چنڈی گڑھ،(یو این آئی) وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا ہے کہ ہریانہ حکومت کے بجٹ 27-2026 میں کسان ہی بنیادی توجہ کا مرکز ہوں گے اور زراعت و اس سے منسلک شعبوں کو اعلیٰ ترین ترجیح دی جائے گی۔مسٹر سینی نے یہ بات چودھری چرن سنگھ ہریانہ زرعی یونیورسٹی، حصار میں منعقدہ قبل از بجٹ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں زرعی سائنسدانوں، ترقی پسند کسانوں، کسان پروڈیوسر تنظیموں (ایف پی اوز) اور مویشی پروری، باغبانی، ماہی پروری اور دیہی معیشت سے وابستہ فریقین نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کسانوں کی ضروریات اور چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے۔ زراعت ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اصل ہندوستان گاؤوں میں بستا ہے۔ ہریانہ کی شناخت محنتی کسانوں اور مضبوط دیہی معیشت سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے آنے والے بجٹ میں زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کسان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور کھیتی باڑی کی مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 9 جنوری کو منعقدہ قبل از بجٹ مشاورت میں کسانوں اور ماہرین سے 161 تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے 99 اہم تجاویز کو بجٹ 2025-26 میں شامل کیا گیا۔ ان تجاویز کی بنیاد پر نقلی بیجوں پر پابندی کے لیے سخت قوانین، قدرتی کھیتی کو فروغ، آبی تحفظ، فصلوں میں تنوع، منڈیوں کی جدید کاری اور بیج کی جانچ سے متعلق لیبارٹریوں کے قیام جیسے اقدامات کیے گئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زراعت کا مستقبل ٹیکنالوجی اور تحقیق میں مضمر ہے اور سائنسدانوں کو ایسی اختراعات پر کام کرنا چاہیے جن سے لاگت کم ہو اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سال 26-2025میں زراعت اور اس سے منسلک محکموں کے لیے 9,296.68 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ۔انہوں نے کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ اگلے آٹھ تا دس دن کے اندر سرکاری چیٹ بوٹ کے ذریعے اپنی تجاویز پیش کریں، اور کہا کہ جن کی تجاویز بجٹ 27-2026 میں شامل کی جائیں گی، انہیں اسمبلی میں مدعو کیا جائے گا۔












