• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, اپریل 25, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

آسام شہریت معاملہ : سپریم کورٹ آف انڈیاکی پانچ رکنی آئینی بینچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

صدرجمعیۃعلماء ہندمولانا ارشدمدنی کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، اندر اجے سنگھ کے بعدآج آخری دن سینئرایڈوکیٹ سلمان خورشید نے بحث کی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 13, 2023
0 0
A A
آسام شہریت معاملہ : سپریم کورٹ آف انڈیاکی پانچ رکنی آئینی بینچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
Share on FacebookShare on Twitter

نئی دہلی، 12؍ دسمبر،،ہماراسماج:سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے آسام شہریت معاملے کی حتمی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا، اس معاملے میں چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سریا کانت، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشراء پر مشتمل آئینی بینچ نے تمام عرضداشتوں پر یکجا کرکے چار دن سماعت کی۔ آئینی بینچ نے سٹیزن شپ ایکٹ کی دفعہ 6A/ کی آئینی حیثیت پر فریقین اور یونین آف انڈیا کے دلائل کی سماعت کی۔ دفعہ 6A/ کے تحت مختلف تاریخوں پر ہندوستان میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، دفعہ 6A/ کو غیر قانونی قرار دینے کے لئے مختلف تنظیموں نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج بحث مکمل ہوئی۔گذشتہ سماعت پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء کپل سبل اور اندرا جئے سنگھ نے بحث کی تھی، آج آخری دن صدرجمعیۃعلما ء ہندمولانا ارشدمدنی کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دفعہ 6A/ کا تحفظ ضروری ہے نیز اس وقت کی حکومت نے انسانی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس شق کی تشکیل دی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے حلف نامہ کی روشنی میں شہریت کے معاملے کو مانیٹرنگ بینچ کے سپر کر دینا چاہئے۔سلمان خورشید نے مزید کہا کہ ہجرت کا معاملہ عالمی معاملہ ہے اور آسام میں یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے، اس سلسلہ میں ہر ملک اپنے اپنے اعتبار سے ریگولیٹ اور قانون بناتا ہے،6A/ اسی سلسلہ میں ہندوستان نے ایک مخصوص حالات کے پس منظر میں نے بنایاتھا تاکہ تارکین وطن کو شہریت دی جاسکے۔ بنگلہ دیش نے 1977 میں سٹیزن شپ ایکٹ بنایا تھا جبکہ ہندوستان نے 1985میں سٹیزن شپ ایکٹ بنایا تھااور یہ دونوں قانون میں یکسانیت ہے۔دوران سماعت سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے کہا کہ گذشتہ سماعت پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے یہ کہا تھاکہ آسام میانمار کا حصہ تھا، تاریخ کی غلط کتاب کا مطالعہ کرنے بعد انہوں نے ایسا کہا تھا جس پر کپل سبل نے کہا کہ آسام کی سرکاری ویب سائٹ پر یہ باتیں لکھی ہوئی ہے کہ آسام میانمار کا حصہ تھا۔سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے سرحدوں پر باڑ لگانے کے متعلق سپریم کورٹ کو معلومات فراہم کی اور کہا کہ ستر فیصد سے زیادہ کام ہوچکا ہے لیکن ریاستی سرکار کے عدم تعاون کی وجہ سے کام میں تیزی نہیں ہے۔دفعہ 6A/ کے خلاف داخل پٹیشن پر جوابی بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے کہاکہ 6A/ کے تحت آج بھی شہریت حاصل کرنے کا عریضہ داخل کیا جاسکتا جو مقامی آسامی باشندوں کے ساتھ زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے حساب سے تارکین وطن کی مدد کی جاسکتی ہے ایک حد تک لیکن انہیں اتنی بڑی تعداد میں شہریت دینے کی سفارش قطعی نہیں کی جاسکتی ہے۔غیر شہریوں کی وجہ سے مقامی لوگوں کو زبردشت نقصان پہنچا ہے، بے گھر ہونے کی بات فضول ہے جو نظام قانون پورے ملک میں لاگو ہوتا ہے وہ یہاں بھی لاگو ہوگا۔ اتنی بڑی تعداد میں تارکین وطن کو شہریت دینے سے ملک کی سالمیت اور سیکوریٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔سینئر ایڈوکیٹ ہنساریا نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ دفعہ 6A / کو انسانی بنیادوں یا کسی اور وجہ سے ختم نہیں کرتی ہے تو تارکین وطن کو ملک کی مختلف ریاستوں میں بسائے جانے کا احکام جاری کرے، آسام کے اوپر بوجھ نا ڈالا جائے، آسام ایک چھوٹی ریاست ہے اور اس کے پاس وسائل کی شدید کمی ہے لہذا اس بات کو مدنظر رکھا جائے۔ ایڈوکیٹ ہنساریا نے مزیدکہا کہ اگر سپریم کورٹ تارکین وطن کو شہریت دیتی ہے تو انہیں آئین کی وفا داری کاحلف اٹھانا ہوگا کیونکہ تارکین وطن کا تعلق اس ملک سے جہاں اسلامی قانون رائج ہے۔ایڈوکیٹ ہنساریا نے مزید بتایا کہ یونین آف انڈیا کے حلف نامہ کے مطابق آسام میں 100/ ٹریبونل ہیں جس میں 90000/ سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں لہذا ان مقدمات کو فیصل ہونے میں برسوں لگ جائیں گے۔
انہو ں نے مزید کہا یونین انڈیا نے یہ بھی نہیں بتایا کہ تارکین وطن کی کتنی تعداد آسام میں قیام پذیر ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد کا پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے۔اسی درمیان عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے آج زیادہ وقت عرض گذاروں کے وکلاء کو دیا جنہوں نے سالیسٹر جنرل آف انڈیا، اٹارنی جنرل آف انڈیا، کپل سبل، اندرا جئے سنگھ و دیگر وکلاء کی بحث کا جواب دیا۔ اس سے قبل کی سماعت پر صدرجمعیۃ علماء ہندمولانا ارشدمدنی کی جانب سے سینئر وکلاء کپل سبل اور اندرا جئے سنگھ نے عدالت کوبتایا تھاکہ تارکین وطن کی وجہ سے آسام کی ثقافت کو کوئی خطرہ نہیں ہے نیز مقامی آسامی باشندوں کو بھی کسی بھی طرح کی پریشانی نہیں ہے ورنہ آسام ایکورڈ کو پارلیمنٹ منظوری نہیں دیتی اور دفعہ 6A / کو نہیں بنایا جاتا۔ واضح ر ہے کہ آسام میں شہریت کے تعین کے لئے 1951کے شہریت ایکٹ میں سیکشن 6Aشامل کرکے شہریت کی بنیاد25/مارچ 1971کو حتمی تاریخ تسلیم کئے جانے کو باقاعدہ پارلیمنٹ میں منظوری دی گئی تھی، یہ ترمیم 15/اگست 1985کو آسام کی ریاستی سرکار اورمرکز کے درمیان ہوئے ایک اہم معاہدہ کی تکمیل میں کی گئی تھی، اس کے بعد آسام میں شہریت کا معاملہ تقریبا ختم ہوگیا تھا لیکن 2012میں بعض فرقہ پرست تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا کہ شہریت کی بنیاد25/مارچ 1971کے بجائے 1951کی ووٹرلسٹ کو بنایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ اسی عرضی میں آسام معاہدہ کی قانونی حیثیت اورشہریت ایکٹ میں 6Aکی دفعہ کے اندراج کو بھی چیلنچ کیاگیا، اس معاملہ کو سپریم کورٹ نے جسٹس رنجن گگوئی اورجسٹس نریمن پر مشتمل ایک دورکنی بینچ کے سپردکردیاتھا جس نے 13سوالات قائم کرکے مقدمہ کو ایک پانچ رکنی آئینی بینچ کے حوالہ کردیاتھاجو اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے، اس اہم مقدمہ میں جمعیۃعلماء ہند روز اول سے ہی ایک اہم فریق ہے۔واضح ہوکہ راجیوگاندھی کے دورحکومت میں جب شہریت ایکٹ میں ترمیم کرکے شہریت کے لئے 25/مارچ 1971کو کٹ آف تاریخ رکھا گیا تھا تو اس ترمیم کو تمام اپوزیشن پارٹیوں نے تسلیم کیا تھا ان میں بی جے پی بھی شامل تھی۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    اپریل 24, 2026
    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری  محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    اپریل 24, 2026
    مضبوط، خود مختار اور مربوط خلائی صلاحیت وقت کی ضرورت

    مضبوط، خود مختار اور مربوط خلائی صلاحیت وقت کی ضرورت

    اپریل 24, 2026
    صحت مند ہریانہ،ایک کروڑ سے زیادہ اسکریننگ

    صحت مند ہریانہ،ایک کروڑ سے زیادہ اسکریننگ

    اپریل 24, 2026
    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    تاریخ میں پہلی مرتبہ ریکارڈ ووٹنگ91 فیصد

    اپریل 24, 2026
    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری  محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    ہرمز میں غیر ملکی جہازوں پر سوار ہندوستانی شہری محفوظ : حکومت، ہندوستان کا ڈنکا دنیا میں بجا

    اپریل 24, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist