نئی دہلی،14؍دسمبر(اے یو ایس): دہلی پولس لوک سبھا کی کارروائی کے دوران سامعین گیلری سے نیچے کودنے اور ڈبے سے دھواں پھیلانے کے معاملے میں چھٹے مشتبہ ملزم کی تلاش میں جمعرات کو مسلسل دوسرے دن چھاپے مار رہی ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں… پولیس کی اب تک کی جانچ میں للت جھا کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا شبہ سامنے آرہا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے ‘طویل سازش’ ہے، جس کا پتہ للت جھا کے پکڑے جانے کے بعد ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے دیگر ملزمان نے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ للت جھا کے کہنے پر 13 دسمبر کی تاریخ طے کی گئی تھی۔ یہ للت جھا تھا جس نے سب کو گروگرام میں میٹنگ کے لیے بلایا تھا۔ یہ للت جھا ہی تھا جس نے کلر اٹیک کی ویڈیو اپنے موبائل پر بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے چار ملزمان میں صرف ایک ماسٹر مائنڈ للت تھا جس سے تمام ملزمان رابطے میں تھے۔ واقعہ کو انجام دینے سے پہلے للت نے خود چاروں ملزمان کے فون اپنے قبضے میں لے لیے اور فرار ہو گئے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ موبائل میں سازش سے متعلق کئی شواہد ہو سکتے ہیں، جنہیں للت جھا مٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ للت جھا کی آخری لوکیشن نیمرانا، راجستھان کے قریب ریکارڈ کی گئی ہے، اس کی تلاش میں کئی ٹیمیں مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔للت جھا سے منسلک مغربی بنگال کی این جی او کی بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس این جی او کی فنڈنگ ?کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔ للت جھا اس این جی او کے جنرل سکریٹری ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ کولکاتا کا رہائشی للت جھا پیشے سے ٹیچر ہے اور سیکورٹی کی خلاف ورزی کے معاملے کا اہم سازشی ہے۔ للت اور دیگر ملزمان انقلابی شہید بھگت سنگھ سے متاثر تھے اور ایسی حرکت کرنا چاہتے تھے جس سے قوم کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں کو ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے جس سے ان کا تعلق کسی دہشت گرد گروپ سے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ تمام چھ افراد سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں آئے تھے اور پھر فیس بک پر بھگت سنگھ کے ‘فین پیج’ سے جڑے ہوئے تھے۔للت ایک استاد تھا، اس نے کمان سنبھالی اور مانورنجن کو مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے تمام داخلی راستوں کی تلاشی لینے کی ہدایت کی۔ تحقیقات سے جڑے ایک افسر نے بتایا، "جولائی میں منورنجن دہلی آئے اور وزیٹر پاس سے پارلیمنٹ کے اندر گئے۔ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ جوتوں کی تلاشی نہیں لی جاتی ہے۔” بدھ کو للت چار دیگر لوگوں کے ساتھ پارلیمنٹ پہنچے۔ ان میں سے صرف دو کے نام پر پاس تھے، لہٰذا للت نے ان چاروں کے فون لے لیے – ساگر، منورنجن، نیلم اور امول۔ افسر نے کہا کہ نیلم اور امول کو پارلیمنٹ کے باہر سے حراست میں لینے کے فوراً بعد للت نے اس واقعے کی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی اور اسے وشال شرما عرف وکی کے ساتھ شیئر کیا، جو اس گروپ کا حصہ تھا۔












