نئی دہلی،کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کو توقع سے زیادہ کامیاب بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس یاتراکے ذریعے وہ ملک کوجوڑنے اور نفرت و تشدد کے ماحول کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور انہیں لگتا ہے اس مقصد پر وہ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ہفتہ کو یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران منعقد 9ویں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ اس یاترا سے انہوں نے بہت کچھ نیا سیکھا ہے ۔ یاترا کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ان پر جو تنقید کی ہے اس نے بھی انہیں سبق سکھایا ہے اور اس سے ان کی بنیادی سوچ کو تقویت ملی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس یاترا کے ذریعے وہ ہم وطنوں کو زندگی کا ایک نیا طریقہ دینا چاہتے ہیں، لیکن یہ طریقہ لوگوں تک نہ پہنچے اس لئے بی جے پی اور آر ایس ایس انہیں بدنام کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچائی کے راستے پر چل رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کوئی بھی پروپیگنڈہ سچائی کو چھپا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک انہیں بدنام کرنے کی مہم پر تقریباً 5000 کروڑ خرچ ہو چکے ہوں گے ، لیکن اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے اور اگر اس کام پرمزید خرچ کریں گے تب بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے ۔اپوزیشن لیڈروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پورا اپوزیشن ایک ساتھ کھڑا ہے اور وہ ان تمام لوگوں کا خیر مقدم کریں گے جو بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ جو لوگ ہندوستان کو متحد کرنے کی بات نہیں کرتے ، نفرت اور تشدد پھیلانے میں یقین رکھتے ہیں، وہ لوگ یاترا میں ان کے ساتھ نہیں چل سکتے ۔سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی کے ساتھ اپنے نظریاتی تعلق کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب ملک میں تشدد اور نفرت کے ماحول کے خلاف ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ ایس پی کی سوچ کانگریس کی طرح قومی سطح کی نہیں ہے ۔ ان کا آئیڈیا کیرالہ، تمل ناڈو، بہار یا دیگر ریاستوں میں کام نہیں کرے گا لیکن ان کا آئیڈیا اتر پردیش میں کام کر رہا ہے لہذا قومی سطح پر بی جے پی سے لڑنے کا واحد آپشن کانگریس اور اس کا نظریہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری، نوٹ بندی، جی ایس ٹی، چین پالیسی وغیرہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیاں ہیں۔سیکورٹی پروٹوکول توڑنے کے نوٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ میں بھارت جوڑو یاترا کر رہا ہوں اور وہ چاہتے ہیں کہ میں بلٹ پروف گاڑی میں سفر کروں، یہ ممکن نہیں ہے لیکن اگر ان کا کوئی لیڈر روڈ شو کے دوران بلٹ پروف گاڑی سے باہر آتا ہے تو وہاں کوئی سیکورٹی پروٹوکول کا مسئلہ نہیں آتا ہے ۔ مطلب، میرے اور ان کے لیڈروں کے لیے دو مختلف پروٹوکول ہیں۔ میں بھارت جوڑو یاترا میں پیدل چل رہا ہوں، تو اس میں بلٹ پروف گاڑی میں جانا ممکن نہیں، اس لیے یہ الزام غلط ہے کہ راہل گاندھی سیکورٹی پروٹوکول توڑ رہے ہیں۔کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں پنشن اسکیم کو لاگو کرنے کے سوال پر مسٹر گاندھی نے کہا کہ جو ریاستیں اسے نافذ کرنا چاہتی ہیں وہ ایسا کرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں کسی کے لیے کوئی مجبوری نہیں ہے ۔ راجستھان نے یہ کام کیا ہے اور اب ہماچل پردیش بھی اسے نافذ کر سکتا ہے ، دوسری ریاستیں بھی کر سکتی ہیں۔جب ان سے اپوزیشن کے اتحاد اور الیکشن جیتنے پر اس کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ زمینی طورپر وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں، اسے دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ماحول سازگار ہے اور اگر اپوزیشن ساتھ چلے گا تو الیکشن جیتنا بہت آسان ہوجائے گا۔ ان کا کہناتھا کہ وہ نفرت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور محبت اور بھائی چارے کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد اس کی حقیقت کو برقرار رکھنا ہے اور ان کی توجہ اسی پرمرکوز ہے اور اسی سوچ کو لے کر انہوں نے بھارت یاترا کا اہتمام کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں نفرت کا ماحول رہے گا تو اس سے بحران پیدا ہوگا، اس لیے ملک میں باہمی ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنا بہت ضروری ہے ۔ اس یاترا سے سوچ میں جو تبدیلی آئی ہے اس کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اس یاترا میں انہیں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو مل رہا ہے ، لیکن اس یاترا کے دوران انہوں نے جو کچھ سیکھا ہے اس سے ان کی بنیادی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ اس یاترا سے ان کی بنیادی سوچ کو مزید تقویت ملی ہے ۔انہوں نے کہا، ”بی جے پی اور کانگریس کبھی متحد نہیں ہو سکتے ۔ اگر دونوں کے ایک ہونے کا امکان ہوتا تو وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کبھی بھی ‘کانگریس مکت’ بھارت کی بات نہ کرتے ۔ بی جے پی کے ساتھ پرانی اور نظریاتی لڑائی ہے ، اس لیے دونوں کبھی متحد نہیں ہو سکتے ۔ پورا ملک ایک نظریے کی گرفت میں ہے اور اسے اپوزیشن کے اتحاد سے بھی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اسے شکست دینے کے لیے ایک مکمل نظریے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے جو پورے ملک میں اپنے نظریے کے ساتھ لڑ رہی ہے ۔امدھیہ پردیش میں اگلے انتخابات میں یقینی طور کانگریس کی حکومت آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں صد فیصد کانگریس آرہی ہے کیونکہ مدھیہ پردیش کے لوگ بی جے پی سے پریشان ہیں اور وہ سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی نے کس طرح لوگوں کو دھوکہ دے کر وہاں اپنی حکومت قائم کی ہے ۔












