نئی دہلی (سماج نیوز سروس)آسام حکومت نے آج ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ ریاست میں مسلم شادی قانون کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ جانکاری دی۔وزیر اعلی ہمانتا بسوا سرما نے ٹویٹر پر لکھا، ‘ہم نے بچپن کی شادی کے خلاف اضافی حفاظتی اقدامات اٹھا کر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ آج کابینہ کی میٹنگ میں، ہم نے آسام مسلم میرج اینڈ طلاق رجسٹریشن ایکٹ اور رولز 1935کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل، آسام حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ شادی اور طلاق کے رجسٹریشن کے معاملات میں برابری لائی جائے گی۔ بالآخر جمعرات کو اس پر بڑا فیصلہ لیا گیا۔ جمعرات کو کابینہ کی میٹنگ میں آسام ریپیلنگ بل یعنی آسام ریپیل آرڈیننس کو منظوری دی گئی۔ سی ایم ہمنتا کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد آسام مسلم میرج اینڈ طلاق رجسٹریشن ایکٹ 1935 کو منسوخ کرنا ہے۔












