کیف(ہ س)۔یوکرین کی جانب سے روس کے شہر کرسک پرحملے کو روس کی سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف یوکرینی وزیر خارجہ نے اس حملے کا دفاع کیا ہے۔العربیہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یوکرینی وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے روسی سرزمین پر اپنے ملک کے حملے کے حوالے سے زور دے کر کہا کہ ’کرسک‘ میں دراندازی کا مقصد یوکرین کا دفاع تھا۔انھوں نے جمعرات کے روز العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں مزید کہا کہ ’کرسک‘ ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں سے روس نے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ کرسک آپریشن انٹیلی جنس معلومات پر مبنی یوکرین کا فیصلہ تھا۔ کیف نے کرسک آپریشن سے پہلے امریکہ یا یورپ سے منظوری نہیں لی تھی۔انہوں نے کہا کہ روسی فوجی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے سے یوکرین میں جانیں بچیں گی۔ کرسک آپریشن نے روس کے خلاف جنگ کے توازن میں توازن بحال کیا۔یوکرینی وزیر خارجہ نے نیٹو کے رکن ہونے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیف یورپی یونین میں شمولیت کی جانب تیزی سے قدم بڑھا رہا ہے۔ہنگری کے ساتھ تنازعات کے بارے میں ان کاکہنا تھا کہ ان اختلافات کو حل کیا جا سکتا ہے۔امریکہ میں رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں یوکرینی وزیرخاجہ نے کہا کہ ٹرمپ یوکرین کے حوالے سے کوئی مختلف انداز اختیار نہیں کریں گے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل یوکرین نے اعلان کیا کہ اس نے تمام روسی سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کے ملک نے روس کی جانب سے مقرر کردہ سرخ لکیروں کو عبور کیا اور ان شواہد کو کم کیا جو اس کی فتح کا دعویٰ کرتے تھے۔العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اتحادیوں سے اپنے ملک کو میزائل فراہم کرنے اور روس کے اندر گہرائی میں فوجی اہداف پر حملہ کرنے پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔دوسری طرف یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے کرسک صوبے میں یوکرینی افواج کے حملے کا خیرمقدم کیا اور اس حملے کو اسٹریٹیجک جرات” قرار دیا۔












