تل ابیب:اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے ترجمان ہانی مرزوق کا کہنا ہے کہ حزب اللہ تنظیم اسرائیل کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔انہوں نے اتوار کے روز العربیہ کو بتایا کہ "حزب اللہ دوبارہ سرنگیں بنا رہی ہے اور اپنی عسکری قوت کو بحال کر رہی ہے … وہ اس وقت لبنانی ریاست کو مفلوج کرنے کی کوشش کر رہی ہے”۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے امریکہ کے ذریعے لبنان کو ایک انتباہی پیغام بھیجا ہے، جس میں کہا گیا کہ اگر حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا گیا تو وہ لبنان کی سرزمین پر اپنے حملوں کو وسیع کرے گا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب نے بیروت کو آگاہ کیا ہے کہ "اگر لبنان نے حزب اللہ کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی تو اسرائیل اپنے حملوں میں اضافہ کرے گا”۔ یہ بات اتوار کی صبح اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔مزید یہ کہ اسرائیل نے ان مقامات کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جنھیں ابھی تک امریکی دباؤ کے باعث حملوں سے محفوظ رکھا گیا تھا۔ذرائع نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اسرائیل کا یہ عسکری قدم ویٹی کن کے پوپ کی لبنان ممکنہ آمد کے بعد اٹھایا جا سکتا ہے۔یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ہفتے کے روز اپنی رپورٹ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ نئی جنگ کے خدشات کا ذکر کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے اپنے عزم کو دہرایا اور بار بار ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آئندہ جنگ ہو سکتی ہے؟ ممکن ہے کسی بھی وقت۔ یہ امکان موجود ہے۔ اور جنگ نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے، کیونکہ اسرائیل بھی اپنے آپشنز دیکھ رہا ہے اور امریکہ بھی۔”واضح رہے کہ حزب اللہ 2024 میں اسرائیل کے ساتھ تقریباً ایک سال طویل سرحدی جھڑپوں کے بعد شدید طور پر کمزور ہو گئی تھی۔ اس نے جنوبی لبنان سے "غزہ کے ساتھ یکجہتی” کے نام پر ایک معاون محاذ کھولا تھا۔گذشتہ برس27 نومبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی سے توقع تھی کہ لڑائی رک جائے گی، تاہم اسرائیل نے لبنان کے اندر باقاعدہ حملے جاری رکھے اور دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ تنظیم کے مقامات اور عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ بات فرانس پریس خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔اس دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں 5 تزویراتی مقامات اپنے کنٹرول میں رکھے اور اُن کی تعمیر و مضبوطی کا عمل شروع کر دیا۔امریکی دباؤ اور اسرائیلی حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی منصوبہ بندی پر آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ ایک ایسا قدم جسے حزب اللہ نے کھلے عام مسترد کیا ہے۔تاہم لبنانی فوج نے گذشتہ برس اگست سے اس منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور حزب اللہ کی متعدد سرنگوں کے راستے اور اسلحہ کے ذخائر اپنے قبضے میں لے لیے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور اس کے مطابق حزب اللہ اپنی عسکری صلاحیت دوبارہ بحال کر رہا ہے۔












