مسئلے پر ضرور توجہ دینی چاہیے۔ اگر انتخابات پرامن ماحول میں بغیر کسی تشدد یا قتل کے ہو رہے ہیں اور پھر بھی ان پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، تو اس سے کئی اہم سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا نہ صرف آپ کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ آئینی نظام میں آپ کے بھروسے پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے، اور یہ بھی اشارہ دیتا ہے کہ آپ اس کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری اور الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی چار مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔سرکاری اطلاع کے مطابق ریاست میں اسمبلی انتخابات کے لیے پیر کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں 165 اضافی کاؤنٹنگ آبزرور اور 77 پولیس آبزرور تعینات کیے گئے ہیں تاکہ گنتی کے مراکز پر امن و امان برقرار رہے اور پورا عمل پرامن اور منصفانہ ماحول میں مکمل ہو سکے۔ کمیشن کے مطابق ان مبصرین کی تعیناتی کا مقصد ووٹوں کی گنتی کو محفوظ، خوف سے پاک اور شفاف ماحول میں انجام دینا ہے۔ اضافی کاؤنٹنگ آبزرور ان 165 اسمبلی حلقوں میں لگائے گئے ہیں جہاں ایک سے زیادہ کاؤنٹنگ ہال ہیں، تاکہ عمل خوش اسلوبی سے چل سکے۔پولیس آبزرور متعلقہ کاؤنٹنگ مراکز کے گردونواح میں سکیورٹی اور امن و امان کی نگرانی کمیشن کی ہدایات کے مطابق یقینی بنائیں گے۔ انہیں گنتی والے دن کاؤنٹنگ ہال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تمام مبصرین کمیشن کے کنٹرول اور نگرانی میں کام کریں گے اور ان کا تقرر آئین کی دفعات اور عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 کے تحت کیا گیا ہے۔کاؤنٹنگ مراکز میں داخلہ صرف کیو آر کوڈ پر مبنی فوٹو شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہوگا، جسے ریٹرننگ افسر جاری کرے گا۔ کاؤنٹنگ ہال کے اندر موبائل فون لے جانے کی اجازت صرف کاؤنٹنگ آبزرور اور ریٹرننگ افسر کو ہی ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران ہر مرحلے کے نتائج فارم 17-سی (حصہ دوم) میں کاؤنٹنگ آبزرور کی موجودگی میں تیار کیے جائیں گے اور ایجنٹوں کے دستخط کے لیے شیئر کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر میز پر تعینات مائیکرو آبزرور بھی نتائج کو آزادانہ طور پر درج کر کے کاؤنٹنگ آبزرور کے حوالے کریں گے، تاکہ ملاپ کے ذریعے پورے عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔












