نئی دہلی حکومت نے آج کہا کہ دنیا کے کچھ ممالک میں کووڈ انفیکشن کے بڑھتے معاملات اوربڑی تعداد میں ہونے والی اموات کی وجہ پیدا صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ملک تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر منسکھ منڈاویہ نے کووڈ وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں از خود بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صحت کا بنیادی ڈھانچہ اچھا اور ضروری ادویات وآکسیجن اور دیگر سامان کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ اراکین کی وضاحتوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور وہ خود عالمی ادارہ صحت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پربیرون ملک سے آنے والے مسافروں میں سے دو فیصد کی اسکریننگ کی جارہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اسے لازمی بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام بڑے اسپتالوں میں آکسیجن پلانٹس کام کر رہے ہیں اور ان کی نگرانی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں کووڈ انفیکشن کی شرح میں کمی آئی ہے ، روزانہ اوسطاً 153نئے کیسز سامنے آرہے ہیں، جبکہ دنیا میں یہ تعداد5 لاکھ87 ہزار ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، امریکہ، فرانس، یونان اور اٹلی جیسے ممالک میں کووڈ کے کیسز اور اموات کے اعدادوشمار میں اضافہ ہوا ہے۔ چین میں بھی کووڈ کے کیس اور اس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے خبریں شائع ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ریاستوں کو ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں ان سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کمیونٹی کی نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مثبت کیسوں کی جینوم سیکوینسنگ کریں تاکہ وقت پر نئی اقسام کا پتہ لگایا جا سکے ۔ نئے سال کی تقریبات اور تہواروں کے پیش نظر ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووڈ پروٹوکول پر عمل کریں۔مسٹرمنڈاویہ نے کہا کہ ریاستوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو کووڈ ویکسین کی احتیاطی خوراک پر زور دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام اراکین پارلیمنٹ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کریں اور کووڈ پروٹوکول پر عمل کرنے میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب تک 220 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین دی جاچکی ہیں۔ ملک کی 90فیصد آبادی کو دونوں ویکسین مل چکی ہیں اور 22کروڑ سے زیادہ لوگوں کو احتیاطی خوراکیں دی گئی ہیں۔ مسٹرمنڈاویہ نے کہا کہ کووڈ کے مسئلہ پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان کے تین ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے تشویش ظاہر کرنے کے بعد، انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بھارت جوڑو یاترا میں کووڈ پروٹوکول پر عمل کریں اور اسے سیاسی چشمے سے نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔واضح رہے کہ چین سمیت دنیا کے کئی حصوں میں تباہی مچانے والے کورونا کا سایہ ہندوستان پر بھی منڈلانے لگا ہے۔ چین میں تباہی پھیلانے والے کورونا کے اومیکرون ویرینٹ بی ایف.7 کے چار کیسز ملک میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس دوران ملک بھر میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ نئی دہلی میں کورونا وائرس کے ایک مریض کی موت ہو گئی ہے۔وہیں جاپان میں بھی حالات فکر انگیز ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان میں کورونا سے متاثر کئی بچوں کی موت ہو گئی ہے، یعنی بچوں کی ہلاکت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ’جاپان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاپان میں بھی اومیکرون ویریئنٹ کا ہی قہر دیکھا جا رہا ہے












