نئی دہلی (یواین آئی)سپریم کورٹ نے شراب گھپلے کے معاملے میں دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بڑی راحت دی ہے ۔ سپریم کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں اروند کیجریوال کو عبوری ضمانت دے دی ہے ۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ 3 ججوں کی بنچ کو بھیج دیا ہے ۔ اروند کیجریوال نے ای ڈی کی گرفتاری کو چیلنج کیا تھا۔ ای ڈی نے اروند کیجریوال کو منی لانڈرنگ کیس میں 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔جسٹس سنجیو کھنہ کی صدارت والی بنچ نے یہ فیصلہ دیا۔ بنچ نے 17 مئی کو اروند کیجریوال کی عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ بنچ میں جسٹس دیپانکر دتہ بھی شامل تھے ۔ 15 اپریل کو سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں اروند کیجریوال کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر ای ڈی سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کو چیلنج کرنے والی اروند کیجریوال کی درخواست پر اروند کیجریوال کو عبوری ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے معاملہ بڑی بنچ کو بھیج دیا ہے ۔ اس کے بارے میں دہلی حکومت کے وزیر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر پی ایم ایل اے کے تحت وزیر اعلیٰ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے تو یہ پورے ملک میں اس قانون کے غلط استعمال کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل ثابت ہوگا اور بہت سے لوگ اس فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے ملک کے آئین کو مضبوط کرے گا۔فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اروند کیجریوال 90 دن جیل میں گزار چکے ہیں۔ وہ ایک منتخب لیڈر ہیں۔ یہ ان پر منحصر ہے کہ آیا وہ وزیراعلیٰ کے کردار میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ اروند کیجریوال کو ای ڈی گرفتاری کیس میں عبوری ضمانت مل گئی ہے ۔ تاہم سی بی آئی سے متعلق کیس کی سماعت ابھی باقی ہے ۔ اروند کیجریوال کیس کی سماعت تین ججوں کی بنچ کرے گی۔ مسٹر کیجریوال نے دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں ای ڈی کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آج اس پر فیصلہ سنایا۔ اروند کیجریوال کی عرضی پر فیصلے کے وقت کیجریوال کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور ای ڈی کے وکیل ایس جی تشار مہتا عدالت میں موجود تھے ۔ اس دوران سپریم کورٹ نے تین سوالات طے کئے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے معاملے کو بڑی بینچ کے سامنے بھیج دیا۔دوسری جانب عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے جمعہ کو چیف منسٹر اروند کیجریوال کو سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی عبوری ضمانت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچائی کی جیت اور بی جے پی کی سازش کی شکست ہے ۔اے اے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور ایم پی ڈاکٹر سندیپ پاٹھک نے آج نامہ نگاروں کو بتایا،کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پورے ملک کے لئے تاریخی ہے ۔ عدالت کے کچھ فیصلے ہوتے ہیں جو ملک کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ عدالتی حکم نے بی جے پی کے ذریعہ بنائے گئے نام نہاد شراب گھپلہ کو منہدم کردیا ہے ۔ اس سے قبل منی لانڈرنگ کی روک تھام کی خصوصی عدالت (پی ایم ایل اے ) کے حکم نے بھی اس کیس کی سچائی کو ملک کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔ نچلی عدالت کے بعد جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے آیا تو ایک بڑا سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ کیا پوری گرفتاری غیر قانونی ہے ؟ عدالت نے اس کیس کا مطالعہ کرکے اسے بڑی بنچ کو بھیج دیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ جو بھی کرے گی وہ ملک کے لیے اچھا ہو گا اور وہ مستقبل میں ملک کو سمت دے گی۔ عدالت نے اروند کیجریوال کو عبوری ضمانت دے دی ہے ۔ غور طلب ہے کہ پی ایم ایل اے کیس میں تمام دلائل اور شواہد کو سننے اور دیکھنے کے بعد ہی کسی کو ضمانت یا عبوری ضمانت دی جاتی ہے ۔ڈاکٹر پاٹھک نے کہا، ”بی جے پی کو ہر عدالت میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ کیس اس کا بنایا ہوا سرکس ہے جسے اب بند کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک اور دہلی کے لوگوں کا وقت ضائع نہیں ہونا چاہیے ۔ ہر وزیر اعظم اور اس کے دور میں کوئی نہ کوئی کامیابی ہوتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دور میں ملک کو ایک ایسا آمرانہ نظام دیا گیا ہے ، جس میں اگر وہ کسی سیاسی جماعت کو سامنے سے شکست نہیں دے سکتے تو اسے غلط طریقے سے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ جعلی مقدمات میں بند کر دیا جاتا ہے ۔ یہ رکنا چاہیے ۔’’دہلی کی وزیر تعلیم آتشی نے کہا کہ راؤس ایونیو کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ مسٹر کیجریوال کی گرفتاری اور پچھلے دو برسوں سے جاری نام نہاد شراب گھپلہ کے نام پر اے اے پی کے لیڈروں اور وزراء کی ‘وچ ہنٹنگ’ صرف بی جے پی کی رچی ہوئی سازش ہے ۔ بی جے پی نے دہلی کی اے اے پی حکومت اور دہلی کے لوگوں کے کام کو روکنے کے لیے یہ ساری سازش رچی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کو ضمانت دیتے ہوئے نچلی عدالت نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور ای ڈی اس معاملے میں جانبدارانہ رویہ اپنا رہی ہے ۔ آج نچلی عدالت کے اس فیصلے پر سپریم کورٹ نے بھی مہر لگا دی ہے ۔محترمہ آتشی نے کہا کہ ملک کی عدلیہ نے ایک کے بعد ایک بی جے پی کی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے ۔ عدالت نے صاف کہا ہے کہ مسٹر کیجریوال کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ بی جے پی اپنا غرور اور تکبر ختم کرے اور اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سازشیں بند کرے ۔ سچائی خواہ پریشان کن ہو سکتی ہے لیکن اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ مسٹر کیجریوال کی ضمانت سے ملک پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ پہلے بھی سچائی کے ساتھ کھڑے تھے ، آج بھی کھڑے ہیں اور مستقبل میں بھی کھڑے رہیں گے ۔اے اے پی کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ضمانت کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ مسٹر کیجریوال اس معاملے میں پہلے ہی 90 دن سے جیل میں ہیں، اس لئے انہیں عبوری ضمانت دی جائے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ مسٹر کیجریوال کے خلاف ایک مقدمہ ہے اور ایسی صورتحال میں کوئی قانون یا عدالت یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ وہ وزیر اعلیٰ رہ سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ صرف مسٹر کیجریوال ہی کر سکتے ہیں۔












