ناظم بیگ
بلند شہر ،سماج نیوز سروس: بلند شہر میں اتر پردیش پرائمری ٹیچرس ایسوسی ایشن نے ٹیچر س کی بھرتی اور ٹی ای ٹی امتحان سے متعلق رکن پارلیمنٹ جینت چودھری کے بیان پر سخت اعتراض کیاہے۔ ٹیچرس فیڈریشن آف انڈیا کے قومی صدر کے کہنے پر ضلع صدر سشیل کمار شرما کی قیادت میں بدھ کوبلند شہر کے کالا آم چوراہے پر اساتذہ نے رکن پارلیمنٹ جینت چودہری کا پتلا نذر آتش کیا۔ ضلع صدر سشیل کمار شرما نے کہا کہ اساتذہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے دوران مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے واضح کیا تھا کہ کوئی بھی استاد اپنی ملازمت نہیں کھوئے گا۔ انہوں نے یقین دلایا تھاکہ حکومت اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ اس کے باوجود پارلیمنٹ میں رکن پارلیمنٹ کا بیان مبہم اور اساتذہ کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔شرما نے مزید کہا کہ ملک میں تقریباً 20 لاکھ اساتذہ ہیں جنھوں نے ضابطوں کے مطابق مطلوبہ قابلیت حاصل کی ہے۔ اب 20-25 سال کی سروس کے بعد انہیں دوبارہ امتحان دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ ایسوسی ایشن نے سوال کیا کہ 50-55 سال کی عمر کے اساتذہ کو دوبارہ امتحان دینے پر مجبور کرنا ان کے وقار اور خدمت کے احساس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ٹیچر لیڈران نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکمراں پارٹی اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے پارلیمنٹ میں مسئلہ اٹھانے کے باوجود حکومت کا یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اساتذہ کے مفادات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ہے۔ یونین نے خبردار کیا کہ اگر اساتذہ کے مسائل جلد حل نہ کیے گئے تو تحریک میں شدت لائی جائے گی۔ اس احتجاج میں ضلع سکریٹربابو سنگھ، ضلع خزانچی سوربھ شرما، سینئر نائب صدر راجکمار سنگھ، جوائنٹ سکریٹری نریندر ناگر اور ضلع میڈیا انچارج تیج پرکاش شرما سمیت اساتذہ اور اساتذہ یونین کے عہدیداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔












