• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, جنوری 16, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ناکام حسرت کی داستان

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 15, 2026
0 0
A A
ناکام حسرت کی داستان
Share on FacebookShare on Twitter

اگر معاصر تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ “امید کے سہارے جینے” کی سب سے واضح، مستقل اور دردناک مثال کون سی ہے، تو نگاہ بے اختیار اُن بدنصیب حلقوں پر ٹھہر جاتی ہے جو گزشتہ نصف صدی سے ہر صبح ایک ہی خوش فہمی کے ساتھ آنکھ کھولتے ہیں کہ آج ایران کے اسلامی نظام کا خاتمہ ہو ہی جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی صبح پیش گوئی سے اور شام تاویل سے شروع ہوتی ہے، مگر نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے: حسرت، مایوسی اور نئی تاریخ کے لیے ایک نیا بہانہ۔
ان کا یہ انتظار اب کسی عارضی امید کا نام نہیں رہا، بلکہ ایک مستقل عادت، بلکہ فکری بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ اُس شخص کے انتظار سے بھی زیادہ طویل ہو چکا ہے جو مہینوں عید کے چاند کی تاک میں آسمان کو گھورتا رہتا ہے—فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں انتظار بالآخر ختم ہو جاتا ہے، چاند نظر آ ہی جاتا ہے اور عید مسرت بن کر اترتی ہے؛ مگر یہاں چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود نہ وہ چاند نمودار ہوا، نہ وہ خوشی میسر آئی جس کا شور ہر سال باندھا جاتا ہے۔
یہ نصف صدی صرف وقت کا فاصلہ نہیں، بلکہ ناکام اندازوں، غلط مفروضوں اور ٹوٹتی ہوئی امیدوں کی ایک طویل قطار ہے۔ ہر نئے بحران کو آخری سمجھا گیا، ہر احتجاج کو فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا، اور ہر دباؤ کو انجام کی گھنٹی سمجھ لیا گیا۔ مگر جب بھی گرد بیٹھی، حقیقت وہی نکلی جو پہلے دن تھی: نظام باقی، پیش گوئیاں خاک، اور انتظار مزید طویل۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی کا واحد سہارا اب خود حقیقت نہیں، بلکہ اگلے بحران کی امید ہے۔ ان کے لیے وقت آگے نہیں بڑھتا، صرف تاریخ کے کیلنڈر بدلتے ہیں۔ برس گزرتے جاتے ہیں، صدیاں بننے کو آتی ہیں، مگر وہ “خاتمہ” جس کا شور نصف صدی سے برپا ہے، آج بھی محض ایک ناکام حسرت بن کر ان کی سوچ کے افق پر معلق ہے۔
جب انقلاب کے قائد جلاوطنی سے واپس آئے تو مغربی فکری مراکز نے طنز کے تیر برسائے۔ کہا گیا کہ یہ مذہبی قیادت اقتدار کے تقاضے نبھا نہیں سکے گی، نظام چند ہی ہفتوں میں بکھر جائے گا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ محض قیاس تھا۔ اندرونی بغاوتیں ہوئیں، دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، اعلیٰ ترین قیادت نے جانوں کی قربانیاں دیں، مگر ہر صدمے کے ساتھ قوم کے اعصاب مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔
پھر ایک طویل جنگ مسلط کی گئی۔ خطے کی دولت، عالمی طاقتوں کا اسلحہ اور ہمسایہ ریاستوں کی سرپرستی سب یکجا ہو گئے۔ مقصد واضح تھا: ملک کو توڑ دینا، اس کی جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کر دینا۔ مگر آٹھ برس بعد نتیجہ یہ نکلا کہ سرحدیں وہی رہیں، البتہ وسائل لٹ گئے اور یہ سبق تاریخ میں درج ہو گیا کہ قومیں صرف توپ و تفنگ سے شکست نہیں کھاتیں۔
بعد ازاں ابلاغ کے نئے ذرائع سامنے آئے۔ احتجاجوں کو انقلاب بنا کر پیش کیا گیا، گلیوں کی آواز کو عالمی اسکرینوں پر بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا۔ گمان تھا کہ نظام اندر سے ٹوٹ جائے گا۔ مگر چند ہی ہفتوں میں واضح ہو گیا کہ شور اور حقیقت میں فرق ہے، اور معاشروں کی بنیادیں محض نعروں سے نہیں ہلتی ہیں۔
وقت گزرا، معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا، پابندیاں سخت تر ہوتی گئیں۔ یہ سمجھا گیا کہ روزمرہ کی مشکلات عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کر دیں گی۔ مگر قیادت نے سماجی مطالبات اور دشمن کی سازش میں فرق رکھا۔ جہاں جائز آواز تھی، وہاں اصلاح کی راہ اپنائی گئی، اور جہاں بیرونی مداخلت تھی، وہاں تدبر اور صبر سے اس کا راستہ روکا گیا۔
حالیہ برسوں میں عسکری دباؤ بھی آزمایا گیا۔ بڑے دعوے کیے گئے، فیصلہ کن ضربوں کے اعلان ہوئے، مگر چند ہی دنوں میں حقیقت آشکار ہو گئی۔ جسے آخری وار کہا جا رہا تھا، وہ خود سوال بن کر رہ گیا۔ دعوے ماند پڑ گئے، اور حالات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ نعروں سے تاریخ کا رخ نہیں موڑا جا سکتا۔
پابندیوں کا یہ عالم ہے کہ گویا زندگی کے ہر شعبے کو سانس روکنے پر مجبور کیا جا رہا ہو۔ مگر حیرت یہ ہے کہ جتنا دباؤ بڑھتا ہے، اتنی ہی خود انحصاری کی راہیں کھلتی ہیں۔ مقامی صنعت، سائنسی تحقیق اور دفاعی صلاحیت میں بتدریج اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشکلات ہمیشہ کمزوری پیدا نہیں کرتیں، بعض اوقات وہ صلاحیتوں کو جگا دیتی ہیں۔
یہاں ایک افسوس ناک پہلو بھی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں میں امت کا درد نہیں، بلکہ تعصب کی گرہ بندھی ہوئی ہے۔ وہ کسی مسلمان ہمسائے کی لغزش پر خوش ہوتے ہیں، اور دشمن کے بیانیے کو سچ مان کر اسے اپنی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے دلوں کی دعائیں وزن نہیں رکھتیں، اس لیے کہ اخلاص کے بغیر زبان کی حرکت قبولیت نہیں پاتی۔
اگر دیانت داری سے عالمی سیاست، معیشت اور اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایران کے خلاف رویہ محض اختلاف نہیں تھا، بلکہ ایک ہمہ جہت محاصرہ تھا—معاشی، نفسیاتی، ابلاغی اور سائنسی۔ اس شدت اور تسلسل کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے۔ ایسے حالات میں محض باقی رہ جانا ہی غیر معمولی بات ہے، اور آگے بڑھنا اس سے بھی بڑا ثبوت۔
اس استقامت کے پیچھے چند بنیادی فکری ستون ہیں:
خدا پر کامل بھروسا، قربانی اور مزاحمت کی اخلاقیات، اور مستقبل کے لیے بیدار انتظار۔ یہ انتظار جمود نہیں، حرکت ہے؛ مایوسی نہیں، ذمہ داری ہے۔ یہی فکر خوف کو نظم میں بدل دیتی ہے اور کمزوری کو طاقت میں۔
وہ طاقتیں جو قوت کو صرف دولت اور ٹیکنالوجی میں ناپتی ہیں، اس حقیقت کو سمجھنے میں بار بار ناکام رہیں۔ وہ روحانی رشتے کو توڑنا چاہتی ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جس نور کی حفاظت خود خدا کے ذمے ہو، اسے انسانی تدبیریں بجھا نہیں سکتیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون ہر احتجاج کو انجام سمجھ لیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون ہر آزمائش کو حکمت، صبر اور اخلاق میں ڈھالتا ہے۔ وقت گزرتا رہے گا، دعوے بدلتے رہیں گے، مگر تاریخ اپنے فیصلے شواہد کی بنیاد پر لکھتی ہے—اور شواہد یہی کہتے ہیں کہ یہ کہانی محض انتظار کی نہیں، بلکہ ثابت قدمی کی داستان ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    جنوری 16, 2026
    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    جنوری 16, 2026
    انڈیا اوپن: بیڈمنٹن کورٹ سے ہندوستان کے لیے مایوس کن خبریں، ایچ ایس پرنئے اور کدامبی سری کانت باہر

    انڈیا اوپن: بیڈمنٹن کورٹ سے ہندوستان کے لیے مایوس کن خبریں، ایچ ایس پرنئے اور کدامبی سری کانت باہر

    جنوری 16, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا: مارکس اسٹوئنس انجری کے باعث میدان سے باہر

    ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا: مارکس اسٹوئنس انجری کے باعث میدان سے باہر

    جنوری 16, 2026
    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    جنوری 16, 2026
    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    جنوری 16, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist