• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
پیر, مئی 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home قومی خبریں

مشہور ،بے باک صحافی اور ہمارا سماج کے ایڈیٹر ” عا مر سلیم ” کی رحلت پرمشہور شحضیات کا اظہار تعزیت

بے با ک صحا فی " عا مر سلیم " کی رحلت ، ناقابل تلافی خسارہ

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 13, 2022
0 0
A A
مشہور ،بے باک صحافی اور ہمارا سماج کے ایڈیٹر ” عا مر سلیم ” کی رحلت پرمشہور شحضیات کا اظہار تعزیت
Share on FacebookShare on Twitter
  1. ایران کلچرہاؤس نئی دہلی کے کلچرل کاؤنسلر ڈاکٹر علی ربانی کا اظہار تعزیت
    یہ خبر ہمارے لئے شدید رنج وغم کا باعث بنی کہ روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر مرحوم عامر سلیم خان اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے۔انّا للّٰہ وانّا الیہ راجعون۔عامر سلیم خان ایک بہت ہی فعال اور نامور صحافی تھے اردو صحافت میں ان کا شمار قابل احترام صحافیوں میں ہوتاہے ۔ ان کے انتقال سے اردو صحافت ایک ممتاز اور سینئر صحافی سے محروم ہوگئی۔مرحوم عامر سلیم نے بحیثیت ممتاز صحافی ۲۰۱۹ء میں آپ نے ایران کا سفر بھی کیا جس میں آ پ نے تمام پروگراموں کی رپورٹنگ ایران سے کی اور دہلی کے مشہور اخبار ہمارا سماج جس کے وہ ایڈیٹر بھی تھے شائع ہوتی رہی۔ان کے اچانک انتقال پر میں ان کے خانوادے کی خدمت میں تعزیت پیش کرتاہوں۔مرحوم ایران کلچرہاؤس نئی دہلی کی جانب سے منعقد ہونے والے تمام پروگراموں میں شرکت کرتے تھے اورہماری تمام خبروں کو بہتر انداز میں شائع کرتے تھے ۔مرحوم کو۲۰۲۱ء؁ میں ایران کلچرہاؤس کی جانب سے قومی صحافتی ایواڈ سے نوازا جا چکا ہے۔صحافت سے متعلق مرحوم کی اس عظیم و قابل قدر خدمات کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔میں مرحوم کے فرزندگان و تمام متعلقین وپسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتاہوں۔
    بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔
    مسؤل روابط عمومی
    ایران کلچرہاؤس ، نئی دہلی

عامر سلیم خاں کا انتقال ایک ناگہانی دردناک حادثہ: پروفیسر اخترالواسع
نئی دہلی، ۱۲؍دسمبر: ملک کے ممتاز دانشور اور خسرو فاؤنڈیشن کے چیئرمین پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ اردو کے نامور صحافی جناب عامر سلیم خاں کا انتقال ایک ناگہانی دردناک حادثے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوں تو موت برحق ہے لیکن صرف ۴۸؍سال کی عمر میں دو دہائی سے زیادہ کے صحافتی کیریئر والے عامر سلیم اپنی شخصیت کی دلآویزی طبیعت کے انکسار اور لوگوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے والے ایک انسان کی حیثیت سے ان کی موت بلاشبہ ایک انتہائی ایک تکلیف دہ سانحہ ہے۔
پروفیسر اخترالواسع نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ دل کے مریض تھے لیکن اب عارضہ قلب اتنا مہلک بھی نہیں رہا ہے کہ اتنی جلدی اور اتنی کم عمر میں کسی کا دیکھتے ہی دیکھتے انتقال ہو جائے۔ عامر سلیم کی یاد مجھ سمیت ان سب لوگوں کو دیر تک ستاتی رہے گی جن سے ان کا تعلق تھا۔ میں ان کے خاندان کے لوگوں، صحافی ساتھیوں، خاص طور سے خالد انور صاحب کو جذباتِ تعزیت پیش کرتا ہوں اور خدا سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو اس ناگہانی اور شدید صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(پرویز احمد)
دفتر سیکریٹری
موبائل:۹۹۵۰۵۵۹۰۶۷

بے با ک صحا فی ” عا مر سلیم ” کی رحلت ، ناقابل تلافی خسارہ ۔ مولانا نظام الدین فخرالدین ، پونے ۔
آج مؤرخہ ۱۳/ دسمبر ۲۰۲۲ء روزنامہ ” ا نقلاب ” ممبئ کے صفحہ نمبر ۵/پر اردواخبار ” ہمارا سماج ” کے ایڈیٹر جناب عامر سلیم کے انتقال کی خبر پڑھ کر رنج و ملا ل ہوا ۔ جب بھی دھلی کا سفر ہوتا ہے تو میرا قیام مہدیان میر درد روڈ ، دفتر مرکزی جمعیتہ علماء ہند میں رہتا ہے ۔ ا س کی کئ ایک وجوہات ہیں ۔ ایک تو یہ کہ حضرت مولانا فضیل احمد قاسمی ؒ سے بہت عرصہ سے دیرینہ تعلق تھا ، پھر یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں جبالِ علم وفضل حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ ، حضرت شاہ عبد الرحیم ؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث ؒ ، بلکہ ولی اللہی خاندان آرام فرمارہے ہیں ، ان اکابرین کے علاوہ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ ، حضرت مولانامفتی عتیق الرحمانی عثمانی ؒ اور کئ ایک تاریخ ساز شخصیتیں مدفون ہیں ۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسی احاطہ میں کئ اخبار مثلاً انقلاب دھلی ، ہمارا سماج ، کےایڈیٹر اور نمائندے رہتے ہیں ، جناب عامر سلیم بھی یہیں رہتے تھے ۔ کئ بار ان سے ملاقات رہی ، جب بھی ملتے بڑے تپاک سے ملتے ، میرے مراسلے ” ہمارا سماج ” میں اکثر شائع ہوتے رہتے ان کا بھی ذکر کرکے حوصلہ افزائی کرتے ۔ اچھے انسان تھے ۔ بےباک قلم کے دھنی تھے ۔ خوش اخلاق تھے ۔ اب کیا کریں خلاء درخلاء میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ اللہ ارحم الراحمین مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین ۔
مولانا نظام الدین فخرالدین ، پونے ۔

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں: غلام علی اخضر
دو روز قبل ہی بے باک صحافی ایڈوکیٹ عبدالرحمن صاحب کے فیس بک وال سے معلوم چلاکہ جناب عامر سلیم صاحب ایڈیٹر روزنامہ’’ ہمارا سماج‘‘ کافی نازک حالت میں ہیں، ان پر ہارڈاٹیک کا حملہ ہواہے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر ہر طرف آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر طرف دعائیں ہونے لگی۔اخبارات میں بھی خصوصی دعائوں کا اعلان ہوا،کل ہی روزنامہ ’قومی بھارت‘ میں صحافی گھرانہ کی طرف سے خصوصی دعائے صحت کا اعلان شائع ہوا تھا۔ ادھر دعائیں ہوتی رہی ادھر لائف سپورٹ سسٹم پر موت سے عامر سلیم زندگی کی جنگ لڑتے رہے لیکن تقدیر کا لکھا کب ٹلا ہے۔ زندگی کی ہار ہوگئی اور بیماری نے اپنا کام تمام کیا۔ کورونا کے بعد ہارڈ اٹیک کی شرح میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس پر حکومت اور وزیر صحت کو غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ عامر سلیم کومیں نے پہلی بار’ غالب اکیڈمی ‘میں دیکھا تھا اور دوسری بار بھی وہیں۔پہلی بار: ۲۵جلدوں میں سترہ ہزار صفحات پر مشتمل کلیات سرسید کی ابتدائی ۳ جلدوں کی رسم اجرا کے موقع پر اوردوسری بارممتاز عالم رضوی صاحب کی کتاب’’تیمور کے دیس میں:سفرنامہ ازبکستان‘‘کی رسم اجزا پر۔دونوں رسم اجرا میں ایک سے بڑھ ایک شخصیتیں شامل تھیں۔ وہ اکثر مسکراتے رہتے تھے۔ دوستوں کے درمیان محفل کی رونق تھے۔ ان کے چہرے سے ہردم مست ملنگ کی شعاعیں پھوٹتی تھیں۔ سادگی پسند اور سادہ مزاج انسان تھے۔سنجیدگی اورشائستگی اس قدرجیسے انھوں اسے اڑھنا بچھونا بنا لیا ہو۔جب کورونا پرعالمی اردو ٹرسٹ کی طرف سے عالمی جائزہ کا وبانمبر (مدیر: اے رحمان)شائع ہو توہرطرف اس کی دھوم مچ گئی۔ رسم اجرا کی تقریب ’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘دہلی جسولہ میں رکھا گیا جس میں ایک سے بڑھ کر ایک ادیب، صحافی اور دانشور شامل ہوئے۔ اسی تقریب میں عامر سلیم کو سامنے سے سننے کا موقع ملاتھا۔ وہ عالمی جائزہ پر بڑے سادگی کے ساتھ اپنی بات پیش کررہے تھے۔ تحریری ملاقات اکثر روزنامہ ’’ہمارا سماج‘‘سے ہوتی رہتی تھی۔ وہ ایک اچھے ایڈیٹرہونے کے ساتھ ایک اچھے نامہ نگار بھی تھے۔ قریب انھوں دہلی کی سرزمین پر سہارا،ہندوستان اکسپریس اور ہمارا سماج کے ذریعے ۲۲سے۲۳ سال صحافتی خدمات انجام دی۔ انھوں الیکٹرانک میڈیا میں بھی قدم رکھ دیاتھا، لیکن جانے کس کی نظرلگ گئی۔ ان کا یوں اچانک جوانی کے عالم میں چلے جانے سے ادب و صحافت کی دنیا میں سوگ کا عالم ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں ۔ لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔آمین!

سینئر صحافی عامر سلیم خان کا انتقال:امیر احمدصدیقی
سینئر صحافی اور روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹرعامر سلیم خان اب ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے،12 دسمبر کو جی بی پنت اسپتال دہلی میں دوران علاج انتقال ہوگیا ۔ دو دنوں کی علالت کے بعد آج ان کا دوپہر ایک بجے انتقال ہوا۔ جن کی تجہیز و تکفین بعد نماز عشاء قبرستان مہدیان دہلی میں عمل میں آئی۔
پسماندگان میں اہلیہ اور تین بیٹے ہیں ۔ ابھی ایک ماہ قبل مرحوم کے والد محترم چودھری سلیم خان کا بھی دوران علاج دہلی میں انتقال ہوگیا تھا ۔عامر سلیم خان کا تعلق اتر پردیش کے سدھارتھ نگر سے تھا۔
ان کے انتقال پہ صحافتی دنیا سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں میں شدید رنج وغم کا ماحول ہے۔ ان کی تدفین میں بڑی تعداد میں اہم شخصیات نے شرکت کی۔ جن چند شرکاء میں مولانا فضل الرحمان، ایڈوکیٹ اے رحمن، سید خرم رضا، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی، ارشد ندیم، مستقیم خان، ایس ٹی رضا، خورشید ربانی، فرزان قریشی، عظیم اللّٰہ صدیقی، امیر امیرامیرہوی، عینین علی حق، حبیب سیفی، انس فیضی، صادق شیروانی، فرحان یحیی، جاوید قمر، حاجی زبیر وغیرہ نے شرکت کی۔

آج پوری اردوصحافت سوگوارہے:سینئر صحافی عامرسلیم خاں کی رحلت پر فضل الرحمن قاسمی کااظہارتعزیت
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولاناسیدارشدمدنی کے پریس سکریٹری فضل الرحمن قاسمی نے سینئرصحافی عامرسلیم خاں کی اچانک رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ عامرسلیم خاں کے اس طرح اچانک چلے جانے سے دل کو ایک دھچکاسالگاہے، ان کا انتقال میرے لئے ایک ذاتی صدمہ کی طرح ہے، انہوں نے کہا کہ ان سے میرے 2008سے مراسم تھے اور اس پورے عرصہ میں کبھی ایسانہیں ہواکہ میری کسی بات پر انہوں نے کبھی ناگواری کا اظہارکیا ہو، وہ انتہائی ملنساراوردوست نوازانسان تھے انہیں رشتوں کو نبھانے کا ہنرآتاتھاان کی شخصیت میں بلاکی اپنائیت تھی یہی وجہ ہے کہ ان سے جو ایک بارملتاتھا، انہیں کاہوکررہ جاتاتھا، مولانا قاسمی نے کہا کہ آج ان کی رحلت سے اردوکی پوری صحافتی برادری سوگوارہے، وہ ایک جہاں دیدہ صحافی تھے لوگ ان کی تحریروں کو پوری توجہ سے پڑھتے تھے، غیرجانبدارانہ طرزعمل ان کی تحریر کی خاصیت تھی اوروہ اس بات کا پوراپورا لحاظ رکھتے تھے کہ ان کی تحریر سے کسی کی دل شکنی نہ ہو، انہوں نے آخرمیں کہا کہ دنیامیں جوبھی آیاہے اسے ایک نہ ایک دن لوٹ کرجانا ہے لیکن کچھ لوگوں کی موت دل ودماغ پر گہرے نقش چھوڑجاتی ہے جو جلدی نہیں مٹتا، عامرصاحب بھی ایسے ہی لوگوں میں تھے۔ اردوصحافت میں ان کی کمی تادیر محسوس کی جائے گی، اللہ رب العزت سے دعاہے کہ وہ بال بال ان کی مغفرت فرمائے اورتمام لواحقین خاص طورپر ان کے تینوں بیٹوں کو صبرجمیل عطاکرے جو ابھی عمرمیں بہت چھوٹے ہیں۔

عبداللہ قاسمی
جمعیۃعلماء ہند
.

صحافی عامر سلیم خان کی وفات:ڈاکٹرمحمد وسیم
دہلی سے نکلنے والا اردو اخبار "ہمارا سماج”، نئی دہلی کے ایڈیٹر عامر سلیم خان کا آج 12 دسمبر 2022ء کو دوپہر کے وقت دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا، اُن سے کبھی ملاقات نہیں رہی، خواہش تھی کہ ایک بار ملاقات کروں، مگر خواہش پوری نہیں ہو سکی، میں گزشتہ 7 سالوں سے مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا رہا ہوں اور تقریباً ہر مضمون کو اِس اخبار نے شائع کیا، اس سال کے یوپی اسمبلی الیکشن میں میرے ہر سیاسی مضمون اور تبصرے کو اردو اخبار ہمارا سماج نے شائع کیا، کبھی مجھے ایسا بھی لگا کہ یہ مضمون یا خبر شائع نہ ہو سکے، دوسرے اخبارات میں اگر جگہ نہیں ملی تو ہمارا سماج میں ضرور جگہ مل گئی، وہ سمجھتے تھے کہ طلباء اور ریسرچ اسکالر کے لکھے گئے مضمون کو جگہ ملنی چاہئے، آج کا دن صحافی عامر سلیم خان رحمہ اللہ کی اہلیہ، بچوں، گھر والوں اور عزیز و اقارب کے لئے تکلیف کا دن ہے، اخبار سے جڑے ہوۓ تمام لوگوں کے لئے بھی تکلیف کا دن ہے، ایسی پریشانی کے وقت میں ہم سب ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، عامر سلیم خان رحمہ اللہ ایک اچھے صحافی تھے اور لکھنے والوں کی قدر کرتے تھے
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے..آمین

