تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ سے تمام فلسطینیوں کو علاقے کے جنوب میں واقع ایک کیمپ میں منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کریں۔اسرائیل کاٹز نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ رفح شہر کے کھنڈرات پر ایک ’انسانی ہمدردی کا شہر‘ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ابتدائی طور پر تقریباً چھ لاکھ فلسطینی اور پھر 21 لاکھ آبادی رہائش پذیر ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد سکیورٹی سکریننگ کے بعد لوگوں کو اندر لانا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ حماس کے کارکن نہیں ہیں اور انھیں وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو 60 روزہ جنگ بندی کے دوران تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا جس پر اسرائیل اور حماس مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کے ایک اسرائیلی اہلکار اور وکیل نے اس اسرائیلی اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انسانیت کے خلاف ایک جرم‘ قرار دیا ہے۔مائیکل سفرڈ نے گارڈین اخبار کو بتایا کہ ’یہ غزہ کی پٹی کے جنوبی سرے پر آبادی کی منتقلی کے بارے میں ہے تاکہ پٹی سے باہر جلاوطنی کے لیے حالات سازگار کیے جا سکیں۔‘اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی متنبہ کیا تھا کہ مقبوضہ علاقے کی شہری آبادی کی ملک بدری یا جبری منتقلی بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت سختی سے ممنوع ہے اور ’نسل کْشی کے مترادف‘ ہے۔تاہم فلسطینی اتھارٹی یا حماس کی جانب سے ابتک اس پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔












