:سید مجاھد حسین
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی دو دن قبل دہلی کے لال قلعہ کے پس منظر سے ملک کے ’’جانبدار اور فرماں بردار‘‘ میڈیا گھرانوں کے اجلے چہروں سے نقاب نوچ رہے تھے ،اور بتا رہے تھے لوگوں کو کس طرح سے اندھیر میں رکھ کر نفرت کی کھائی میں دھکیلا جار ہاہے ،ان سے ہوشیار رہنا ضروری ہے ،ابھی اس کو دو دن بھی نہیں گزرے تھے کہ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا ایک متنازع اور اشتعال انگیز بیان سامنے آیا ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ لوگ اپنے پاس ہتھیار رکھیں ۔قابل ذکر ہے کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر ایک سچی’ قوم پرست‘ ہیں اور وہ اکثر اس طرح کے بیانات جاری کرتی رہتی ہیں جو ملک کو’ جوڑنے ‘اور ہندو مسلمان میں ’محبت ‘پیدا کرنے والے ہوتے ہیں! ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا !۔بلکہ یوں کہاجائے کہ وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ ان جیسے متعدد شدت پسند ایسے ہیںجووطن عزیز کو نفرت کے خانوں میں بانٹنے کا بیڑہ اٹھائے رہتے ہیں لیکن قانون کے شکنجے سے آزاد رہتے ہیں!۔ پرگیہ سنگھ ٹھا کربھی ان میں سے ایک ہیں !۔انہوں نے آج اپنے تازہ بیان میںکہا ہے کہ ’’ہندوئوں کو بھی ہتھیار اٹھانے کا حق ہے،جہاد کے خلاف سب تیار رہیں ‘‘ ۔کرناٹک کے ایک پروگرام میں ’’لوو جہاد‘‘ پر بولتے ہوئے ان کا کہناہے کہ ’’جو لوگ لو جہاد کرتے ہیں انہیں لو جہاد جیسا ہی جواب دینا چاہیے۔ اپنی بچیوں کو محفوظ رکھیں۔ اسلحہ گھر میں رکھیں، اگر نہیں تو سبزیاں کاٹنے کے لیے تیز دھار چھری رکھیں‘…ٹھاکر نے کہا کہ’’ ہمارے ہرشا کے ساتھ چھری سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ ہمارے ہندو ہیروز، بی جے پی کے کارکنوں کو کاٹ لیا گیا ہے، اس لیے ہمیں بھی سبزیاں کاٹنے کیلئے چھریوں کو تیز رکھنا چاہیے، نہ جانے کب موقع آئے‘‘۔’’ اگر ہماری سبزیاں اچھی طرح کاٹی جائیں تو دشمنوں کے منہ اور سر بھی اچھی طرح کاٹے جائیں گے‘‘۔بہر کیف، شاید ممبر پارلیمنٹ آزاد ہیں وہ جو چاہے بول سکتی ہیں !انہیں کسی قانون کا خوف نہیں !۔ان کے آج کے اشتعال انگیز بیان سے ایک بار پھر سیاست گرم ہوگئی ہے ۔لیکن لوگ یہ سوال بھی کررہے ہیںکہ ملک کو کیا ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے ،جو ملک توڑنے کی بات کرے ،ان کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں ہوتی؟ ایکشن ان لوگوں کیخلاف ہی کیوں ہوتا ہے جو ملک جوڑنے اور تعلیم کی بات کریں ،جو ملک کی نسل نو کو تہذیب سکھائیں ان کی کردار سازی کریں ،جو کسی کی اصلاح میںاپنے خیالات کا اظہار کر بیٹھے ،جو دھرموں کو جوڑنے اور بھائی چارہ کی بات کرے ؟۔اسکول کے بچوں کو ایسی نظم پڑھنے کہے جو کردار کو پاک و صاف کرنے والی ایک دعا کی شکل میں ہے؟لیکن وہ ایک مجرم ہوجاتا ہے ،یہ الٹی گنگا کیوں بہہ رہی ہے اور کوئی اس طرف توجہ دینے وال کیوں نہیں؟
بتا دیں کہ بریلی کے ایک اسکول میں کچھ دن پہلے صبح کی پریئر میں شاعر علامہ اقبال کی نظم ’’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ،زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘‘پڑھوائے جانے پر اسکول ٹیچرکو گرفتار کر لیا گیا۔وشو ہندو پریشد کے لوگوں کی شکایت پر اسکول ٹیچر پر ایکشن ہوا اوران سے کہاگیا کہ وہ بچوں کو اسکول میں مذکورہ نظم پرئیر میںنہیں پڑھوائیں گے ۔اب اسکول ٹیچر کیخلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے بلکہ انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ،ان کے ساتھ اسکول کی پرنسپل پر بھی دعائیہ نظم پڑھوانے کیلئے مقدمہ درج کر لیاگیا ہے! ۔سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ملک کو جوڑنے والے لوگوں کے حصہ میں جیل آئیگی اور اصل مجرم آزاد گھومیںگے؟بہر کیف، ایسا لگتا ہے کہ اب مرض اتنا بگڑ چکا ہے کہ وہ علاج سے بڑھ رہا ہے !نفرت روکے نہیں رک رہی ہے، راہل گاندھی نے دو دن قبل جو کچھ کہا ،کیا یہ اس کا جواب تھا،اس سوال کا جواب ملنامشکل ہے۔












