اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے ملک میں موجود بیشتر ملی ادارے ملت کے لئے بے فیض ہو چکے ہیں ۔جبکہ وہی ادارے دشمنان ملت کے لئے دودھ دینے والی گائے ثابت ہو رہے ہیں ۔گذشتہ روز جب میں نے دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر سے متعلق چند جملے لکھے تو متعدد اصحاب نے اپنے تاثرات نام مخفی رکھنے کی شرط پر واٹس ایپ کال کے ذریعہ دئے اور جو حقائق بتائے وہ نہایت تشویشناک ہیں ۔یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ سراج الدین قریشی نے اس ادارے کو نہ صرف اپنی کمپنی کا کارپوریٹ دفتر بنا لیا ہے بلکہ ممبران کی اکثریتی تعداد اپنے حواریوں کے رکھے اور اس تناسب میں کوئی کمی نہ آنے دی تاکہ انتخاب میں ان کی یقینی فتح ہو ۔اور یہی وجہ ہے کہ کئی بار بڑے بڑے لوگوں کی کوششوں کے باوجود سراج الدین قریشی کو شکست دینا ناممکن ہو گیا ۔ یہ صرف زبانی باتیں نہیں ہیں کہ موصوف نے اس ادارے کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا کام یہی کیا کہ دہلی اور دہلی کے نواح سمیت پورے ملک اور بیرون ملک تک ایک مہم چلا کر اپنے قریبیوں کی ممبر سازی کی اور اس سلسلے میں ان کی فیس کا انتظام بھی خود ہی کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ کسی بھی انتخاب میں انہیں شکست دینا ناممکن ہو گیا کیونکہ عین وقت پر ان کے وہ حواری ووٹ دینے آ موجود ہوتے جو مختلف شہروں میں رہتے ہیں ،یا شہر میں بھی رہتے ہیں تو انہیں نہ تو کلچر کا علم ہے اور نہ اسلام کا ۔انہیں تو بس "گوش "کھانے اور کھلانے سے دلچسپی ہے وہ ملکی سطح پر ہو یا غیر ملکی سطح پر ۔سراج صاحب کی مہر بانی سے ان کا یہ کام بخوبی ہوتا بھی رہا ہے کیونکہ موصوف نے اپنی صلاحیت اسی سلسلے میں سرف بھی کی ہے کہ کس طرح برسر اقتدار پارٹی سمیت اپوزیشن کے مخصوص رہنماؤں کے در پر جبہ سائی ہوتی رہے تاکہ ان کے کاروبار پر کوئی آنچ نہ آئے ۔آپ کہینگے کہ یہ کون سی برائی ہے ؟ہر آدمی اپنے کاروبار کو پھیلانے اور محفوظ رکھنے کے لئے یہ کرتا ہے ۔یقینا مجھے یہ کہنے کا اس وقت کوئی حق نہ ہوتا اگر موصوف صرف بزنس مین ہوتے ۔لیکن میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ ملت کے ایک اتنے بڑے ادارے کے سربراہ بن کر مسلسل اس ادارے کو اپننے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کر تے رہے ہیں ۔جس کے قیام کا مقصد قطعی وہ نہیں تھا جو اب وہاں ہو رہا ہے ۔افسوسناک خبر یہ بھی ہے کہ جب سے مرکز میں سرکار بدلی ہے انہوں نے بلا خوف ہو کر جھنڈے والان سے اس ادارے کا رشتہ مزید گہرا کر دیا ہے اور اب تو کہا یہ بھی جارہا ہے کہ جھنڈے والان کے وہ مہانوبھاؤ جنہوں نے دس برسوں سے ملک کے مسلمانوں کا ٹینڈر لے رکھا ہے اور یہ بھی حسن اتفاق ہی ہے کہ اکثر "لو جہادی "مسلمان اس کوچہ کی سیر کرتے ضرور نظر آجاتے ہیں ۔اب جس پر بھائی صاحب کی نظر عنایت ہو گئی وہ نواز بھی دیا جاتا ہے ۔یہ گتھی ہنوز کھلنے سے باقی ہے کہ آیا اس کوچہ کی سیر اکثر لو جہادی مسلمان ہی کیوں کرتے ہیں ؟جبکہ انہیں تو جھنڈے والان سے دور دور ہی رہنا چاہئے ۔لیکن اس موضوع پر پھر کبھی بات ہوگی فی الحال جو اطلاعات ہیں اس کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جھنڈے والان کا انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر سے قارورہ ملتا ہے اور اب اس کے اپروول پر ہی اسلامک کلچرل سنٹر کا پتہ بھی ہلتا ہے ۔مجھے نہیں معلوم کہ آخر جھنڈے والان کے بھائی صاحب کو اس شخص سے "لو جہاد "کی بدبو کیوں نہیں آتی ؟لیکن افسوس تو اس کا بھی ہے کہ آخر فرزندان ملت کو یہ کب نظر آئے گا کہ 80کی دہائی میں قائم کیا گیا یہ ملٹی پرپس ادارہ ملت کے لئے کار آمد ہو سکتا تھا لیکن اسے ایک شخص کی ریشہ دوانیوں نے عضو معطل بنا دیا ۔
آج آنکھ اٹھا کر سارے ملک میں دیکھ لیں ،آپ کو کوئی ایسا ادارہ نظر نہیں آئے گا جہاں روشن خیال مسلمانوں کا ،بیورو کریٹ مسلمانوں کا،کھلے ذہن اور مسلک بیزار مسلمانوں کا ،تعلیم یافتہ صحافیوں ،ادیبوں ،شاعروں ،دانشوروں ،پروفیسرس کا کوئی ایسا کلب ہو جہاں بیٹھ کر ملک کے مسلمانوں کے مستقبل پر بات ہو سکے ۔موجودہ سیاسی منظر نامہ کی روشنی میں یہ طئے کیا جا سکے کہ آخر بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے ؟کیوں موجودہ حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو جن کی آبادی کم و بیش پچیس کروڑہے عضو معطل ہی نہیں ویلن بنا دیا گیا ہے ؟جبکہ ملک میں ابھی تک آئین بھی موجود ہے اور قانون بھی نافذ ہے ؟
اسلامک کلچرل سنٹر کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا کہ روشن خیال مسلمانوں کا ایک ایسا کارواں یہاں ترتیب دیا جائے جو ملک میں موجود مسلکی اداروں سے اوپر اٹھ کر ایک بار پھر سر سید ، ابوالکلام آزاد ، مظہر الحق،جیسے روشن خیال اور محب وطن مسلمانوں کے افکار و خیالات کی وراثت کی بازیافت کرنے کے لئے نہ صرف سر جوڑ کر بیٹھیں بلکہ اس ادارہ کو اکیسویں صدی کی سائنٹفک سوسائٹی بنا دیں ،ایک ڈیجیٹل لیباریٹری، ایک ایسا ریسرچ سنٹر جہاں سے ایک بار پھر علم و عمل کی روشنی پھوٹے ۔یہ بات یاد رکھیں کہ یہ ملک ہمارے اجداد کی میراث ہے اور جس طرح صدیوں پہلے ہمارے اکابرین نے اس ملک کے ایک ایک چپے پر اپنے سجدوں کے نشان سمیت اپنی سعی و جدوجہد کے نشان ثبت کئے ہیں ایک بار پھر ہمیں کشادہ دلی کے ساتھ آگے بڑھ کر اس ملک کو نفرت و کدورت کے مصنوئی موسم سے نجات دلانی ہوگی ۔ لیکن اس علم و عمل کے روشن شاہراہ تک جانے کے لئے ہمیں پہلے ایک بار اپنی ہی صفوں میں موجود مفاد پرست اور بزدل افراد کی شناخت کر کے انہیں ایکسپوز کرنا ہوگا ورنہ وہ گھن کی طرح نہ صرف ملت بلکہ ملک کو بھی کھوکھلا کر دینگے ۔












