نئی دہلی ،پریس ریلیز،ہماراسماج:حبیب سیفی ؔ کی دسویں تصنیف آسان پہیلیاں ( مع جواب ) کی رسم رونمائی بمقام سی جی او کمپلیکس دفتر ماہنامہ آجکل اُ ردو لودھی روڈنئی دہلی میں عمل میں آئی ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی عالمی شہرت یافتہ فکشن نگار احمد صغیر اور ہفت روزہ صدائے انصاری کے ایڈیٹر انصاری اطہر حسین کے علاوہ آجکل اردو کی ٹیم بھی شامل رہی،کچھ وقفہ کے لیے آجکل ہندی شعبے کی بھی شرکت ہوئی۔ رسم رونمائی کے مہمان فکشن نگار احمد صغیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہمہ جہت قلمکار کے طور پر حبیب سیفیؔ اردو ادب میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔معروضات ِ حبیب کے نام سے ان کے فن کی (تحقیق وتنقید ) اور شخصیت پر بھی دو سال قبل ڈاکٹر محمد معین الدین استاد شعبئہ اردوذاکر حسین دہلی کالج دہلی ترتیب دے چکے ہیں۔کئی صوبائی اردو اکادمیوں کی جانب سے بھی ان کی تنقیدی و ادبی خدمات پر اعزازات پیش کیئے جاچکے ہیں۔بچوں کے ادب میں بھی حبیب سیفیؔ کی سائنسی نظمیں انفراد رکھتی ہیں۔لیکن آسان پہیلیاں منظوم لکھ کرحبیب سیفیؔنے گم شدہ صنف کی بازیافت کی ہے۔ میں ایسا اس لئیے کہہ رہا ہوں کہ امیر خسروؔ نے بچوں کے ادب سے متعلق پہلیاں اور کہہ مکرنیاں لکھیں،افسوس اُردو زبان میں پہیلیوں کے لکھنے کا چلن ختم سا ہوتا جارہا ہے ،اکیسویں صدی میں یہ صنف ادباء کی توجہ چاہتی ہے ۔ کون بنے گا کروڑ پتی کے طریقے پر چار جوابات میں سے ایک جواب درست لکھا ہے جسے بچے اپنے ذہن پر زور ڈال کر نشان زد کریں گے،پہیلیاں لکھنے کا یہ کام حبیب سیفیؔ نے بچوں کی معلومات میں اضافہ کی نیت سے ایک نئے انداز سے کیا ہے،میں مبارکباد دیتا ہوں۔پہیلیوں کا یہ مجموعہ بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔انصاری اطہر حسین نے کہا کہ بچوں کے ادب کی موجودہ صورتحال اطمینان بخش اس لیے ہے کہ بعض لکھنے والے بچوں کاادب وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے لکھ رہے ہیں،ایسا کرنے والوں میں حبیب سیفیؔ بھی شامل ہیں۔رہی بات پہیلیوں کی تو اردو زبان کے بر عکس ہندی میں ضرور کبھی کبھار پہیلیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں،لیکن اردو میں طفلان ادب پر پہیلیاں نہیں لکھی جاتیں،جس سے بچوں کے پسندیدہ مشغلے اور ان کے مزاج میں بدلاؤ بھی آیا ہے۔ آسان پہیلیاں ( مع جواب) میں موضوع کی مناسبت سے لائن آرٹ تصویریں ہیں،بچوں کو مرعوب کرنے کی خوبی سے مزین سرورق کی مہمان احمد صغیر، انصاری اطہرحسین و معاون آجکل اردو نرگس سلطانہ کے ساتھ دیگر شراکاء نے بھی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے حبیب سیفیؔ کو مبارکباد پیش کی ۔












