تہران(ہ س)۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل، اسرائیلی افواج نے تہران پر ایک اور حملے کی لہر شروع کی۔اسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے مغربی ایران میں میزائل لانچنگ پلیٹ فارموں کو نشانہ بنایا ہے۔ادھر ایک سیکیورٹی عہدے دار نے اسرائیلی فوجی ریڈیو کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا، جس میں درجنوں اہداف شامل تھے۔ اس نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے بعض اہم ایرانی شخصیات کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی متعدد کوششیں بھی کیں، اور اب وہ ان حملوں کی کامیابی کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں۔اس عہدے دار کے مطابق، اسرائیلی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے دفاتر، عسکری صنعتوں کی تنصیبات اور جوہری تجربہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس نے بتایا کچھ اہداف وہ تھے جنھیں ہم پہلے بھی نشانہ بنا چکے ہیں، مگر اس بار ہم نے ان پر مزید گہرائی سے حملہ کیا اور نقصان کی شدت بڑھائی۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کی صبح اسرائیلی حملے میں ایران کے معروف جوہری سائنس دان محمد رضا صدیقی صابر کو قتل کر دیا گیا۔ چند دن قبل صدیقی صابر ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تھے، جب ان کے گھر کو ایک ڈرون سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں ان کا 17 سالہ بیٹا مارا گیا تھا۔ یہ بات اْس وقت مقامی میڈیا نے بتائی تھی۔واضح رہے کہ تقریباً دو ماہ قبل امریکی وزارت خزانہ نے صدیقی پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ وہ ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری اور یورینیم کی افزودگی کے نمایاں ماہرین میں شمار کیے جاتے تھے، اور ان پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔اسرائیلی خفیہ اداروں نے گزشتہ 12 دن کی اس غیر معمولی جنگ کے دوران ایرانی فوجی قیادت اور جوہری سائنس دانوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، 13 جون سے جاری اس مہم میں اسرائیل نے مختلف طریقوں سے فضائی حملوں، ڈرون حملوں اور بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ذریعے … ایران کے تقریباً 17 سرکردہ جوہری ماہرین کو قتل کیا۔اسی طرح، اسرائیل نے درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں ایرانی چیف آف اسٹاف محمد باقری، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی، اور خاتم الانبیاء فوجی ہیڈکوارٹر کے چند روز قبل تعینات ہونے والے سربراہ علی شادمانی شامل ہیں۔گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے اب تک تقریباً 30 اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈروں کو ہلاک کر دیا ہے۔












