لبنان:اسرائیل نے بدھ کے روز ایک ڈرون حملے کے دوران لبنان میں فلسطینی اتھارٹی کی حکمران جماعت فتح کے رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ اسرائیلی حملہ جنوبی علاقے کے شہر سیدون میں کیا گیا۔ ہلاک ہونے والے فتح کے سینیئر ممبر تھے، اس امر کی سیکیورٹی زرائع نے بھی تصدیق کر دی ہے۔سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور آٹھ اکتوبر سے لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ اور اسرائیلی قابض فوج کے درمیان جاری جھڑپوں کے آغاز سے اب تک پہلا موقع ہے کہ محمود عباس صدر فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی جماعت فتح کے کسی رہنما یا ممبر کواسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا ہے۔فتح کے سینیئر ممبر فتحی ابو ارادات نے بتایا ہے کہ سیدون میں اسرائیلی فوج کی طرف سے حملے میں ہلاک کیے گئے فتح کے ذمہ دار کا نام خلیل مکدہ ہے۔ لبنانی سیکیورٹی حکام نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ خلیل مکدہ کی کار پر کیا گیا تھا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘ اے ایف پی ‘ کے نمائندے نے موقع پر جا کر دیکھا تو معلوم ہوا یہ واقعہ عین الحیلویہ نامی پناہ گزین کیمپ کے نزدیک پیش آیا تھا۔ یہ پناہ گزین کیمپ فلسطینیوں کے لیے قائم ہے جہاں وہ طویل عرصے سے پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ‘ ریسکیو کرنے والی ٹیم نے خلیل مکدہ کو ان کی گاڑی سے باہر نکالا مگر وہ اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے تھے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی یہی رپورٹ کیا ہے کہ خلیل مکدہ کو اسرائیلی فوج نے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا ہے۔ خلیل مکدہ لبنان میں فتح کے سربراہ منیر مکدہ کے بھائی تھے۔ منیر مکدہ فتح کے مسلح ونگ الاقصیٰ شہدا بریگیڈز کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بھائی الاقصیٰ بریگیڈز کے کمانڈر تھے۔دوسری جانب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان معمول کی گولہ باری بدھ کے روز بھی جاری رہی۔












