نئی دہلی پریس ریلیز،ہمارا سماج:سندر نرسری اگر چہ تفریحی مقام ہے جہاں پر لوگ گھر والوں کے ساتھ ہواخوری اور تفریح و پکنک کے لیے آتے ہیں وہ باغ ابھی چار دنوں بائیس تا پچیس فروری کے لیے جشن اردو کا مرکز بنا ہوا ہے ۔تیسرے روز غزل سرائی ، اردو میں رام لیلا ، رامائن اردو کے آئینے میں ڈراما اکبر دی گریٹ نہیں رہے ، عشق صوفیانہ اور محفل غزل کا پروگرام پیش کیا گیا ۔تیسرے دن سرکاری و تعلیمی اداروں میں چھٹی کے سبب سندر نرسری میں بہت ہی زیادہ چہل پہل تھی،جشن اردو کے سامعین و ناظرین تو پہلے ہی سے موجود تھے البتہ جو گھومنے آئے تھے انہیں اردو کے اس خوبصورت جشن میں شریک ہونے کا بہترین موقع بھی ملا ۔ پہلاپرو گرام غزل سرائی سے شروع ہوا ، جس میںجواہر لال یونی ورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونی ورسٹی ، دیال سنگھ کالج، ذاکر حسین کالج ، سینٹ اسٹیفین کالج ، جامعہ ہمدرد اور کر وڑی مل کالج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔غزل سرائی میں اول انعام ادیتی ورما ، دوم سید ابو ذر ، سوم یسریٰ اورمحمد مومن جبکہ حوصلہ افزا انعام نورالزماں اور منتشاخاںکو دیا گیا ۔ اس پروگرام میں ججز کے فرائض پروفیسر رحمان مصور اور معین شاداب انجام دیے ۔ پروفیسر رحمان مصور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سبھی طلبہ نے عمدہ غزل سرائی کا مظاہر ہ کیا سبھی اچھے تھے تاہم درجہ بندی تو مجبوری ہے البتہ سبھی کو مبار کباد ۔ معین شاداب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پیش کش میں معیار ، نغمگی اور تلفظ کا بہت ہی زیادہ دھیان رکھنا پڑتا ہے آج کے پروگرام میں اس کا خیال بخوبی رکھا گیا تھا۔












