نئی دہلی، (یو این آئی) بہار میں صنعت کاری کے ساتھ زرعی صنعت کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمل ناڈو کے سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس (انٹلی جینس)اور کانگریس کے لیڈر بی کے روی نے کہاکہ بہار سے ہجرت روکنے کے لئے ضروری ہے کہ صنعت لگانے ساتھ زرعی صنعت لگانے پر توجہ دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ بہار میں نہ تو وسائل کی کمی ہے اور نہ افرادی قوت کی۔ اس کے باوجودوہاں کے لوگوں کو روزگار کے لئے دوسری ریاستوں کا رخ کرناپڑ رہا ہے اور بعض مرتبہ انہیں ذلت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں کئی چیزیں ہیں جن کی صنعتی یونٹ لگنے سے بہار کے لوگو ں کی نقل مکانی بہت حد تک رک سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بہار جوٹ پیداوار ہوتی ہے جس وہاں وسیع امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں جوٹ کی کوئی یونٹ نہیں ہے ۔آلودگی کے اس دور میں جوٹ سے ماحول دوست اشیاء کے علاوہ سجاوٹ کے سامان بنائے جاسکتے ہیں۔اس سے نہ صرف مردوں کو بلکہ خواتین کو روزگامل سکے گا۔انہوں نے کہا کہ بہار خاص طورپر سیمانچل میں مکا کی پیداوار بہت زیادہ ہے لیکن اس کے پروسیس اور اس سے بننے والی درجنوں کی اشیاء کی کوئی یونٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو ایم ایس پی سے بھی کم قیمت پر مکا کو فروخت کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر بہار میں مکا کے پروسیس کی یونت لگ جائے تو اس سے بھی بہار کے لوگوں کو روزگار مل سکے گا۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح انناس،بانس ہے جس میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ انناس کے جوس لوگوں کی صحت کے لئے بہت مفید ہیں مگر کوئی پروسیسنگ یونٹ نہ ہونے کے سبب انناس کے کسانوں کو مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔ اس کے علاوہ بانس سے تزئین کاری اشیاء کے کرسی، صوفہ اور دیگراشیاء بنائی جاتی ہیں اگراس کی باضابطہ صنعت ہوتو لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے ۔مسٹر روی نے کہاکہ میں نے سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے مذکورہ باتوں پر غور و خوض کیا ہے اور سول سروس کی نوکری چھوڑ کر میں بہت کچھ کرنے کا عزم لیکر آیا ہوں۔انہوں نے کہاکہ وہ اس نظریہ کو توڑنا چاہتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے بہار کے سول سروس کے افسران بہار کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے ۔












