نئی دہلی، (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پریکشا پہ چرچا (پی پی سی) 2026 کے دوسرے ایپی سوڈ میں کوئمبٹور، رائے پور، دیوموگرا اور گوہاٹی سمیت مختلف علاقوں کے طلبہ سے بات چیت کی۔ وزیرِ اعظم نے امتحانات کے دباؤ کو کم کرنے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے اس مکالماتی پروگرام کو جاری رکھا۔ اس سال پی پی سی کا خصوصی ایڈیشن ہندوستان کے کئی مقامات تک پھیلا ہوا تھا جو ملک کے وسیع تنوع اور جذباتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔وزیرِ اعظم نے کوئمبٹور میں سیشن کا آغاز کرتے ہوئے طلبہ کا ونکّم کہہ کر پُرتپاک استقبال کیا اور تعلیم کو جذبے اور تخلیقی صلاحیت سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پڑھائی کی تھکن اور ذہنی دباؤ دور کرنے کے لیے طلبہ کو فنونِ لطیفہ کے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ پڑھائی اور فن کو الگ الگ مت دیکھو۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ صنعت کے ماہرین سے رابطہ کریں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ حقیقی دنیا میں کام کس طرح ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کم عمری سے ہی اسٹارٹ اپس اور اختراعات کو تلاش کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے وکست بھارت2047کے موضوع پر کہا کہ ہر شہری کے چھوٹے چھوٹے اقدامات ہی قوم کی پیش رفت کی بنیاد بنتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نظم و ضبط ہی ترقی کی کنجی ہے۔ انہوں نے دیسی مصنوعات کی حمایت کرتے ہوئے طلبہ سے ووکل فار لوکل کو فروغ دینے کی بھی اپیل کی۔مسٹر مودی نے کہا کہ ظم و ضبط ہی اصل کنجی ہے، حوصلہ افزائی صرف اس میں اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسلسل کوشش کے بغیر صرف ترغیب ، ناکافی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی غلامی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک طاقتور استاد کے طور پر اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیکھنے اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ تعلیم اور ذاتی دلچسپیوں کے درمیان توازن سے متعلق خدشات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے طلبہ کو یقین دلایا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ شوق اور کھیل کے لیے باقاعدگی سے وقت نکالا جائے، کیونکہ یہ توازن برقرار رکھنے اور لچک پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنانا بے حد ضروری ہے ۔وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اور جسمانی طور پر مضبوط ہونا ہمہ جہت ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ انہوں نے عملی مطالعہ کی تکنیکوں کی بھی سفارش کی، جیسے صرف پڑھنے کے بجائے لکھ کر مشق کرنا اور اُن ساتھیوں کی مدد کرنا جو پڑھائی میں دشواری محسوس کر رہے ہوں، تاکہ سیکھنے کا عمل مزید مضبوط ہو سکے۔












