مرادآباد(ناظم منصوری) سائبر ٹھگی کے معاملات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ اطلاع کے مطابق تھانہ نوگاواں سادات تھانہ علاقہ کے مرزا پور کی ساکنہ سندیا راجپوت نے کمپٹیشن کی تیاری کے لئے آن لائن کتابےں منگانے کا آرڈر دیا تھا اس کے کھاتہ سے رقم تو کٹ گئی مگر اسے کتابیں موصول نہیں ہوئیں تو سندیا نے بک سیلر کے کسٹمر کئےر نمبر پر رابطہ کیا۔ کال پر اسے ایپ ڈاون لوڈ کرایا گےا تو اس کے کھاتہ سے ایک لاکھ ۷ہزار روپئے کسی دوسرے کھاتے میں ٹرانسفر ہو گئے۔ دوشیزہ نے معاملہ کی شکاےت سائبر سیل سے کی۔ ادھر تھانہ کٹگھر کے گووند نگر علاقہ کے ساکن سی ایم او آفس کے یونٹ انچارج دنیش کے انڈین بینک کے کھاتہ سے سائبر ٹھگوںنے دو بار دس دس ہزار روپئے اور ایک بار ایک ہزار روپئے کسی دوسرے کھاتہ میں ٹرانسفر کر لئے انہوں ںے بینک اور سائبر سیل میں معاملہ کی شکاےت کی جبکہ امروہہ کے سید نگلی تھانہ کے اجاری علاقہ کے ساکن کسان بلال نے شکاےت درج کرائی ہے کہ ۴۱نومبر کو ان کے موبائل پر نا معلوم شخص کی کال آئی کہ بلال کا کھاتہ بند ہونے والا ہے کال کرنے والے نے خود کو بینک کا ملازم بتاتے ہوئے بلال کے آدھار کارڈ کے آخری چار نمبر معلوم کئے اور او ٹی پی معلوم کیا۔ بلال نے کھاتہ میں بیس ہزار روپئے ڈلنے کے کچھ دےر بعد ہی ان کے موبائل پر ان کے دس ہزار روپئے کسی دوسرے کھاتہ میں ٹرانسفر ہونے کا میسج آیا بلال نے پولیس میں معاملہ کی شکاےت درج کرائی۔ دریں اثناءکندرکی کے ساکن شیو کمار بینک منیجر کے کھاتہ پر ۱۲نومبر کو کال آئی کال کرنے والے نے اپنا نام سدھو لال بتاےا ور شیو کمار سے کے وائی سے اپڈےٹ کرنے کو کہہ کر ان کا آدھار کارڈ پوچھا۔ نمبر بتاتے ہی شیو کمار کے کھاتہ سے ساڑھے پندرہ ہزار روپئے کٹ گئے انہوں نے معاملہ کی شکاےت سائبر سیل میں درج کرا دی ہے ۔ سبھی معاملوں کی جانچ جاری ہے۔
کورونا اور ڈےنگو کے بعد اب سیپٹیما کی دستک ، دو کی موت












