واشنگٹن(ہ س)۔میکسر ٹیکنالوجیز کی سیٹلائٹ تصاویر میں ایران میں فردو جوہری تنصیب پر بھاری تعمیراتی مشینری کو دکھایا گیا ہے۔29 جون کو سامنے آنے والی تصاویر میں اس مقام پر کھدائی کرنے والی ایک مشین اور کرین کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصاویر میں بلڈوزر اور کرین کو سائٹ تک ایک نئی تعمیر شدہ رسائی سڑک کے اوپر دکھایا گیا ہے۔واضح رہے کہ یہ وہی ایرانی جوہری تنصیب ہے کہ جسے امریکہ کی جانب سے بنکر بسٹنگ بموں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ تعمیراتی مشینری سائٹ کے داخلی دروازے اور کمپلیکس کے مشرقی حصے میں ایک تباہ شدہ عمارت پر کام کرتی دکھائی دے رہی ہے، جسے امریکی حملوں کے ایک دن بعد اسرائیلی فضائی حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔جوہری ہتھیاروں کے ماہر ڈیوڈ البرائٹ، جنھوں نے 28 جون کو لی گئی اسی جگہ کی تصاویر کا تجزیہ کیا تھا کہتے ہیں کہ تعمیراتی کام میں گڑھوں کو دوبارہ بھرنا، نقصانات کا تخمینہ لگانا اور ریڈیولاجیکل سیمپلنگ شامل ہوسکتے ہیں۔امریکی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے ایران کی جوہری افزودگی کی اہم تنصیبات کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ’سنگین‘ ہے لیکن تفصیلات واضح نہیں ہیں، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اصرار ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام طے شدہ وقت سے ’دہائیوں‘ پیچھے ہے۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جمعے کے روز کہا کہ ایران چند ماہ میں یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔22 جون کو بنائی گئی ہائی ریزولوشن تصاویر میں چھ نئے گڑھے دیکھے جا سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی بموں کا داخلی پوائنٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرمئی دھول اور پہاڑ کے ساتھ ملبے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔میکنزی انٹیلیجنس سروسز میں سینیئر امیجری اینالسٹ سٹو رے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ‘آپ کو داخلی راستے پر بڑے دھماکے کے آثار نہیں دکھائی دیں گے کیونکہ یہ داخلی پوائنٹ پر پھٹنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا بلکہ تنصیب میں گہرائی میں جا کر پھٹتا ہے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر دو مختلف داخلی پوائنٹس پر تین مرتبہ بم گرائے گئے اور زمین پر موجود سرمئی دھول کنکریٹ کا ملبہ دکھائی دیتی ہے جو دھماکے کے باعث بکھرا ہوا ہے۔رے کا مزید کہنا ہے کہ سرنگ کا داخلی راستہ بظاہر بند کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کے قریب بظاہر کوئی ظاہری گڑھا موجود نہیں ہے، رے سمجھتے ہیں کہ یہ شاید ایران کی جانب سے کسی بھی فضائی بمباری سے بچنے کے لیے کیا گیا ہو۔تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان حملوں سے جوہری تنصیب کو کتنا نقصان ہوا ہے۔












