نئی دہلی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج:اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتما م تینتیسواں چھ رزہ ڈراما فیسٹول 8 تا13 جنوری2024 منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں جاری ہے ۔ پہلے دن مشہور مصنف و ہدایت کار گریش کرناڈ کا مشہو ر تاریخی ڈراما ’تغلق ‘ ، دوسرے دن عشق کی مشہور داستان ’سوہنی مہیوال‘، تیسرے دن خدائے سخن میر تقی میر کی زندگی پر مبنی ڈراما ’انسان نکلتے ہیں‘ اور چوتھے دن اردو غزل کے خوبصورت سفر پر مبنی ڈراما ’جان غزل ‘ پیش کیا گیا جس کے مصنف سید مہدی اور ہدایت کار سدھیر ریکھاری تھے ۔اس ڈراما کو تری سمواد فاؤنڈیشن نے پیش کیا ۔ ڈراما اپنے متعینہ وقت شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوا ، اس سے پہلے نوازش مہدی نے ڈرامے کا تعارف اور اردو اکادمی دہلی کے ثقافتی پروگراموں کی تفصیل پیش کی ۔ پردہ اٹھنے کے بعد اسٹیج قوالی کے لیے سجا ہوا تھااور خسرو کی مشہور غز ل سے سفر شروع ہوتا ہے ۔ ساتھ میں گفتگو چلتی رہتی ہے کہ ایک شاعرکی انٹری ہوتی ہے جو غزل کا عاشق ہوتا ہے اور بطور غزل ادکارہ سامنے آتی ہے ۔ اب شاعرو غزل کا سفر ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے جس میں خواجہ بندہ نواز گیسودراز ، سراج اورنگ آبادی ، شاہ مبارک آبرو، آتش ، انشا، سودا، میرتقی میر ، نظیر اکبرآبادی ، مومن، غالب ، داغ دہلوی، اکبر الہ آبادی، مولانا ابوالکلام آزاد ، محسن کاکوروی ، فانی بدایونی ، شاد عظیم آباد، اسر رالحق مجاز، بسمل عظیم آبادی، حسرت موہانی ، مخدوم محی الدین ، جوش ملیح آبادی،فیض احمد فیض اور مجروح سلطانپوری کی غزلوں سے غزل نے حوادث زمانہ ، جذبات دل اور حالات عالم کی جس طرح ترجمانی کی ہے سبھی کو اداکاری میں بہت ہی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ۔اس ڈرامے میں شاہوں کی سیاسی زندگی، آزادی کی لڑائی میں عوا می جو ش و خروش اور خصوصی طور پر مخدوم محی الدین ، فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی کی غزلوں میں جو زندانی حالات رقم ہوئے ہیں اسے اداکاروں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ۔ آخر میں ایک اداکار کا سوال سامنے آتا ہے کہ مان لیتے ہیں غزل نے زندگی کے ہر موضوع کو پیش کیا ہے لیکن غزل سے معاشرہ کیسے سدھر سکتا ہے ۔ تب آخر ی ایکٹ ہوتا ہے کہ غزل صرف راہ دکھاتی ہے بولنے کی طاقت دیتی ہے جب آپ ہی نہیں بولیں گے تب غزل کیا کر لے گی،غزل تو بولنے کی طاقت عطا کرتی ہے جیسے غزل ہی آپ سے کہہ رہی ہے ’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ اور ڈراما اختتام کو پہنچتا ہے ۔ناظرین نے اس خوبصورت دو گھنٹے کے ڈرامے کے ہدایت کار سدھیر ریکھاری کی حوصلہ افزائی کی اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے سات ان کی تعریف کی۔اردو اکادمی ،دہلی کے سینئر اکاؤنٹ آفیسر کلبھوشن اروڑا نے ہدایت کار کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا۔پورا ہال بھرا ہوا تھا بلکہ ناظرین کھڑے ہوکر بھی اس ڈرامے کا لطف لے رہے تھے ۔ اس ڈراما فیسٹول میں ابھی اور دو ڈرامے’ہائے رستم‘ اور ’ غالب کے خطوط ‘ بھی پیش ہونے ہیں ۔












