نئی دہلی، : کانگریس نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت سب سے بڑا بحران مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑرہاہے ، اس لیے حکومت کو سرمائی اجلاس میں ان دونوں مسائل پر بحث کرنی چاہیے ۔کل جماعتی میٹنگ میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ صرف ایک دن میں الیکشن کمشنر کی تقرری، معاشی طور پر کمزور طبقات کیلئے کوٹہ اور بے روزگاری پر پارلیمنٹ کے سیشن میں بحث ہونی چاہیے ۔ مسٹر ادھیر رنجن چودھری نے نامہ نگاروں سے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اجلاس کی تاریخ طے کرتے وقت تمام مذاہب کے لوگوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی تاریخ طے کرنے سے پہلے کرسمس جیسے تہوار کا بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ جس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہوار ہوتے ہیں، اسی طرح عیسائیوں کے بھی اپنے تہوار ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بھی تہوار منانے کا موقع دینا چاہیے ۔ ان کی آبادی کم ہے لیکن ان کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے ۔ ہم سیشن کو کم کرنے ، تہوار منانے کیلئے سیشن بند کرنے کیلئے نہیں کہہ رہے ہیں، بلکہ حکومت کو اس کے بارے میں سوچنے کیلئے کہہ رہے ہیں‘۔ واضح رہے کہ کل سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے قبل حکومت نے کل جماعتی اجلاس طلب کیا جس میں حکومت کے مطابق 47 میں سے 31 جماعتوں کے قائدین نے حصہ لیا۔ حکومت نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بہت سی تجاویز آئی ہیں اور حکومت ان پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ لیڈروں نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کرسمس کا خیال نہ رکھنے کی بات کی ہے ، جو سراسر غلط الزام ہے۔ وہیں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، ہندوستان -چین سرحد پر صورتحال اور دیگر مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے ، جبکہ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ قواعد و ضوابط پر عمل کرے گا۔بدھ کو شروع ہونے والے اجلاس سے قبل منگل کو بلائے گئے کل جماعتی اجلاس میں اپوزیشن کے رویے کو دیکھتے ہوئے سرمائی اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے ۔میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں اور راجیہ سبھا میں قائد ایوان پیوش گوئل کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ میں پارلیمنٹ کو آسانی سے چلانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے اجلاس میں 31 جماعتوں نے شرکت کی اور اپنی تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی تمام تجاویز کا نوٹس لے گی اور اس پر بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں غور کیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ حکومت قواعد و ضوابط کے مطابق اور لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کی اجازت سے تمام مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ان کی پارٹی نے مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، ہندوستان -چین سرحد پر صورتحال، مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال اور دیگر مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں مرکز اور عدلیہ کے درمیان کشمکش جیسے مسائل کو پارلیمنٹ میں زور و شور سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرسمس کی دو دن کی چھٹی ہے اور اگر اپوزیشن نے زیادہ اصرار کیا تو بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں 26 تاریخ کی چھٹی پر بھی غور کیا جائے گا۔












