نئی دہلی ، پریس ریلیز،ہماراسماج:آج 20فروری 2024 کو جامعہ سینئر سکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سالانہ تقریب منعقد کی گئی ۔اس تقریب کے مہمان ذی وقار موجودہ شیخ الجامعہ پروفیسر اقبال حسین تھے ۔ انھوں نے اپنے صدارتی کلمات میں طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے سلسلے میں سر سید احمد خاں کے جو نظریات ہیں ان کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب ملک کسی بھی تعلیمی پالیسی کو نظر انداز کرتا ہے تو ملک غریبی کے ساتھ جہالت کی طرف جاتا ہے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ طلبا میں تحریری، تخلیقی اور تقریری تمام تر صلاحیتیں اسکول میں نہ صرف پروان چڑھتی ہیں بلکہ ان کو یہاں اپنی تمام تر صلاحیتیوں کو نکھارنے کا بھر پور موقع بھی ملتا ہے۔اس میں مہمان خصوصی ڈاکٹر حنیف قریشی (ایڈیشنل سکریٹری منسٹری آف ہیوی انڈسٹریز ، حکومت ہند) نے طلبا کو تعلیم کی اہمیت اور اس کی افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبا کو زیادہ سے زیادہ کتابیں مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کا مطالعہ ہی آپ کی شخصیت کو نکھارنے اور کامیابی کی منزلوں کو طے کرنے کا ضامن ہے۔اس کے علاوہ مہمان اعزازی ڈاکٹر خواجہ محمد رفیع(ڈائرکٹر میوات انجینیرنگ کالج ) نے زندگی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی بھی حال میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر چہ امتحان میں نمبر کم ہی آ ئیں۔آپ کو لگاتار اپنی علمی صلاحیت و لیاقت کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ اپنے زندگی کے ساتھ اپنے ملک اور قوم کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں اور صرف نوکری پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود کو نوکری دینے والا بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔دوسرے مہمان اعزازی محترمہ روچیکا کیم(ریجنل ڈائرکٹر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی) نے طلبا و طالبات کو اسکولی زندگی کو بھر پور جینے اور تعلیم سے متعلق اپنی دلچسپی کو برقرار رکھنے اور بہتر مستقبل کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی ۔اس موقع پر ندیم احمد (دائرکٹر شیکھر فاؤنڈیشن ) نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی این جی او کی جانب سے جامعہ اسکول کے دسویں اور بارہویں جماعت میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو دس ہزار روپئے بطور انعام دئیے جائیں گے۔اس موقع پر جامعہ سینئر سکنڈری اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد ارشد خان نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اسکول کی کار کردگی سے متعلق سالانہ رپورٹ بھی پیش کیا ۔اس کے علاوہ اس میں اسکول کے سالانہ میگزین ’’امنگ2024‘ اور بچوں کے ذریعہ تیار کردہ کتاب ’’Through out the windows of the class room”کا اجرا بھی عمل میں آیا ۔












