پٹنہ ، 03 جنوری :ہمارا سماج: نئے سال کے موقع پر بہار مدرسہ ایجو کیشن بورڈ کے ذریعہ جاری کلینڈر میں درج تعلیمی اوقات میںکچھ خامیوں کے سبب اہل مدارس میں بے اطمینانی پائی جا ری ہے ۔ اس سلسلے میں آج جے ڈی یو کے رکن قانون ساز کونسل نے مدرسہ بورڈ کے چیئر مین سلیم پر ویز سےملاقات کر کے انہیں ایک مکتوب سونپا اور کہا کہ کلینڈر کی خامیوں کو دور کرتے ہوئے نئے سرے سے اسے جاری کیا جائے ۔ واضح ہو کہ جو نیا کلینڈر جاری ہوا ہے اس میں صبح 9بجے سے لے کر شام 5 بجے تک کے تعلیمی اوقات درج ہیں، اکیڈمک کلینڈر بہار سرکار کی وزارت تعلیم کی مکمل کاپی ہے ۔ ڈاکٹر خالد انور نے مدرسہ بورڈ کے چیئر مین اور سکریٹری کی موجودگی میں کہا کہ بہار کے دینی مدارس پر وزارت تعلیم کا شیڈول نافذ کرنا کہیں کی دانشمندی نہیں ہے ۔ مدرسہ بورڈ ایک اقلیتی تعلیمی اداروں کا بورڈ ہے جو 1981 کے ایکٹ کے تحت چلتا ہے ۔ اسے مکمل سرکاری اداروں کے زمرہ میں نہیں لایا جا سکتا ہے ۔ مسٹر انور نے کہا کہ حق تعلیم ایکٹ 2009 اور نیشنل ایجو کیشن پالیسی 2020 سے بھی مدارس کو مستثنی رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے مدرسہ بورڈ کے ذمہ داران کو بتایا کہ مدارس کی اپنی تہذیب ہے اور اس کو چلانے کا اپنا میکنزم ہے ۔ اس لئے موجودہ کلینڈر کو بورڈ میں لایا جائے۔ مسٹر انور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محترم نتیش کمار نے ہمیشہ مدارس کی روایتو ں کا احترام کیا ہے اور اساتذہ کی تکریم کا خیال رکھا ہے ۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر نظر ثانی کی جائے۔ مسٹر انور نے کہا کہ ظہر کے وقت مڈ ڈے میل کے لئے ڈیڑھ گھنٹہ اور عصر کے وقت جسمانی کھیل کود کیلئے 45 منٹ کا وقت رکھا جائے ۔چیئر مین مدرسہ بورڈ جناب سلیم پر ویز نے سکریٹری جناب عبد السلام انصاری کی موجودگی میں کلینڈر پر نظر ثانی کا حکم دیا۔ مسٹر سلیم پر ویز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مدرسہ بورڈ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے نظریات اور 1981 ایکٹ کے مطابق چلے گا ۔ مدارس کے مفادات اور اس کی روایتوں کا خیال رکھا جائے گا ۔