ڈاکٹر محمد وسیم
نئی دہلی

عامر سلیم خاں ایک بے باک صحافی تھے: سید تنویر احمد
نئی دہلی۔ اردو صحافت کا ایک مشہور اور سینئر صحافی روزنامہ’ہمارا سماج‘ دہلی کے ایڈیٹر، پریس کلب آف انڈیا کے ممبر عامر سلیم خان کا 48 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے بروز پیر دوپہر ایک بجے انتقال ہوگیا(انا للہ و انا الیہ راجعون)۔وہ لمبے عرصے سےصحافت سے وابستہ تھے۔ اور گزشتہ 13 برسوں سے روزنامہ ہمارا سماج سے جڑے ہوئے تھے۔ کچھ ماہ قبل ہمارا سماج کا یوٹیوب چینل بنا کر ویڈیو پروگرام کا سلسلہ شروع کیا تھا جو بہت کامیاب تھا۔وہ روزنامہ ہندوستان ایکسپریس، روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو میں بھی صحافتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کے انتقال پرملال کی خبر سن کر صحافیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔اس خبر کو سن کر میڈیا سکریٹری جماعت اسلامی سید تنویر احمد نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”عامر سلیم خاں صاحب ایک ملنسار، خلیق اور بلیغ اندازو اسلوب کے مالک صحافی تھے اور نئی نسل کے لئے نمونہ بھی۔ وہ ایک کھوجی صحافی تھے اور خبروں میں حقائق کو بڑی بے باکی سے بیان کرتے تھے۔ان کی وفات سے اردو صحافت میں ایک زبردست خلا پیدا ہوگئی ہے۔۔ہم اس افسوس کی گھری میں چیف ایڈیٹر’ہمارا سماج‘ خالد انور صاحب کے غم میں شریک ہیں۔ یقینا عامر سلیم صاحب کا سانحہ ارتحال’ہمارا سماج‘کے لئے عظیم نقصان ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا سماج کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے“۔ وہ دہلی کے جی بی پنت اسپتال میں زیر علاج تھے۔ چار دن قبل انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔گیارہ دسمبر کو طبیعت کچھ بحال ہوئی لیکن بارہ دسمبر کو ایک بار پھر اٹیک ہوا۔انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے اور تقریبا ایک بجے وہ اپنے رب حقیقی سے جاملے۔ ان کی شخصیت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر عالم دین تھے، مشہور دینی درسگاہ جامعہ سنابل دہلی سے فضیلت کی تھی۔ان کا تعلق اترپردیش کے ضلع بستی سے تھا۔طویل عرصہ سے دہلی کے مہندیان میں مقیم تھے اور مہندیان کے قبرستان میں ہیان کی تدفین ہوئی۔اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ او ر اہل و اقارب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔۔
جاری کردہ:
سید تنویر احمد، سکریٹری شعبہ میڈیا، جماعت اسلامی ہند
موبائل: 9916827795 / 9844158731
ڈی 321، ابو الفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب کا اظہار تعزیت
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ اردو کے معروف و مشہور سینئر صحافی اور روزنامہ ہمارا سماج دہلی کے ایڈیٹر جناب عامر سلیم خان صاحب کا آج بتاریخ 12؍ دسمبر بوقت دوپہر 2 ؍ بجے دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سےکے جی بی پنت اسپتال دہلی میں علاج کے دوران انتقال ہو گیا ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ، اللہ تبارک و تعالی ان کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے،پسماندگان کو صبر جمیل فرمائے۔
ان کے انتقال پر جمعۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے انتہائی رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے فر مایا کہ عامر سلیم خان اردو کے نامور صحافی تھے اردو صحافت میں ان کا شمار قابل احترام صحافیوں میں ہوتا ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے،ان کے انتقال سے اردو صحافت ایک ممتاز اورسینئر صحافی سے محروم ہوگئی ہے اللہ تعالی ان کا نعم الدل عطاء فر مائے۔صوبے بھر کے تمام جمعیتی احباب ،اراکین ،ائمہ مساجد ، اورذمہ داران مدارس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مرحوم کےلئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کریں۔

Jamiat Ulama-i-Maharashtra
77/,zainul Abedin BLDG. Shop NO.7
Ibrahim Rahemat Ullah Road
Bhendi Bazar,Mumbai-400003 (Maharashtra ) INDIA
مشہور صحافی عامر سلیم خان کے انتقال پر ڈاکٹر انوارالہدیٰ کا اظہار تعزیت
پٹنہ ۔12دسمبر 2022 (پریس ریلیز)اردو کے نامور صحافی اور روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر عامر سلیم خان کے انتقال پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ( بہار چیپٹر) کے سکریٹر ی جنرل و روزنامہ ہمارانعرہ کے مدیر ڈاکٹرانوارالہدیٰ نے اپنے شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے اردو اخارات کا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان بتایا ۔ انہوں نے کہاکہ عامر سلیم خاں کے اندر صحافت کا جز بدرجہ اتم موجود تھا اور وہ نہایت ہی سنجیدہ طبیعت ، ملت کے غمگسار د اور باوزن صحافی تھے ، ان کی اکثر رپورٹنگ حقائق پر مبنی ہوا کرتی ۔ وہ کبھی نمک مرچ لگاکر خبروں کو پیش نہیں کرتے تھے ۔ ملی تنظیموں سے انکے بہتر روابط تھے ، منفی خبر وں سے ہمیشہ انہوں نے پرہیز کیا۔ جب میرا قیام دہلی میں تھا تو اکثر ان سے ملاقاتیں ہوتیں ۔ کبھی کبھا ر جمعیت علماء کی آفس میں گھنٹوں باتیں ہوتیں ۔ وہ نہایت ملنسار اور ہمدردانہ طبیعت کے مالک تھے ۔ 2000 ء کے قریب راشٹر یہ سہارا سے صحافت میں قدم رکھا، 2006 میں روزنامہ ہندوستان ایکسپریس کی ٹیم میں شامل تھے. 2008 میں روزنامہ ہمارا سماج کی ادارتی ٹیم میں شامل ہوئے، نامہ نگار اور ایڈیٹر دونوں حیثیت سے اس اخبار کی پہچان تھے. اردو صحافت اور دہلی نے آج ا ایک تابندہ گوہر کو اچانک کھو دیا. اتوار کی شب ان پر دل کا دورہ پڑا، دو دن سے وہ جی پی پنت اسپتال کے انتہائی نگہداشت شعبے میں تھے اور اب اپنے چاہنے والوں کو روتا بلکتا چھوڑ گئے. عامر سلیم خان اردو کے معروف صحافی اور روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر تھے. بیس بائیس برسوں سے دہلی میں اردو صحافت کی خدمات انجام دے رہے تھے اور میدان عمل میں اپنی الگ پہچان رکھتے تھے، خوش مزاجی، شرافت اور سادگی مرحوم کی پہچان تھی.ادارہ ہمارا سماج اور مرحوم کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں. دعا ہے کہ خداوند کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

صحافت کی دنیا میں انتہائی مخلص تھے عامر سلیم! جاوید بھارتی
محمدآباد گوہنہ (مئو) 12 دسمبر/ مشہور قلمکار جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ یوں تو ہر ایک کو ایک دن اس دارفانی سے رخصت ہونا ہے اور کل نفس ذائقہ الموت کے کے تحت موت کا مزا چکھنا کیونکہ یہی قانون قدرت ہے اور اسی قانون قدرت کے مطابق بیباک صحافی روزنامہ ہمارا سماج دہلی کے ایڈیٹر عامر سلیم صاحب نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا اور دار بقا کی طرف کوچ کر گئے مرحوم عامر سلیم سینئر صحافی تھے اور انتہائی مخلص انسان تھے صحافت کی دنیا میں ان کی ایک چھاپ تھی اور بلند مقام تھا خوش مزاجی اور ملنساری ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری تھی خود بھی خوشگوار ماحول میں گفتگو کرتے تھے اور دوسروں کو بھی خوشگوار ماحول میں گفتگو کرنے کا مشورہ دیتے تھے انٹریو لینے کا انداز کیا خوب تھا مرحوم کی تحریریں بھی انتہائی جامع اور مزین ہوا کرتی تھی وہ ایک بے لوث انسان تھے اور ان کے اندر بہت ساری خصوصیات تھیں عامر سلیم کے انتقال سے صحافت کی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا بہت مشکل ہے جاوید بھارتی نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم کا ایک ایک انداز اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا صحافت کا ایک بلند ترین مینار منہدم ہوگیا جس کا جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہی ہے مرحوم عامر سلیم اب ہمارے بیچ نہیں رہے مگر ان کی خدمات ان کی تحریریں ہمارے لئے ایک پیغام ہیں کہ ان کے مشن کو آگے بڑھایا جائے یہی مرحوم کے لئے خراج عقیدت ہوگا اور صبر اسی بات پر کرنا ہوگا کہ جو اس دنیا میں آیا ہے اسے ایک دن اس دنیا سے جانا ہے موت سے کسی کو چھٹکارا حاصل نہیں ہے لیکن ہاں جانے والوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کے جانے کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے اور ایسے ہی لوگوں کی فہرست میں بیباک صحافی عامر سلیم کا شمار کیا جائے گا
جاوید بھارتی نے آخر میں مرحوم عامر سلیم کے لئے دعائے مغفرت کی اور پسماندگان کے لئے بھی صبر جمیل کی دعا کی-
جاوید اختر بھارتی ( مضمون نگار) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

معروف صحافی عامر سلیم خان کے سانحہ ارتحال پر مولانا مطیع الرحمن بن عبد المتین کا اظہار تعزیت
کشن گنج :۔ (پریس ریلیز ) یہ بڑی دکھ اور رنج و ملال کی بات ہے کہ اردو کے معروف صحافی اور روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر جناب عامر سلیم خان کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ بلا شبہ عامر سلیم خان کا نام اردو صحافت کو حیات اور تازگی بخشنے والوں کی فہرست میں نمایاں طور لکھا جائے گا۔ کیونکہ انہوں نے اپنی اردو صحافت کے ذریعہ خواص و عوام کو مثبت پیغام دینے کی ہر ممکن کوشش کی ہیں ۔ ہندوستان کی صورتحال کو بے باکی کے ساتھ منظر عام پر لانے کی حتی الامکان کد و کاوش کی ہیں۔ بلا شبہ ان کا اچناک ہمارے درمیان سے اس طرح روپوش ہوجانا انتہائی افسوسناک بات ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ آپ اپنے قلم کے ذریعہ کافی حد تک ملک و ملت کے لئے سرگرمی اور فعالیت کے ساتھ نمایاں خدمات انجام دے رہے تھے۔ غم کے اس موقع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ، کشن گنج، بہار کے چیرمین مولانا مطیع الرحمن بن عبد المتین نے روز نامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹر کی اچناک وفات پر کیا۔ انہوں نے موصوف کی وفات پر ملال کے موقع پرتعزیتی کلمات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تمام اراکین، ذمہ داران، اساتذہ ، معلمات ، طلبہ اور طالبات اپنے دکھ درد کا اظہار کر رہے ہیں ساتھ ہی موصوف کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ ان کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے۔ پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موصوف کا صحافت سے دیرینہ تعلق رہا ہے۔ انہوں نے ہمارا سماج میں بطور ایڈیٹر فریضہ انجام دینے سے قبل ہندوستان کے کئی معروف و مشہور اردو اخباروں میں صحفات کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مجھ جیسے صحافت کے طالب علم کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ایک سرخی ان جیسی لگا پاتا:اشرف علی بستوی
آہ ! عامر سلیم خان صاحب: سینئر جرنلسٹ روزنامہ ہمارا سماج کے ایڈیٹرعامر سلیم خان اب ہمارے درمیان سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے ،12 دسمبر کو جی بی پنت اسپتال دہلی میں دوران علاج انتقال ہوگیا ۔ اللہ عامر بھائی کو جنت الفردوس میں اعلٰیٰ مقام عطا کرے آمین ۔
عامر بھائی سے میرا پہلی باررابطہ 25 مئی 2006 کو دریا گنج واقع روزنامہ ہندوستان ایکسپریس کے دفترمیں ہوا تھا جب اخبار کے بانی ایڈیٹر خالد انور نے میرا بطوررپورٹرسلیکشن کرنے کے بعد عامر سلیم خان صاحب سے یہ کہتے ملوایا تھا ” یہ عامر سلیم خان آپ کے چیف رپورٹر ہیں جائیے ان کے ساتھ ملکر کام کیجیے” اس روز سے جو تعلق بنا وہ اسی طرح برقرار رہا اورآخری باررابطہ ایک خبرکی اشاعت کے سلسلے میں 9 دسمبر 2022 کی شام 6 بجے بذریعہ واٹس ایپ چیٹ ہوا،انہوں نے مجھے لکھا ‘ اوکے بھائی ‘۔ اگلی صبح اخبارات کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ تبھی فیس بک پر نظر پڑی کہ عامربھائی کو رات دیرگئے دل کا دوسرا دورہ پڑا اورانہیں جی بی پنت میں انتہائی نگہداشت والی یونٹ میں داخل کرایا گیا ہے ۔ اسی لمحے سے عامر بھائی کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ان کی صحتیابی کی دعائیں کررہی تھی ۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ عامر بھائی کا تعلق سدھارتھ نگر سے تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ اور تین بیٹے ہیں ۔ ابھی ایک ماہ قبل مرحوم کے والد محترم کا بھی دوران علاج دہلی میں انتقال ہوگیا تھا ۔
عامربھائی کے ساتھ کام کرنے کی مدت تو بہت کم رہی کیونکہ تین ماہ ہی گزرے تھے کہ میرا سلیکشن سہ روزہ دعوت میں ہوگیا اور میں جامعہ نگر شفٹ ہوگیا تھا لیکن ان سے سیکھنے کا عمل آخرتک جاری رہا ۔ البتہ اب ملاقاتیں کم ہوتیں لیکن جب ہوتیں بھر پور ہوتیں اور میری کسی نا کسی تحریر یا ویڈیو رپورٹ کے حوالے سے بات شروع کرتے دل کھول کرحوصلہ افزائی کرتے ۔ آج بھی مجھے پیارسے بستی والا کہہ کر پکارتے ، ہندوستان ایکسپریس میں میرا قلمی نام اشرف بستی والا تھا جو انہیں بہت پسند تھا ۔
ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے جو تجربات ہوئے اس میں سے ایک واقعہ اس وقت ذہن میں آرہا ۔ جولائی 2006 کی کوئی شام تھی، میں دوپہرکی رپورٹرس میٹنگ میں شریک ہوا اور شاپم ہوتے ہوتے دیے گئے ڈے پلان کے مطابق اپنے حصے کی دو خبریں ڈیسک کو دیکر تیسری خبر کی کوریج کے لیے شام سات بجے آ ئی ٹی او واقع پیارے لال بھون پہونچا وہاں ایک کلچرل پروگرام تھا جس میں قوالی بھی تھی ۔ محفل کچھ اس طرح جمی کہ کافی دیرہوگئی اورذہن میں آیا کہ کیا ہوا دو خبریں تو دے ہی دیا ہے اب اس کی رپورٹ کل دے دوں گا ۔ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی ” پیج جانے کا وقت ہوگیا ہے بھائی خبر کہاں ہے” ؟ میں نے کہا سر، یہاں قوالی ہورہی ہے ،دوسری طرف سے عامر بھائی بولے یہاں خالد صاحب مجھے قوالی سنا رہے ہیں، جلدی کریں ۔ خیر گھبراہٹ میں کسی طرح دفتر پہونچا اور جلدی جلدی رپورٹ فائل کیا اتنے میں پیچھے سے آئے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے ہی نرم لہجے میں بولے ” بھائی بستی والا ایسا نہ کریں آپ کوآج تین رپورٹ دینی تھی رپورٹنگ کرتے وقت اپنا اور اپنے وقت کا خیال رکھیں ” ۔ ابھی ایک ماہ قبل ایک موقع پر ملاقات ہوئی تھی ہمارا سماج کے نئے نئے یوٹیوب چینل کے بارے چرچا کی اسے مزید فعال کیسے بنایا جائے اس پر بات ہوئی ۔ کہنے لگے بھائی قارئین اب ناظرین میں جس تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اس تبدیلی کو ہمیں سمجھنا ہوگا ۔
