سید مجاھد حسین
نئی دہلی ،سماج نیوز سروس: توانگ تصادم معاملہ پر کانگریس مرکزی حکومت کو گھیرے ہوئے ہے ،جہاںایوان پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے سوالات حکومت کاپیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں تووہیں کانگریس سوشل میڈیا پر بھی حکومت پر تنقید اور طنز کسنے سے نہیں ہچکچا رہی ہے ۔کانگریس صدر ملکا رجن کھڑگے نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مودی حکومت کی لال آنکھ پر چینی چشمہ لگ گیا ہے ،کیا ملک کی پارلیمنٹ میں چینک ے خلاف بولنے کی اجازت نہیں ہے ؟ کھڑگے کے علاوہ کانگریس لیڈر منیش تیواری بھی ہیں جنہوںنے مرکزی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ’’ شاید ہندوستانی تاریخ اور اسٹریٹجی کے کچھ ابواب پر دوبارہ انھیں غور کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے وہ وہی غلطی کر رہے ہیں جو وزیر دفاع کرشنا مینن نے کی تھی۔ انہوںنے کہا کہ جب خطرہ چین ہے تو پاکستان پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے!۔قابل ذکر ہے کہ اروناچل پردیش کے توانگ میں بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان گزشتہ روز ہوئے تصادم کی خبر پھیلنے کے بعد لگاتار اپوزیشن لیڈران مرکز پر حملہ اور ہیں۔موجودہ سرمائی اجلاس میں بھی اس تعلق سے کافی ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔بتادیں کہ منگل کے روز توانگ تصادم معاملہ پر مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں اس تعلق سے بیان دیا تھا۔جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے کسی فوجی کی تصادم میں موت نہیں ہوئی ہے، نہ ہی کوئی سنگین طور پر زخمی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ 9 دسمبر کو توانگ سیکٹر کے یانگتسے علاقہ میں پی ایل اے کے فوجیوں نے حملہ کیا تھا اور موجودہ حالت کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش کو ہمارے فوجیوں نے عزم مصمم کے ساتھ ناکام کر دیا۔لیکن اپوزیشن کانگریس مسلسل مودی حکومت سے سوال کررہی ہے کہ توانگ معاملے پروزیر اعظم مودی کوئی بیان کیوں نہیں دیتے ہیں۔ اس معاملے پر منگل کو بھی اپوزیشن نے حکومت کے غیر مطمئن رویہ پرنہ صرف ہنگامہ کیا بلکہ ایوان سے واک آئوٹ بھی کردیا۔ صدر کھڑگے کا کہنا تھا کہ چین ہمارے ملک میں در اندازی کررہا ہے اور مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔انہوںنے سوال کیا کہ حکومت کے مطابق جب سرحد پر کوئی شدید تصادم نہیں ہوا تو ہمارے چھ جوانوں کو شدید چوٹیں کیسے آئیں اور وہ اب تک اسپتال میں کیوں زیر علاج ہیں۔قابل ذکر ہے دو دن پہلے اروناچل کے علاقہ توانگ میں بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی ،اس میں چھ جوان زخمی ہوئے تھے ،ایک جوان کی کلائی ٹوٹنے کی خبریں بھی ہیںاور وہ ایک فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔اس سے قبلاپریل 2020میں بھی ہمارے فوجیوں کی چینی فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی میں بھارت کے بیس فوجی مارے گئے تھے ،وہیں چین کے بھی اتنے ہی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ تبھی سے کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور ہے۔












