اسلام آباد(ہ س)۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ہندوستان کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بیان صوبہ پنجاب میں کامرہ ایئر بیس کے دورے کے دوران دیا، جہاں وہ حال ہی میں ہندوستان کے ساتھ فوجی تنازعہ میں شامل پاک فضائیہ کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کر رہے تھے۔شریف نے کہا، ’’ہم امن کے لیے ہندوستان سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات چیت کے لیے ’’امن کی شرائط‘‘ میں جموں و کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ہندوستان نے مسلسل واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کے اٹوٹ اور غیر منقسم حصے ہیں اور اس پر کسی قسم کی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے مسئلے پر ہی پڑوسی ملک سے مذاکرات ممکن ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے اس دورے میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اور فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی ان کے ہمراہ تھے۔قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف نے سیالکوٹ میں پسرور چھاونی کا بھی دورہ کیا اور فوجیوں سے بات چیت کی۔ یہ کسی فوجی ادارے کا ان کا دوسرا دورہ تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت موجودہ کشیدگی کے حوالے سے فوج کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی کر رہی ہے۔