عامر بھائی پریس کلب آف انڈیا کے رکن تھے ، ورکنگ جرنلسٹ کلب کے صدر تھے ملی ایشوز پرلکھنے کا ملکہ رکھتے تھے ، ذرائع کا خوب استعمال کرتے لیکن مکمل رازداری رکھتے ۔ کبھی کبھار جب کوئی اہم اسپیشل رپورٹ لکھ رہے ہوں تو فون کرکے ضروری معلومات اپڈیٹ کرتے ،خاص طور سے ملی ایشوزپرلکھتے وقت ضرور یاد کرتے ۔ ہندوستان ایکسپریس نےاولین دنوں میں کئی ایسی خبریں دیں جو صرف اسی اخبارمیں دیکھی گئیں ۔ عامرسلیم خان اپنی رپورٹوں کی دلچسپ سرخییوں اور خبر وں کی ترتیب و پیشکش کے لیے ہمیشہ یاد کیے جائیں گئے ۔ مجھ جیسے صحافت کے طالب علم کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ایک سرخی ان جیسی لگا پاتا ۔ اللہ تعا لیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
ایشیا ٹائمز نئی دہلی کے چیف ایڈیٹر
رابطہ : 9891568632
Ashraf Ali Bastavi
عامر سلیم،وہ جو ہنستے ہوئے سب کو رلا دیتا تھا: محمد علم اللہ، نئی دہلی
رمضان کا آخری عشرہ چل رہا تھا، اوکھلا میں صاف صفائی کا نام و نشان نہ تھا، میں لکشمی نگر دہلی میں واقع روزنامہ صحافت کے آفس میں بیٹھا ، خبر لکھنے میں مصروف تھا کہ ایک شرارت سوجھی۔ میں نے علاقہ میں ایم سی ڈی کی اندیکھی اور تجاہل عارفانہ پر ایک خبر بناکر عاطف بھائی (محمد عاطف ، اِن دنوں روزنامہ انقلاب گورکھپور سے وابستہ ہیں) کو تھما دیا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ خبر نہیں چھپے گی، مگر عاطف بھائی نے جو اُن دنوں روزنامہ صحافت کے چیف رپورٹر ہوا کرتے تھے، اس خبر کو نواب علی اختر، جو دہلی کا صفحہ دیکھا کرتے تھے(نواب صاحب اب بھی روزنامہ صحافت میں ہی ہیں) کی جانب مسکراتے ہوئے بڑھا دیا۔ نواب بھائی نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی اور اسے اپنے سامنے میز پر رکھ لیا۔
میں پھر سے کام میں لگ گیا، شام کو جب نکلنے لگا تو نواب بھائی نے کہا، ارے بھائی ! سرخی تو رہ ہی گئی، میں نے مسکراتے ہوئے کہا، لکھ دیجیے۔ ”کیا انجینئر جمال الدین اعتکاف میں ہیں۔؟۔“ ان دنوں انجینئر جمال الدین کاؤنسلر ہوا کرتے تھے۔ ذیلی سرخی کیا تھی اب یاد نہیں رہا۔
دوسرے دن آفس پہنچا تو نواب بھائی نے بتایا کہ ایک سینئر صحافی آپ سے ملنے آئے ہیں۔ دیکھا تو ایک صاحب لمبے تڑنگے، مڑے تڑے جرسی میں ملبوس، آنکھوں میں چشمہ لگائے، ایک ہاتھ میں ہیلمیٹ پکڑے، دوسرے میں ڈائری ، بانہیں پھیلائے قہقہہ زار ہیں۔ مجھے دیکھتے ہیں؛ اچھا تو آپ ہی علم اللہ ہیں، کہتے ہوئےاپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہنے لگے، آفس جانے سے پہلے (چند فرلانگ پر ہی روزنامہ ہمارا سماج کی آفس تھی) سوچا مل لوں کہ کون ہیں آخر یہ علم اللہ، اور پھر بار بار دہراتے رہے۔ “ارے بھائی، آپ نے واقعی غضب کی سرخی لگائی، میں تو سمجھ رہا تھا یہ نقوی صاحب(سید ظفر نقوی مرحوم ) نے لگائی ہوگی، انہیں فون کیا تو معلوم ہوا کہ یہ، ان کا نہیں ،آپ کا کمال ہے، ارے بھائی جواب نہیں ہے”۔
یہ قہقہہ زار شخصیت عامر سلیم خان کی تھی جن کا 12 دسمبر 2022 کو حرکت قلب بند ہو جانے سے دہلی میں انتقال ہو گیا۔ بعد کے دنوں میں بھی جب کبھی عامر بھائی سے ملاقات ہوتی تو بے پناہ اپنائیت سے ملتے۔ اس سرخی کا ذکر ضرور کرتے ، مجھے احساس ہے ، یہ کوئی ایسی سرخی نہ تھی جس پر اتنی شاباشی دی جاتی ، لیکن خدا جانے یہ سرخی عامر بھائی کے ذہن میں کیوں چپک سی گئی تھی، دوستوں سے بھی ملتے تو اس کا ذکر ضرور کرتے۔ یہ ان کا ایک انداز تھا ، اپنوں سے ملنے کا۔ انھیں خوش کرنے کا۔
آج ان کے انتقال کے بعد جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو یقین نہیں ہو رہا ہے کہ عامر سلیم خان اب واقعی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ وہ اپنے کام کے دھنی، بہادر اور بے باک صحافی تھے۔ مسلم مسائل پر ان کی تحریروں اور اداریوں کو دیر تک یاد رکھا جائے گا۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والے انسان تھے، جس کا عکس ان کی تحریروں میں بھی نظر آتا تھا۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، میں نے جامعہ نگر میں واقع نور نگر سرکاری اسکول کی بد انتظامی اور کسمپرسی پر ایک خبر روزنامہ صحافت میں چھاپ دی۔ خبر کا چھپنا تھا کہ ہنگامہ مچ گیا۔ اس واقعہ کو ابھی زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا، میں اسکول کے پاس سے گذر رہا تھا کہ اس کے پرنسپل نے اپنے غنڈوں سے مجھ پر حملہ کروا دیا، اللہ کے شکر سے مجھے کچھ ہوا نہیں کیونکہ اسی وقت سامنے کی باب العلم مسجد سے نمازی نکل رہے تھے ، ان میں سے کئی مجھے پہچانتے تھے ۔ انھوں نے فورا مجھے گھیر لیا اور مسجد لے گیے ، بات آئی گئی ، گذر گئی ، لیکن عامر بھائی بڑے بے چین ہوئے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے تا آنکہ انہوں نے اس پرنسپل کو اُس اسکول سے باہر کا راستہ نہیں دکھوا دیا۔ انہوں نے ہفتوں اس پر خبریں چھاپیں، دوسرے صحافیوں کو متوجہ کیا اور اخیر تک فالو اپ کرتے رہے کہ دہلی حکومت کو ایکشن لینا ہی پڑا۔
ایسا نہیں تھا کہ عامر بھائی نے صرف میرے معاملہ میں ایسا کیا تھا بلکہ دیگر گڑبڑیوں اور نا انصافیوں پر بھی وہ کھل کر لکھا کرتے تھے۔ اردو کے ساتھ نا انصافی کا معاملہ ہو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا مسئلہ، دارا لعلوم دیوبند میں وستانوی صاحب کی بات ہو یا پھر مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا۔ حج سبسڈی کا قصہ، بابری مسجد یا مسجد اکبری دلی کی کہانی ہو، سی اے اے این آر سی کا معاملہ ہو یا اپنی قوم کی بد معاشیوں کا وہ سب پر کھل کر لکھتے مگر اجتماعی مسائل کو ہمیشہ مقدم رکھتے، اس میں خواہ اپنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے، انھیں ان کی پروا نہ تھی۔
میں جب کبھی ملی مسائل پر کچھ سخت سست لکھ دیتا تو بہت سارے احباب مجھے اس سے باز رہنے کی تلقین کرتے ،مگر عامر بھائی ہمیشہ کہتے ، آپ نے بہت اچھا لکھا، صحافت میں اگر مزاحمتی آہنگ باقی نہ رہے تو وہ نِری کلرکی بن کر رہ جاتی ہے۔ مزاحمت کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس شخص یا گروہ پر سوال اٹھایا جائے ، جس پر سوال اٹھانا کسی بھی حوالے سے مفاد عامہ کے لیے ضروری ہو اور لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہوئے ہچکچاتے ہوں۔ ہمارے یہاں اہل صحافت میں ایک عجیب سا چلن فروغ پا رہا ہے۔ حکومت، اس کے ماتحت محکموں اور اداروں وغیرہ کی ترجمانی بھی کچھ لوگ صحافت کی آڑ میں کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ حکومت اور ملی اداروں نے اس کام کے لیے اپنے تعلقات عامہ کے شعبے قائم کر رکھے ہیں۔ صحافی کسی کا بھی ترجمان نہیں ہوتا ۔ اگر ترجمانی ہی مقدر ہے تو اسے عوام کی جانب کھڑے ہونا زیب دیتا ہے۔
ملی مسائل پر ان کی بڑی گہری نظر رہتی اور سات پرتوں میں چھپی خبر کو بھی وہ نکال لاتے۔ ان کی انہیں خوبیوں کی وجہ سے ان کے مخالفین بھی ان کا احترام کرتے اور ان کے ساتھ عزت سے پیش آتے۔ اس بات سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ عامر سلیم خان بنیادی طور پر عالم دین تھے اور اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے مشہور دینی درس گا ہ جامعہ سنابل دہلی سے فضیلت کیا تھا، لیکن ان کے احباب اور چاہنے والوں میں ہر مسلک و مشرب کے لوگ تھے، بلکہ ان کی خبریں اور مضامین اس بات کی گواہ ہیں کہ انھوں نے بہت سارے معاملوں میں مکتبِ اہل حدیث کی گڑبڑیوں پر جم کر لکھا۔ انھوں نے خبر کے معاملے میں مسلک کو کبھی بھی سامنے آنے نہیں دیا۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے اور اسی دہلی میں بہت سارے نام نہاد صحافیوں نے ان کے بعد کریر شروع کیا اور اونچے اونچے مکانوں اور فلیٹوں کے مالک بنے مگر عامر سلیم خان جس طرح بستی کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے کنگال آئے تھے، کنگال ہی رہے۔
وہ صحافتی مصروفیتوں کے علاوہ مہدیان میں واقع ایک مدرسہ میں پڑھاتے اور وہیں قیام کرتے۔ حالیہ دنوں میں اردو کے وہ واحد صحافی تھے جو ملت اسلامیہ ہند کے مسائل پر بیباکی کے ساتھ لکھ رہے تھے۔ ملی تنظیموں اور مسلم لیڈروں کے تعلق سے وہ ہمیشہ مثبت رخ اختیار کرتے۔ وہ کئی اخبارات کے عروج کا حصہ بنے لیکن انہیں عروج کبھی نصیب نہ ہوا۔ معمولی تنخواہ اور سادہ زندگی ان کا مقدر ٹھہری لیکن عزت خوب ملی۔ ایسی عزت ہر باعزت کو نہیں ملتی۔
جب روزنامہ ہندوستان ایکسپریس کا بٹوارہ ہوا اور اس سے ٹوٹ کر ہمارا سماج نکلا تو ان دنوں ہمارا سماج اور ہندوستان ایکسپریس دونوں اخباروں کی قلمی لڑائی دیکھنے لائق تھی۔ ایک طرف شاہد الاسلام اور اور احمد جاوید صاحبان مورچہ سنبھالے ہوئے تھے تو دوسری جانب عامر سلیم خان اور خالد انور۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اردو صحافت کے عروج کا دور تھا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی بساط لپیٹ لی۔
عامر سلیم خان اور اس قبیل کے لوگوں کو صحافت کے آخری قبیلہ کے کارواں کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ان کی وفات سے اردو صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ صحافیوں کے اس کارواں کے ہدی خاں تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں ان مسائل پر سچائی اور غیر جانبداری سے لکھنے کے لیے وقف کر دی تھیں جن سے ان کی برادریوں کے لوگ متاثر تھے۔ عامر سلیم خان کی صحافت کو ان کی لاجواب سرخیوں، نفیس اور ستھری زبان کلاسک محاوروں نیز منفرد انداز بیان کے لیے بھی دیر تک یاد رکھا جائے گا۔
عامر سلیم، آپ قلم کے مجاہد تھے۔ صحافت اور انشاء کے آدمی، آپ کی کہانیاں متاثر کن تھیں، آپ کے الفاظ حوصلہ افزا اور آپ کی ہمت بے مثال تھی۔ آپ نے غریبوں کو اٹھانے، اور بے آوازوں کو آواز دینے کے لیے لکھا۔آپ ایک دیانت دار صحافی تھے، جو حرف اور قلم کے تقدس کو سمجھتے تھے۔آپ قلم ہاتھ میں لے کر جیتے اور مرتے رہے۔ اب، آپ اپنے سفر کی آخری منزل پر پہنچ چکے ہیں، یقینا وہ جا جنت ہوگی، جہاں بہت سے عظیم قلم کاروں نے آپ کا استقبال کیا ہوگا، جن کے پاس صرف ایک ہی جذبہ ہوگا، احساس کا، دکھ کا، درد کا۔ وہاں آپ کو کسی بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں پڑے گی، وہاں، کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں، کوئی شکایت نہیں کرے گا کہ آپ ان کے بارے میں کیوں لکھ رہے ہیں۔
الوداع قلم کے سپاہی ۔۔۔الوداع ۔۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    مئی 3, 2026
    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    مئی 3, 2026
    سپریم کورٹ سے ترنمول کانگریس کو دھچکا، عرضی پر نہیں دیا کوئی حکم

    سپریم کورٹ سے ترنمول کانگریس کو دھچکا، عرضی پر نہیں دیا کوئی حکم

    مئی 3, 2026
    ایل پی جی کی کمی ، پی این جی کنکشن بڑھانے میں مصروف حکومت

    ایل پی جی کی کمی ، پی این جی کنکشن بڑھانے میں مصروف حکومت

    مئی 3, 2026
    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    اگر 500-100 کے درمیان ٹی ایم سی کو شکست ہوئی تو دوبارہ کرائیں گے گنتی

    مئی 3, 2026
    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمہ: پونے عدالت میں اہم سماعت

    مئی 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist