واشنگٹن(ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو "بہت بھیانک اور ذلت آمیز موت” سے بچایا اور ساتھ ہی اسرائیل کو ایران پر "اب تک کے سب سے بڑے حملے” سے روک دیا۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھاکہ "میں نے علی خامنہ ای کو انتہائی ذلت آمیز انجام سے بچایا۔ انہیں کہنا چاہیے تھا: شکریہ صدر ٹرمپ!”انہوں نے خامنہ ای کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے لکھاکہ "یہ کیسا رہنما ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جیت لی، جب کہ وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے؟ ایک مذہبی رہنما کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ کے آخری مرحلے میں اسرائیل نے ایک بڑی فضائی کارروائی کے لیے طیارے روانہ کیے تھے جو براہِ راست تہران جا رہے تھے، لیکن ان کی درخواست پر انہیں واپس بلا لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حملہ ہوتا تو تباہی کا بہت بڑا خدشہ تھا، اور ہزاروں ایرانی مارے جا سکتے تھے۔ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے ٹرمپ نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں وہ ان پابندیوں میں نرمی کی کوشش کر رہے تھے تاکہ ایران کو معاشی بہتری کا موقع دیا جا سکے، لیکن ایرانی قیادت کے جارحانہ بیانات کے بعد انہوں نے یہ کوششیں روک دیں۔ٹرمپ نے کہاکہ "ایران کو عالمی نظام کا حصہ بننا ہوگا، ورنہ ان کے حالات مزید خراب ہوں گے۔ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی جاری رکھی تو وہ دوبارہ حملے پر غور کریں گے۔ٹرمپ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی یا کسی بھی معتبر ادارے کو ایران میں مکمل تفتیش کے اختیارات دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ادھر امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے سی این این اور نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کو "جعلی خبریں پھیلانے” کا الزام دیتے ہوئے فوراً برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بمبار طیاروں اور میزائلوں کے ذریعے ایران کے تین جوہری مقامات پر حملے کیے گئے، جنہیں انہوں نے "عسکری کامیابی” قرار دیا۔پینٹاگون کے مطابق، ان حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم یا معطل کرنا تھا۔












