غزہ پر اسرائیل کی بمباری اور وحشیانہ حملوں کا آج 36واں دن ہے، اب تک گیارہ ہزار سے زائد فلسطینی چھوٹے بڑے، مرد وعورت شہید ہوچکے ہیں، جس میں پانچ ہزار سے کچھ اوپر تو معصوم بچے ہیں، لاکھوں لوگ بےیار وبےگھر ہوکر کیمپوں میں رھنے پر مجبور ہوچکے ہیں، غزہ بالکل کھنڈر اور ملبے کی ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ، ہرطرف خاک وخوں کا بھیانک سماں ہے.قیامت کا سا منظر ہے، غزہ کی موجودہ تصویر وتصور سے ہرصاحب قلب وجگر کی روح کانپ اٹھتا اور اجسام پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے، زبان لڑکھڑانے لگتی ہے، کچھ لمحے کےلئے سوچئے کہ اہل غزہ کو بجلی پانی تک سے محروم کردیا گیا ہے کن مشکلات میں وہاں لوگ زندگی کے ایام کاٹ رہے ہیں؟ بیان کرنے کےلئے ہمارےپاس الفاظ نہیں ہے، اور ایسا بھی نہیں کہ جان سوز حملے رک گیے ہوں بلکہ اب بھی اسرائیلی بربریت وجنگی جرائم جاری ہے، خاک وخوں کا کھیل چل رہا ہےق، اور ہرروز عام بے قصور لوگ مارے جا رہے ہیں، نیز دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، بس مذمت پر مذمت ہو رہی ہیں، اس سے آگے اقدامات ندارد، اس میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا علمبردار بننے کا ڈھونگ رچانے والا جھوٹا امریکہ کا کردار سب سے غلط بلکہ ظالمانہ رہاہے، انہوں نے تو اسرائیل کو حق دفاع کے نام پر فلسطینوں کی جان لینے کا لائسنس فراہم کردیاہے، لیکن تاریخ شاھد ہے کہ ظلم کا نتیجہ اور ظالم کاانجام ہمیشہ برا ہوا ہے، فطرت وقدرت کبھی ظالموں کو معاف نہیں کرے گی، تباہی ان کی مقدر رہی ہے، ایسے ہی ظالم امریکہ اور غاصب اسرائیل اور غزہ کے اس خونی کھیل میں ان کی ہمنوائی کرنے والوں کا انجام ہونے والا ہے ان کا زوال وادبار بہت ہی قریب ہے، زمانہ انہیں بھی یاد رکھے گا، دنیا کے سارے انصاف پسندوں اور جن کے قلوب میں انسانیت کی خوبو باقی ہے انہیں چاہئے کہ انسانی بنیادوں پر اسرائیل پر سیاسی، معاشی، اسٹرٹیجی، لوجیکلی اور معاشرتی ہر اعتبار سے دباؤ بنا کر فوری جنگ بندی کراکے مزید انسانی جانوں کو ضیاع ہونے سے بچائیں نیز او ائ سی میں شامل سبھی مسلم ممالک ولیڈران خصوصا اس جانب توجہ دیں اور کسی مضبوط، پائیدار اور مستحکم حل تک تگ و دو برابر جاری رکھیں تاکہ اسرائیل کا گھیرا ہرطرف سے تنگ ہوجائے ،جنگ بندی پرمجبور ہو، مستقبل کے لئے ایک سبق بن جائے، نیز اہل فلسطین کو ان کا حق مل سکے اور آزادانہ ماحول میں امن واطمینان کی سانس لےسکے ، نیز امت اسلامیہ بھی اس عظیم ابتلاء وازمائش سے باہر نکل سکے، اللہ تعالی مظلومین کی غیبی نصرت فرمائے












