ناگپور:آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (مہاراشٹر- ناگپور) کے زیراہتمام 40 ویں نیشنل یونانی طبّی کانفرنس پروفیسر مشتاق احمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت مہاراشٹر نے طب یونانی کے فروغ کے لیے بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس ناگپور شاخ نے بہت ہی تزک و احتشام کے ساتھ اس عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ملک کے گوشہ گوشہ سے انتہائی جوش بھرے جذبہ سے سرشار یونانی ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ کلیدی خطبہ ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے پیش کیا۔پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب ایکناتھ شندے نے اپنے پیغام میں وعدہ کیا کہ ریاست میں یونانی ڈاکٹروں کو نوکریوں میں دس فیصد ریزرویشن دیا جائے گا اور ریاست میں گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج قائم ہوگا۔ انہوں نے یونانی ڈاکٹروں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ ریاست میں طب یونانی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے۔ اسی طرح اسپیشل گیسٹ ویدیہ جینت دیو پجاری (چیئرمین، NCISM حکومت ہند) نے اپنے خطاب میں کہا کہ طبیہ کالجز کو معیاری بنانا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طب یونانی کے فروغ کے لیے اس طرح کی کانفرنس کی کافی اہمیت ہے اور کووڈ 19 میں طب یونانی نے جو کردار ادا کیا وہ قابل ستائش ہے نیز میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس ناگپور کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بہت ہی معیاری اور عظیم الشان پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس سے ملک بھر میں طب یونانی کے حوالے سے بہت بڑا پیغام جائے گا۔
مہمان ذی وقار کے طور پر جامعہ ہمدرد کے ڈین فیکلٹی آف یونانی میڈیسن پروفیسر عارف زیدی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اے کے ٹی کالج شعبہ علم الادویہ کے صدر ڈاکٹر عبدالرؤف، انجمن اسلام طبیہ کالج ممبئی کے پرنسپل ڈاکٹر راشد قاضی، گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج بھوپال میں صدر شعبہ امراض نسواں وقبالت کی پروفیسر نفیس بانو، حکیم عبدالحمید یونانی میڈیکل کالج دیواس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ضیاءالرحمن شیخ، ایم ایل اے ناگپور نتن جی راؤت، ایم ایل اے کامٹی ٹیک چند ساورکر، چیئرمین وقف بورڈ مہاراشٹر اور ایم ایل سی ڈاکٹر وجاہت مرزا، سابق وزیر مہاراشٹر انیس احمد، تاج باغ ٹرسٹ ناگپور کے چیئرمین پیارے خاں، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن حیدرآباد کے ڈائرکٹر ڈاکٹر احمد منہاج الدین کے علاوہ ڈاکٹر عزیز خان (معروف کارڈ یا لوجسٹ)، پروفیسر ایم اے فاروقی، ڈاکٹر عطاءاللہ شریف، ڈاکٹر محمد عارف چودھری، ڈاکٹر ایس ایم حسین، ڈاکٹر مستان شیخ، پروفیسر خان محمد قیصر خاں، پروفیسر ثاقب حسین، ڈاکٹر ایس ایم یعقوب اور ڈاکٹر ندیم عثمانی نے خطاب کیا۔ ملک بھر سے شرکت کرنے والے اہم ڈاکٹروں میں ڈاکٹر لائق علی خاں، ڈاکٹر عبدالعزیز سولنکی، ڈاکٹر محمد اویس حسن، ڈاکٹر نیاز اعظمی،ڈاکٹر زوہا پٹھان، پروفیسر قاری عبدالقدوس، ڈاکٹر شبیر راجا، ڈاکٹر شبنم تبسم، ڈاکٹر محمد زبیر، ڈاکٹر بشریٰ فصیح، ڈاکٹر محمد سلیمان خاں، ڈاکٹر محمد ارشد غیاث، ڈاکٹر نیاز الدین صدیقی، ڈاکٹر عظیم بیگ، ڈاکٹر حسام الدین طلعت، ڈاکٹر مجیب الرحمن، ڈاکٹر یاسر قریشی، ڈاکٹر نعیم نیازی، ڈاکٹر نازیہ خان، ڈاکٹر افتخار فیصل، ڈاکٹر صفی اللہ بیگ، ڈاکٹر شاہد اختر، ڈاکٹر غلام مرسلین، حکیم رشادالاسلام، اسرار احمد اُجینی، انل چوہان، محمد عمران قنوجی، حکیم آفتاب عالم، حکیم محمد نظیر، ڈاکٹر محمد زبیر میواتی، ڈاکٹر روبینا انصاری، ڈاکٹر شفیق احمد، ڈاکٹر شاہد عالم، ڈاکٹر ماجد انصاری، ڈاکٹر منشا، ڈاکٹر توصیف، ڈاکٹر ناہیدہ، ڈاکٹر حمیرا سیّد، ڈاکٹر شبانہ، ڈاکٹر حمیرا، ڈاکٹر محتشم، ڈاکٹر احتشام علی، ڈاکٹر معز، ڈاکٹر نہال اختر، ڈاکٹر کاشف قاضی، ڈاکٹر شیراز انصاری، ڈاکٹر خالد اختر نیازی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر ایک یادگار سووینیئر کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ تمام شرکاءکا شکریہ ڈاکٹر ایس ایم حسین نے ادا کیا۔












